*بچوں کی بڑھتی ہوئی عمر اور نوکری کا بھوت ایک سماجی المیہ اور اسلامی سوال*

وقت خاموشی سے گزرتا ہے، مگر اس کے چھوڑے ہوئے سوال بہت شور مچاتے ہیں، کل تک جو بچے گود میں تھے آج ان کی بڑھتی ہوئی عمر والدین کی آنکھوں میں فکر اور دل میں اضطراب بن کر اتر آئی ہے،تعلیم مکمل ہوتے ہی معاشرہ ایک ہی سوال دہراتا ہے، نوکری لگی یا نہیں؟ اور جب عمر کے ساتھ شادی کی بات زبان پر آتی ہے تو فوراً فیصلہ سنا دیا جاتا ہے پہلے نوکری، شادی بعد میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے گھروں میں شادی اب دین کی سنت نہیں رہی بلکہ نوکری کی محتاج بن گئی ہے یہی وہ نوکری کا بھوت ہے جو آج ہمارے معاشرے کے ذہن پر سوار ہو چکا ہے، جو بچوں کی عمر، جذبات اور مستقبل سب کو ایک ہی ترازو میں تولتا ہے۔

جوں جوں بچوں کی عمر بڑھتی ہے، سوال بڑھتے جاتے ہیں، دباؤ بڑھتا جاتا ہے اور صبر کم ہوتا جاتا ہے، نوجوان پڑھا لکھا، سمجھ دار اور بااخلاق ہوتا ہے، مگر صرف اس لیے رشتوں سے محروم رہ جاتا ہے کہ ابھی نوکری پکی نہیں،رشتے آتے ہیں، بات چلتی ہے، پھر ایک ہی جملہ سب کچھ ختم کر دیتا ہے،ابھی سیٹل نہیں ہے یوں سال گزرتے جاتے ہیں، عمر آگے بڑھتی جاتی ہے، اور نوجوان صرف انتظار کی فہرست میں ڈال دیا جاتا ہے۔

یہاں معاشرہ دوہرا کردار ادا کرتا ہے ایک طرف عمر بڑھنے پر سرگوشیاں، طنز اور سوال، دوسری طرف شادی کے وقت سب سے بڑی رکاوٹ خود یہی معاشرہ کہا جاتا ہے نوکری کے بغیر ذمہ داری کیسے نبھائے گا؟ سوال یہ ہے کہ آخر ذمہ داری آتی کہاں سے ہے؟ کیا ذمہ داری صرف نوکری سے پیدا ہوتی ہے یا ذمہ داری دی جائے تو انسان خود ذمہ دار بنتا ہے؟ ہم نے نوجوانوں کو نہ مکمل آزاد چھوڑا، نہ مکمل ذمہ دار بنایا نتیجہ یہ نکلا کہ ذہنی دباؤ، احساسِ کمتری اور بسا اوقات گناہوں کے دروازے کھل جاتے ہیں،اور الزام بھی آخرکار اسی نوجوان پر آتا ہے۔

والدین کی نیت یقیناً خیر کی ہوتی ہے،وہ بچوں کا مستقبل محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں، مگر نیت کے ساتھ بصیرت بھی ضروری ہے،جب بار بار یہ کہا جائے کہ پہلے نوکری، پھر شادی تو لاشعوری طور پر یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ تم اس وقت تک زندگی کے کسی بڑے فیصلے کے اہل نہیں جب تک کمائی کا ذریعہ نہ بن جاؤ یہ سوچ نوجوان کے اعتماد کو کھوکھلا کر دیتی ہے، اسے اپنی ذات پر بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے، اور والدین و اولاد کے درمیان ایک خاموش فاصلے کو جنم دیتی ہے،اور پھر وہی بچے ہر موڑ پر کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ہمارے والد صاحب ہماری شادی بھی نہیں ہونے دے رہے ہیں۔

یہاں ایک بنیادی اور سنجیدہ سوال کھڑا ہوتا ہے،کیا یہ طرزِ فکر اسلامی بھی ہے؟ اسلام رزق کو نوکری سے نہیں بلکہ اللہ کی ذات سے جوڑتا ہے قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ زمین میں چلنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ ہے نبی کریم ﷺ نے نکاح کو فقر کا سبب نہیں بلکہ برکت اور آسانی کا ذریعہ قرار دیا آپ ﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے *اے نوجوانو تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو وہ نکاح کرے* اور ایک دوسری روایت کا مفہوم ہے *اگر تم مالدار ہونا چاہتے ہو تو نکاح کرو*

اب سوال پیدا ہوتا ہے اگر شادی غربت بڑھاتی ہے تو نبی کریم ﷺ نے اس کی ترغیب کیوں دی؟اگر رزق صرف نوکری کے بعد ملتا ہے تو پھر نکاح میں غنا اور برکت کی بشارت کا کیا مطلب؟ کیا ہم حدیث کو نہیں سمجھ پا رہے یا اپنے خوف کو دین پر فوقیت دے رہے ہیں؟ اسلام ہمیں توکل سکھاتا ہے، یہ یقین دلاتا ہے کہ حلال رشتے فقر نہیں، سکون اور برکت لاتے ہیں۔

اصل مسئلہ نوکری نہیں، اصل مسئلہ اعتماد کا فقدان ہے اللہ پر اعتماد، اپنی تربیت پر اعتماد اور اپنی اولاد کے کردار پر اعتماد ہم نے تنخواہ کو معیار بنا لیا، کردار کو نہیں ہم نے معاشی ضمانت کو سب کچھ سمجھ لیا اور دینی بصیرت کو پس پشت ڈال دیا شادی میں تاخیر کو حکمت کا نام دیا، مگر اس تاخیر کے نقصانات پر غور نہیں کیا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس نوکری کے بھوت کو عقل، ایمان اور توازن سے قابو میں کریں،نوکری کی کوشش ضروری ہے، مگر نکاح کو یرغمال بنانا دانش مندی نہیں شادی کو صرف معاشی معاہدہ نہیں بلکہ دینی، اخلاقی اور فطری ضرورت سمجھا جائے ورنہ کل یہی معاشرہ سوال کرے گا کہ بے راہ روی کیوں بڑھی، سکون کیوں ختم ہوا، اور رشتوں میں تلخی کیوں آ گئی اور شاید اس وقت ہمارے پاس کوئی جواب نہ ہو، سوائے خاموشی کے۔

اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ شادی میں تاخیر کی بنا پر بہت سے لڑکے جنسی بیماری کے شکار اور بہت سی لڑکیاں جنسی تعلقات کی پیروکار، اور معاشرے کو اس قدر گھٹیا لیول پر پہنچا دیا کہ اب کسی نو سالہ بچی سے خیر خبر لیتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم مجرم قرار دے دیے جائیں اور معاشرے میں ہمیں نشانہ بنا لیا جائے،حالت اس قدر بدتر کہ محسوس ہوتا ہے ہم مسلمانوں کے درمیان میں نہیں بلکہ کسی اور دھرم کے لوگوں کے درمیان میں رہ رہے ہوں،اور خود غرضی اور انا پسندی اس قدر کے کے لوگ اپنے بچوں کو پوری کائنات سے ماوراء سمجھتے ہیں کیوں بھائی آپکے بچے کیا کسی انڈے سے نکلے ہیں جنہیں معاشرے کا پتا نہیں آپ کیا کسی اور دنیا میں رہتے ہو جہاں کہ عیاشیوں کا اڈا(Oyo) موجود نا ہو،بھائی میں آپکے بچے کو غلط نہیں کہہ رہا لیکن لمحہ فکریہ تو ہے ہی نا آپ دیکھیے گا کبھی عیاش خانہ اور وہاں کا رویہ عمل آپکو وہ مل جائے گی جسکی کبھی آپنے صورت تک نا دیکھی ہوگی،یہ تمام چیزیں پیش کیوں آئیں صرف نکاح میں تاخیر کی وجہ سے نوکری اور ڈپٹی کمشنر بنانے کی وجہ سے، اور جو لڑکیاں ایم بی بی ایس(MBBS) کی یا کسی اور پلاٹ فارم کی تیاری کر رہیں ہیں انہیں تو گھر والے یہ سمجھتے ہیں جیسے یہ کوئی فرشتہ ہوں خدارا میں قائل نہیں کہ سب ایسی ہوں لیکن اکثر کو میں دیکھا ہوں، جو لیب ہوسپیٹل میں کام کرتی ہیں وہ کام کم اور عیاشی زیادہ کرتی ہیں اگر آپکو یقین نہیں تو اپ جائیں کسی ایسے ہوسپیٹل میں جہاں ایم بی بی ایس کے طلبہ ہوں اور انکا رویہ عمل دیکھیں آپ ڈاکٹری سیکھ رہیں ہیں اچھی بات ہے سیکھو آپ سے بھی اللہ دین کا کام لے گا انشاءاللہ العزیز لیکن اپنی عزتوں کو پامال کرنے سے روکو ورنہ آپ کدھر کی نا رہو گی،اللہ کریم سمجھنے کی توفیق بخشے۔

*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*