فکر و فہم کی روشنی میں ایک دن 

✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی 

زندگی کے سفر میں بعض دن ایسے آتے ہیں جو صرف تاریخ کا حصہ نہیں بنتے، بلکہ دل و دماغ پر ایک دائمی نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے ہی دنوں کو ہم فکر و فہم کی روشنی میں ایک دن کہہ سکتے ہیں، جب انسان محض جینے کا طریقہ نہیں سیکھتا، بلکہ سوچنے اور سمجھنے کا سلیقہ بھی سیکھ لیتا ہے۔

فکر وہ روشنی ہے جو دل کو اجالا عطا کرتی ہے، اور فہم وہ شعور ہے جو انسان کو اندھیرے میں بھی صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ اگر انسان کے پاس علم ہو، مگر فکر نہ ہو، تو وہ علم بے جان ہو جاتا ہے۔ اور اگر فہم نہ ہو، تو وہ علم بگاڑ کا سبب بن جاتا ہے۔ لہٰذا، جب علم، فکر اور فہم ایک جگہ جمع ہو جائیں، تو وہ دن انسان کی زندگی کا نقطۂ انقلاب بن جاتا ہے۔

ایسا دن، جب ہم اپنے دل میں سوالات کو جگہ دیتے ہیں، اور ان کے جوابات کے لیے کتابوں، اساتذہ اور تجربات کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو وہ دن محض ایک تاریخ نہیں ہوتا، وہ ایک نئی شروعات ہوتا ہے۔ جب کوئی دل کسی بات پر غور کرتا ہے، اور کوئی دماغ کسی مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کرتا ہے، تو اس لمحے فکر پیدا ہوتی ہے۔ اور جب وہ فکر علم سے ٹکرا کر بصیرت میں بدلتی ہے، تو فہم کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔

آج کا دن اگر ہم نے غور و فکر میں گزارا، اور اپنے اندر علم کی روشنی کو محسوس کیا، تو سمجھ لیجیے ہم نے ایک قیمتی دن کو جیت لیا۔ کیونکہ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو سوچنے کا ہنر جانتی ہیں، جو سوال کرتی ہیں، جو تحقیق کرتی ہیں، اور جو اپنی ہر صبح کو علم کے ساتھ روشن کرتی ہیں۔

فکر و فہم کا یہ ایک دن، ہمیں یہ سکھا سکتا ہے کہ ہم محض مقلد نہ بنیں، بلکہ صاحبِ بصیرت بنیں؛ ہم محض باتیں نہ دہرائیں، بلکہ باتوں کی گہرائی کو سمجھیں؛ ہم محض سننے والے نہ ہوں، بلکہ سن کر سیکھنے والے بنیں۔

آخر میں، میں یہی کہوں گا کہ:

 ایک دن جو فکر میں ڈوبا ہو، وہ برسوں کی بے سُود زندگی سے بہتر ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں علم کے ساتھ ساتھ فکر کی روشنی اور فہم کی دولت بھی عطا فرمائے۔ آمین۔