تحریر:سیدخلیل احمد 

آج اپنےرب کے حضور حاضر ہوگئے
🥲
پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ رحمۃاللہ علیہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

عصرِ حاضر کے اُن ممتاز روحانی اکابرین میں
 شمار ہوتے تھے جنہوں نے دینِ اسلام کی خدمت کو محض وعظ و نصیحت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اصلاحِ باطن اور عملی تربیت کے ذریعے ایک فکری و اخلاقی تحریک کی صورت دی۔ 
آج اُن کی وفات کی خبر نے اہلِ دل اور اُن سے فیض پانے والوں کو گہرے رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے۔

مرحوم سلسلۂ نقشبندیہ کے معروف شیخ تھے۔ 

اُن کی دعوت کا بنیادی محور تزکیۂ نفس، اتباعِ 

سنتِ نبوی ﷺ اور معاشرتی کردار سازی تھا مادّیت اور فکری انتشار کے اس دور میں اُن کا پیغام اعتدال، سادگی اور اخلاص پر مبنی تھا۔ اُن کا اسلوب نہ تصادم پر یقین رکھتا تھا اور نہ شہرت کا خواہاں تھا، بلکہ خاموش محنت، خود احتسابی اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق کی تلقین اُن کی پہچان تھی۔

خصوصاً نوجوان نسل کی اخلاقی و روحانی تربیت میں اُن کی خدمات قابلِ ذکر رہیں۔ اُن کی اصلاحی مجالس اور تربیتی سرگرمیوں کے اثرات پاکستان کے مختلف شہروں، بالخصوص اسلام آباد، اور بیرونِ ملک بھی محسوس کیے گئے۔ ہزاروں افراد نے اُن کی صحبت سے اپنی زندگیوں کو شریعت اور سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔

پیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ کی وفات بلاشبہ ایک روحانی خلا ہے، تاہم اُن کی تعلیمات، تربیت یافتہ افراد اور اصلاحی فکر اُن کے لیے صدقۂ جاریہ بنی رہے گی۔ 
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین و عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل دے۔
🤲 آمین