صلاحیت اور اختیار — ایک لازمی ہم آہنگی

✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی 

دنیا میں بے شمار لوگ اپنی محنت، تجربے اور علم سے غیر معمولی صلاحیتیں پیدا کر لیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ محض صلاحیت ہونا کامیابی کی ضمانت نہیں دیتا۔ جب تک کسی کو اپنے علم و ہنر کو بروئے کار لانے کا مکمل اختیار نہ ہو، اس کی قابلیت کا چرچا کاغذی حد تک محدود رہتا ہے۔

اگر کسی ماہر کے ہاتھ باندھ دیے جائیں یا اس کے فیصلے کرنے کی آزادی چھین لی جائے، تو اس کا علم و تجربہ ایک قید خانے میں بند خزانے کی مانند ہو جاتا ہےقیمتی ضرور، مگر بے فائدہ۔ یہی وجہ ہے کہ صلاحیت اور اختیار کا رشتہ بالکل جسم اور روح جیسا ہے؛ جسم روح کے بغیر ایک بے جان ڈھانچہ ہے اور روح جسم کے بغیر اپنا ظہور نہیں کر سکتی۔ اسی طرح اختیار کے بغیر صلاحیت اور صلاحیت کے بغیر اختیار، دونوں ادھورے اور بے اثر ہیں۔

اصل ترقی اور اثر انگیزی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کے پاس نہ صرف علم و ہنر ہو بلکہ انہیں استعمال کرنے کی مکمل آزادی بھی حاصل ہو۔ جہاں اختیار اور قابلیت ایک دوسرے کے ہم رکاب ہوں، وہیں حقیقی کامیابی کا سفر شروع ہوتا ہے۔