آہ علم و عرفان کا ایک روشن چراغ بجھ گیا۔
حضرت مولانا پیر فقیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب رحمتہ اللہ علیہ 

سوگوار ✍🏻 محمد عادل ارریاوی 
________________________________

محترم قارئین بہت ہی رنج و الم کرب اور صدمے کے ساتھ یہ اندوہناک خبر دی جاتی ہے کہ محبوب العلماء و الصلحاء حضرت مولانا پیر فقیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ فرما گئے جیسے ہی یہ خبر میرے کانوں میں گونجی ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے دل کے نہاں خانہ پر کاری ضرب لگا دی ہو الفاظ ساتھ چھوڑ گئے سانسیں بوجھل ہو گئیں اور قدموں تلے سے زمین نکل گئی اللہ اکبر یہ وہ لمحہ تھا جب سیمینار کے پُرسکون ماحول میں مولانا خضر مسعودی کشمیری صاحب (شیخ الحدیث دارالعلوم وقف دیوبند) نے جیسے ہی حضرت مولانا پیر فقیر صاحب کے وصال کا اعلان فرمایا دل میں ایسا ضرب اٹھی جسے بیان کرنا ممکن نہیں آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہنے لگے خود کو سنبھالنا ناممکن ہو گیا یہ صدمہ میرے لئے محض خبر نہ تھا بلکہ ایک چراغ کے بجھ جانے کا اعلان تھا اور پھر وہ منظر جب حضرت مولانا سلمان بجنوری صاحب استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند سیمینار کے اسٹیج پر اچانک زارو قطار رونے لگے حاضرین حیرت میں ڈوب گئے کہ آخر کیا ماجرا ہے؟ مگر جیسے ہی حضرت مولانا پیر فقیر صاحب کے انتقال کا اعلان ہوا پورا مجمع سکتہ میں آ گیا ایک ہی آواز ہر طرف گونجنے لگی انا للہ و انا الیہ راجعون
حضرت مولانا پیر فقیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب کوئی عام شخصیت نہ تھے وہ صدیوں میں پیدا ہونے والے علماء میں سے تھے علم عمل اخلاص زہد تقویٰ اور دردِ امت ان کی شخصیت کا حسن تھا وہ بے شمار علمی و روحانی کتابوں کے مصنف تھے جن سے ہم جیسے بے شمار لوگوں نے روشنی پائی رہنمائی حاصل کی اور اپنے دل و دماغ کو جلا بخشی حضرت کی زندگی سراپا دعوت تھی اور ان کا وجود خود ایک درس گاہ ان جیسا عالم مربی اور صاحبِ نسبت شخصیت کا یوں اچانک ہم سے جدا ہو جانا ہمارے لیے ناقابلِ بیان صدمہ ہے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے علم کا ایک درخشاں ستارہ اچانک افق سے غائب ہو گیا ہو آج میرا دل وہ سوال کر رہا ہے اب وہ شفقت بھری دعائیں کون کرے گا؟ وہ نصیحت آمیز جملے کون کہے گا؟ وہ علمی و روحانی سرمایہ کون لٹائے گا؟
ہم اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں عاجزانہ دعا گو ہیں کہ وہ حضرت مولانا پیر فقیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے اعلیٰ علّیین میں بلند درجات نصیب فرمائے ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے ان کے علم و عمل کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے اور امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ 
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔