نوابوں کا شہر حیدراباد۔
از قلم محمد امیر الاسلام
حیدر آباد کل ریاست تلنگانہ کا صدر مقام ہے۔ تلنگانہ ملک کی ۲۹ ویں ریاست ہے۔ اس کا قیام ۲ جون 2014 و حمل میں لایا گیا ہے۔ اس شہر کی بنیاد سلطان محمد علی قطب شاہ نے ۱۵۹۰ء میں رکھی۔ اس کے چیف الخبیر میر مؤمن علی استر آبادی تھے۔ یہ شرموئی ندی کے کنارے بہایا گیا۔ آج کل یہ ندی شہر کے بیچ سے گذرتی ہے۔ شہر کا رقبہ 217 مربع کلو میٹر ہے۔ یہ شہر اپنے وقت سے آج تک دارالحکومت رہا ہے۔ آپنے شہر کی تاریخ اور یہاں کے چاند قابل دید مقامات کے بارے میں جانتے ہیں۔ یمنی حکومت ( جس کا بانی حسن شاہ بھی تھا) اس کی حکومت 1347 ء سے 1510 ء تک رہی۔ اسکے زوال کے بعد دکن میں پانی خود مختار مسلم حکومتیں قائم ہوئیں۔ (1) برید شاہی حکومت جس کا صدر مقام بیدر تھا۔ 2) عماد شاہی حکومت جس کا صدر مقام برار تھا۔ (3) نظام شاہی حکومت جس کا صدر مقام احمد نگر تھا۔ (4) عادل شاہی حکومت جس کا صدر مقام بیجا اور تھا۔ (5) قطب شاہی حکومت جس کا صدر مقام گولکنڈہ تھا۔ ان میں سب سے زیادہ طاقتور قطب شاہی حکومت تھی جو ساحلی آندھر اور رائل سیما تک پھیلی ہوئی تھی اور جو تقریبا 170 سال تک قائم رہی ۔ اس حکومت کے سات بادشاہ مشہور ہوئے ۔ (۱) سلطان قلی قطب شاه بانی قطب شاہی حکومت کا تعلق ہمدان کے ترکمان قبیلہ سے تھا۔ اس نے بہمنی دور میں اپنا رسوخ حاصل کیا اور گولکنڈہ کا صوبیدار مقرر ہوا۔ بھٹی دور کے زوال کے ساتھ ہی اس نے اپنی خودی مختاری کا اعلان کر دیا۔ 1518ء سے 1543ء تک ۲۵ سال حکومت کی ۔ اپنے دور حکومت میں اس نے گولکنڈہ قلعہ کی از سر نو تعمیر کی ۔ قلعہ کے دروازے پر سلطان قطب شاہ کا نام کند و ہے۔ بالا حصار اور قلعہ کی جامع مسجد اس کے دور کی یادگار ہے۔ سلطان قطب شاہ 23 سال گولکنڈہ کا صو بیدار رہا۔ اور 25 برس قطب شاہی سلطنت کے بانی اور پہلے اشارے پر اس کا قتل کر دیا ۔ بادشاہ کی حیثیت سے گزار کر جب 90 برس میں داخل ہو تو میرمحمود ہمدانی قلعہ دار نے سلطان کے بیٹے جمشید قلی کے (2) جمشید قلی قطب شاہ اس نے 1543 ء سے 1550 ء تک کے سال حکومت کی ۔ (3) ابراہیم قلی قطب شاہ اس نے ۱۵۸۰ تک ۳۰ سال حکومت کی یہ تلگو زبان کا ماہر اور مغل بادشاہ اکبر کا ہمعصر تھا۔ کئی تہذیب و ثقافت کا آغاز ہی کے دور سے ہوا اور اس نے ایک نے شہر کا منصوبہ بنایا۔ محمد قلی قطب شاہ اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر جس نے 1612 ء تک تقریبا ۳۲ سال حکومت کی ۔ اسنے گولکنڈہ کے باہر جنوب مشرق میں ایک نیا شہر بسایا اور حضرت علی کے حیدر کرار کی مناسبت سے اس کا نام حیدر آباد رکھا۔ جس کے بچوں بیچ چار مینار جیسی تاریخی عمارت کی تعمیر کی۔ (5) محمد قطب شاہی محم قلی قطب شاہ کا بھتیجہ اور داماد تھا۔ اس نے 1626 ء تک تقریبا 14 سال حکومت کی ۔ مکہ مسجد اس کی یاد گار ہے۔ (6) عبد الله قطب شاہ یہ سلطان محمد قطب شاہ کا بیٹا تھا۔ جس نے 1672ء تک تقریبا 42 سال حکومت کی۔ (7) ابوالحسن تا نا شاہ یہ عبد اللہ قطب شاہ کا داماد تھا۔ اس نے 1686 ء تک تقریبا 14 سال حکومت کی ۔ 16878ء میں مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے گولکنڈہ کا محاصرہ کیا ۔ 8 ماہ کے صبر آزما معرکہ کے بعد بالاآخر قطب شاہی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ تانا شاہ گرفتار ہو گیا۔ اور دولت آباد مختل کر دیا گیا۔ جہاں تقریبا 14 سال محبوس رو کر انتقال کر گیا۔ اس کا مزار خلد آباد میں ہے۔ قطب شاہی حکمران ایرانی النسل ، مذہب شیعہ اثنا عشری کے پیرو تھے ۔ مرقع عثمانی کے مطابق اس شہر کو حضرت علی کے مشہور لقب حیدر کرار کی مناسبت سے حیدر آباد موسوم کیا گیا ۔ ( تاریخ شہر حیدر آباد ۲ ) ۔ گرچہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں تعلیمی و تہذیبی خوب ترقی کی لیکن شیعی رسوم ورواج کو بھی خوب فروغ دیا۔ عاشورہ محرم سب انہی کی دین ہے۔ اُس دور میں امن و امان اور ہندو مسلم یکجہتی تھی۔ مشہور زمانہ کوہ نور ہیرا سلطان عبد اللہ قطب شاہ کے دور میں 1650ء میں کولور کی کان سے برآمد ہوا۔ قطب شاہی حکومت کے خاتمہ کے بعد یہ مغل خزانے میں چلا گیا۔ مختلف ادوار میں کئی حکمرانوں کے ہاتھوں ہوتے ہوئے بالآخرلارڈ لارنس (LORD LAWRENCE نے 1850 ء میں ملکہ وکٹوریہ کو یہ نایاب ہیرا تحفہ دیدیا۔ آج بھی یہ ہیرا برطانیہ کے شاہی تاج کی زینت بنا ہوا ہے۔ چار مینار محمد قلی قطب شاہ کا ایک اہم کارنامہ شہر حیدر آباد کی تعمیر ہے۔ جس کے بالکل بیچوں بیچ پہلی عالیشان تعمیر چار مینار ہے ۔ جو 1595ء میں مکمل ہوئی ۔ اس کی چاروں جانب چار سمت شاہرا ہیں جاتی ہیں ۔ بنیاد کی کرسی پر چاروں جانب عظیم الشان کما نہیں بنائیں گئیں ۔ جنکا رخ مشرق ، مغرب، شمال و جنوب کو ہے ۔ اور ان کمانوں کے چاروں گوشوں پر چار بلند مینار جکی بلندی 160 فٹ ہے ۔ اسکی آخری منزل تک جانے کیلئے جملہ 146 سیڑھیاں طے کرتا پڑتا ہے۔ یہ عمارت تقریبا 60 فٹ چوڑے مربع (چوکور ) چبوترے پر قائم ہے۔ پہلی منزل پر ہر سمت سات کما نہیں اور ہر کمان کی بلندی 9 فٹ ہے۔ عمارت کی دوسری پہچان ہے۔
{جاری ہے }