تحریر: شفیق الرحمن
اردو نثر کی اقسام: ایک تحقیقی جائزہ
پہلی قسم: نثر مقفّٰی، مختصر تشریح
نثرِ مقفّیٰ ایسی نثر کو کہتے ہیں جس کے جملوں کے آخر میں قافیہ استعمال کیا جائے۔ یعنی نثر ہو مگر اس میں شاعری کی طرح آخر کے الفاظ ہم آواز ہوں۔ اس میں وزن (بحر) ضروری نہیں ہوتا، صرف قافیے کی پابندی کی جاتی ہے۔:مثال
“ہم محنت کریں گے، ترقی پائیں گے، نام روشن کریں گے۔”اس میں جملوں کے آخر میں ہم آواز الفاظ (کریں گے، پائیں گے، کریں گے) قافیے کی صورت بناتے ہیں۔
دوسری قسم :نثرِ عاری : مختصر تشریح:۔
نثرِ عاری ایسی نثر کو کہتے ہیں جس میں کسی بھی قسم کی پابندی نہ ہو—نہ قافیہ، نہ سجع، نہ آہنگ کی کوئی شرط۔ یہ بالکل سادہ، صاف، سیدھی اور بے تکلّف نثر ہوتی ہے۔ اس کا مقصد صرف بات کو واضح اور سادہ انداز میں بیان کرنا ہوتا ہے، خوبیاں اور آرائشیں مقصد نہیں ہوتیں۔
:مثال
"آج موسم خوشگوار ہے۔ میں نے اسکول جانا ہے اور کچھ کام پورے کرنے ہیں۔ بچے کھیل رہے ہیں اور سب لوگ اپنی مصروفیات میں لگے ہوئے ہیں۔"یہ عبارت بالکل سیدھی، سادہ اور بغیر سجع، قافیہ یا کسی آرائشی آہنگ کے ہے۔ یہی نثرِ عاری کہلاتی ہے۔
تیسری قسم :نثرِ مُرجَز: مختصر تشریح:۔
نثرِ مُرجَز ایسی نثر کو کہتے ہیں جس میں رجز (رَجَز) کے آہنگ، بحر یا اُس کی لَے کی جھلک پائی جائے۔ یعنی عبارت نثر ہو، مگر پڑھنے میں ایسے لگے جیسے اس میں ہلکی سی نظم کی موسیقیت یا رجز کی مخصوص دُھُن شامل ہو گئی ہو۔اس میں:
وزن مکمل طور پر شاعری جتنا لازم نہیں ہوتا
مگر جملوں میں رجز کی لَے، تیز ترنم، اور ہلکی مصرُوعیت محسوس ہوتی ہے
مقصد نثر میں خطابتی جوش، روانی اور موسیقیت پیدا کرنا ہوتا ہے
مثال :
"ہم آگے بڑھتے گئے، قدم اُٹھاتے گئے، حوصلہ جُماتے گئے، اور منزل کو پاتے گئے۔"
چوتھی قسم: نثرِ مُسَجَّع مختصر تشریح۔
نثرِ مُسجّع وہ نثر ہے جس میں سجع استعمال ہو، یعنی جملوں یا فقرات کے آخر میں ہم آواز الفاظ آتے ہوں۔ اس میں شاعری کا وزن ضروری نہیں ہوتا، صرف آخر کے الفاظ کی ہم آہنگی نثر کو خوش آوازی اور خوبصورتی عطا کرتی ہے۔مثال:
"انسان کو چاہیے کہ نیکی کرے، بھلائی کرے، اور دلوں میں روشنی کرے۔" یا
"یہ صبح کا سکون ہے، یہ شام کا جنون ہے۔"
ان مثالوں میں آخر کے الفاظ (کرے، کرے، کرے) اور (سکون، جنون) ہم آواز ہیں، جو سجع پیدا کرتے ہیں۔
اردو ادب کا مطالعہ