سورہ کہف کے فضائل احادیث کی روشنی میں
✍🏻 محمد عادل ارریاوی
_________________________________
سورہ کہف کی تلاوت نزول سکینہ کا سبب ہے
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سورہ کہف پڑھ رہا تھا اور اس کے ایک طرف ایک گھوڑا رسیوں سے بندھا ہوا تھا اس شخص پر بادل چھا گیا اور اس کے قریب آنے لگا تو ( گھوڑا بدکنے لگا ) صبح کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تِلْكَ السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ بِالقُرْآن
ترجمہ وہ سکینہ تھی جو تلاوت قرآن کے سبب اتر رہی تھی۔
(صحيح البخارى كتاب فضائل القرآن باب فضل سورة الكهف رقم الحديث ۵۰۱۱)
دجال سے حفاظت کا سبب
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ ترجمہ جو شخص سورہ کہف کی شروع کے دس آیات حفظ کرے تو وہ دجال کے فتنے سے محفوظ کیا جائیگا
(صحيح مسلم كتاب صلاة المسافرين وقصرها باب فضل سورة الكهف وآية الكرسي رقم الحديث ۸۰۹)
سورہ کہف قیامت کے دن نور کا سبب ہوگا
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ كَمَا أُنزِلَتْ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مَقَامِهِ إِلَى مَكَّةَ، وَمَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِهَا ثُمَّ خَرَجَ الدَّجَّالُ لَمْ يُسَلِّطُ عَلَيْهِ
ترجمہ: جو سورہ کہف اس طرح پڑھے جیسا کہ نازل ہوئی ہے تو اسکے لیے قیامت کے دن اس کے مقام سے مکہ تک نور ہوگا اور جو شخص سورہ کہف کی آخری دس آیات پڑھے پھر جب دجال آئے گا تو اس پر مسلط نہ ہوگا ( المستدرك على الصحيحين كتاب فضائل القرآن ج ا ص ۷۵۲ رقم الحديث ۲۰۷۲)
احادیثِ نبویہ کی روشنی میں سورۂ کہف ایک ایسی عظمت والی سورت ہے جس کی تلاوت سے اللہ کی خاص رحمت اور سکینہ نازل ہوتی ہے اس کے شروع یا آخر کی دس آیات حفظ اور تلاوت کرنے سے انسان دجال کے عظیم فتنے سے محفوظ رہتا ہے اور جو شخص پورے اخلاص کے ساتھ سورۂ کہف کی تلاوت کرے قیامت کے دن اس کے لیے ایک روشن نور ہوگا جو اس کے مقام سے مکہ تک روشنی پھیلائے گا۔
یعنی سورۂ کہف دنیا میں سکون فتنوں سے بچاؤ اور آخرت میں نور و کامیابی کا ذریعہ ہے۔