تحریر:شفیق الرحمن
منکرات کی روک تھام میں اہل علم کی ذمہ
داری
اللہ تعالی نے ہر انسا ن کو اس کی وسعت کے بقدر مکلف بنایا ہے، اور وسعت سے زیادہ کا نہ وہ مکلف ہے اور نہ ہی آخرت میں اس پر اس کی گرفت ومواخذہ ہوگا۔معاشرتی برائیوں (ظلم ، زنا، چوری وغیرہ)کی روک تھام اور ان کا خاتمہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، جس میں حکام ،علماء اور عوام کا اپنا اپنا دائرہ کار ہے۔حکام یعنی صاحب اقتدار طبقے کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کے ذریعے ان برائیوں کا سدباب کریں،انہیں طاقت کے ذریعے ان برائیوں کے روکناچاہیے، یہ ان کا فریضہ ہے۔اہل علم کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ وعظ و تبلیغ، یعنی اپنی زبان کے ذریعے ان برائیوں کی شناعت و قباحت بیان کریں اور لوگوں کو ان برائیوں سے روکنے کی کوشش کریں۔اگر اہلِ علم اپنے مواعظ و بیانات میں ان برائیوں کی قباحت بیان کرتے ہیں اور لوگوں کو ان سے روکنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں تو وہ اپنی مسئولیت سے ان شاء اللہ عنداللہ بری ہوں گے۔
تفسیر قرطبی میں ہے:
’’قال العلماء: الامر بالمعروف باليد على الأمراء، وباللسان على العلماء، وبالقلب على الضعفاء، يعني عوام الناس.‘‘۔
(ج:۴،ص:۴۹،ط:دارالکتب ، القاہرہ)