فضول خرچی کی حقیقت اور کفایت شعاری کی اہمیت
 
✍🏻 محمد عادل ارریاوی 
________________________________
محترم قارئین آج ہم سب مہنگائی کا شکوہ کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ ایک حقیقت بھی ہے لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ خود ہمارے اپنے رویّے بھی اس مہنگائی کو مزید بڑھا دیتے ہیں ہم بہت سی جگہوں پر ایسے خرچے کرتے ہیں جن کا نہ کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ضرورت اور پھر آخر میں پریشانی ہمارے ہاتھ لگتی ہے آج کل ہر طرف مہنگائی اور بے روزگاری کا رونا رویا جاتا ہے آئے دن مہنگائی کے خلاف احتجاج کیے جاتے ہیں اور ریلیاں نکالی جاتی ہیں اور میڈیا پر طرح طرح سے شکوے شکایات کیے جاتے ہیں گویا کہ ایک طرح سے ہائے مہنگائی اور ہائے مہنگائی کا وظیفہ پڑھا جاتا ہے اور اس وظیفے میں غریب لوگوں کے علاوہ امیروں اور مال داروں کا بڑا طبقہ بھی شامل ہوتا ہے۔ لیکن اسلام نے اس سلسلے میں جو اہم تعلیم دی ہے اس کی طرف عام طور پر توجہ نہیں کی جاتی جو معاشی مسائل کو بہتر بنانے کے لیے ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسراف فضول خرچیوں اور بے جامال اڑانے سے اجتناب کیا جائے اور کفایت شعاری کے اصول پر عمل پیرا ہوا جائے۔ زندگی میں بے ترتیبی اصل مسئلہ ہے ۔ اللہ ربّ العزت کا ارشاد ہے 
وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَم يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا ۔ ترجمہ ۔اور جو خرچ کرتے ہیں تو نہ وہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ تنگی کرتے ہیں بلکہ اُن کا طریقہ درمیانِ اعتدال کا طریقہ ہے۔ (الفرقان ۶۷) تشریح ۔ یعنی اللہ کے مقبول بندے مال خرچ کرنے کے وقت نہ اسراف اور فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل وکوتا ہی بلکہ دونوں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتے ہیں آیت میں اسراف اور اس کے بالمقابل اعتبار کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔
اسراف کے لغوی معنے حد سے تجاوز کرنے کے ہیں اصطلاح شرع میں حضرت ابن عباس مجاہد قتادہ ابن جریج کے نزدیک اللہ کی معصیت میں خرچ کرنا اسراف ہے اگر چہ ایک پیسہ ہی ہو اور بعض حضرات نے فرمایا جائز اور مباح کاموں میں ضرورت سے زائد خرچ کرنا جو تبذیر یعنی فضول خرچی کی حد میں داخل ہو جائے وہ بھی اسراف کے حکم میں ہے کیونکہ تبذیر یعنی فضول خرچی قرآن میں حرام و معصیت ہے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے إِنَّ الْمُبَيِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيْطِينِ (بنی اسرائیل ۲۷) اس لحاظ سے اس تفسیر کا حاصل بھی حضرت ابن عباس وغیرہ کی مذکورہ تفسیر ہو گیا یعنی معصیت و گناہ میں جو کچھ خرچ کیا جائے وہ اسراف ہے۔ (مظہری)
اور اقتار کے معنے خرچ میں تنگی اور بخل کرنے کے ہیں اصطلاح شرع میں اس کے معنے یہ ہیں کہ جن کاموں میں اللہ و رسول نے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اُن میں خرچ کرنے میں تنگی برتنا ( اور بالکل خرچ نہ کرنا بدرجہ اولی اس میں داخل ہے )۔ یہ تفسیر بھی حضرت ابن عباس قتادہ وغیرہ سے منقول ہے (مظہری) مذکورہ آیت کا خلاصہ یہ ہوا کہ ایمان والوں کی صفات میں سےایک اہم صفت یہ ہے کہ وہ اپنے مال کو افراط و تفریط کا شکار ہوئے بغیر اعتدل کے ساتھ خرچ کرتے ہیں۔
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ قَصْدُهُ فِي مَعِيشَتِهِ یعنی انسان کی دانشمندی کی علامت یہ ہے کہ خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرے ( نہ اسراف میں مبتلا ہو نہ بجل میں ) ۔ (رواه الإمام احمد عن ابی الدرداء ابن كثير )
ایک دوسری حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَا عَالَ مَنِ اقتصد یعنی جو شخص خرچ میں میانہ روی اور اعتدال پر قائم رہتا ہے وہ کبھی فقیر و محتاج نہیں ہوتا ۔ (رواہ الامام احمد ابن كثير ) 
(بحوالہ معارف القرآن جلد ۶ صفحہ ۶۳۰ مفتی شفیع عثمانی)
آج کے دور میں ایک عام آدمی کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ کمانے کے بعد رقم کہاں خرچ ہوئی یہ نہیں جانتا وہ اپنی آمدنی کے مطابق جینے کے بجائے دوسروں کی دیکھا دیکھی چلتا ہے اور سوشل میڈیا نے بھی مقابلے کی آگ کو تیز کر دیا ہے
یہ سب چیزیں مل کر غربت اور دل کی بےچینی کو اور بڑھا دیتی ہیں۔ آج کے دور میں لوگوں نے فضول خرچیوں اور بے جا بلکہ شاہی اخراجات کے بڑے بڑے پھاٹک کھول رکھے ہیں بچہ کی پیدائش سے لے کر شادی بیاہ اور وفات تک بے شمار فضول رسموں میں لوگوں نے اپنے آپ کو گھیر رکھا ہے اور روزمرہ کی فضول خرچیوں کا معاملہ الگ ہے۔
اگر ہم صبح سے شام تک اپنے ہونے والے اخراجات پر انصاف کی نظر ڈالیں گے اور گہرائی سے جائزہ لیں گے تو ہمیں اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے زیادہ دشواری کا سامنا نہیں ہوگا کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں ہونے والے اخراجات میں کمی اور کنٹرول کر کے اپنی معاشی بدحالی کا کافی حد تک ازالہ کر سکتے ہیں کھانے پینے پہنے اوڑھنے برتنے اور استعمال کرنے کی تمام چیزوں کا جائزہ لے کر ہم اپنے اخراجات کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں اور معاشی بدحالی کا رونا رونے سے جان چھڑا سکتے ہیں۔ دکھاوا وہ مرض جو سب کو تنگ کر رہا ہے اصل بات یہ ہے کہ لوگوں کو خوش کرنا ممکن نہیں لیکن خود کو برباد کرنا بہت آسان ہے
آج ہم دیکھتے ہیں کہ غریب سے غریب لوگ بھی چائے وسگریٹ نوشی مختلف قسم کے غیر ضروری بلکہ مضر مشروبات اخبار بینی اور اس جیسی کئی قسم کی چیزوں میں روزانہ کے حساب سے سینکڑوں روپے خرچ کر دیتے ہیں۔ بجلی پانی اور گیس اور پٹرول کا غیر ضروری استعمال کر کے ہر مہینہ ہزاروں روپے کا بل اپنے کھاتے میں جمع کرانے کا بوجھ اپنے اوپر لادتے ہیں۔
بلا وجہ ٹیلی فون اور موبائل وغیرہ کا استعمال کر کے سینکڑوں اور ہزاروں روپوں کے بل بھرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں بچہ کی پیدائش شادی بیاہ اور فوتگی کے عنوان سے کئی رسموں میں ہزاروں نہیں لاکھوں روپے برباد کرتے ہیں صرف نمود و نمائش اور ریا کاری کے طور پر قیمتی و نمائشی لباس اور کپڑوں پر بھاری رقم قربان کر دیتے ہیں۔ اگر ہم بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت کے اصول پر عمل پیرا ہوں اور روزمرہ کی زندگی میں اس کا اہتمام کریں تو یقیناً ہم میں سے ہر ایک شخص سینکڑوں اور ہزاروں روپے کے اخراجات میں کمی کر سکتا ہے۔ 
کفایت شعاری کا مطلب کنجوسی نہیں کفایت شعاری کا مطلب ہے جتنا ضروری ہے اُتنا خرچ کرو جتنا مل گیا ہے اُس پر شکر کرو جو نہیں ہے اُس کی لالچ میں اپنی سکون نہ بیچو یہی وہ اصول ہے جو ہمیں مہنگائی کے دور میں تھام کر رکھ سکتا ہے اپنے دل کو بدلنے کی ضرورت مہنگائی کے دور میں سب سے پہلی تبدیلی سوچ میں لانا ضروری ہے کم میں جینا سیکھو اپنی کمائی کا حساب رکھو لوازمات اور خواہشات میں فرق کرو اپنے مقابلے میں ہمیشہ اُن لوگوں کو دیکھو جن کے پاس کم ہے تب ہی دل مطمئن ہوگا اور زندگی آسان لگے گی۔ اسی کے ساتھ ایک بات یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کو حلال اور جائز طریقہ پر جتنا کچھ دیا ہے وہ اس پر صبر و شکر اور قناعت کرے، اور اپنے سے اوپر اور مال دار لوگوں پر نظر رکھنے کے بجائے اپنے سے کم تر اور غریب لوگوں پر نظر رکھے۔ اگر ہم نیک نیتی اور دُھن و دھیان کے ساتھ ان دونوں کاموں کو اختیار کر لیں گے یعنی فضول خرچیوں سے اجتناب اور کفایت شعاری کا اہتمام کر لیں گے تو امید ہے کہ مہنگائی اور بے روزگاری کا رونا رونے سے مقروض ہونے سے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بلکہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے لوٹ مار حرام خوری اور قتل وغارت گری کے کئی سنگین جرائم سے بھی بآسانی نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ مہنگائی کم ہو یا زیادہ ہمارے اپنے رویّے اگر درست ہو جائیں تو زندگی آسان ہو جاتی ہے اگر ہم فضول خرچی کم کر دیں دکھاوا چھوڑ دیں اور گھر کے نظام میں تھوڑی سی ترتیب لے آئیں تو یقین جانیے گھریلو جھگڑے کم ہوں گے ذہنی سکون بڑھے گا قرضوں سے نجات ملے گی اور زندگی میں برکت آئے گی اللہ کرے ہم سب سمجھ جائیں کہ بہتر زندگی پیسے سے نہیں سمجھ داری سے بنتی ہے ۔
اللہ ربّ العزت ہم سب کو فضول خرچی نجات عطافرماۓ حرام کمائی سے مکمل حفاظت فرماۓ حلال رزق عطافرماۓ آمین ثم آمین یارب العالمین ۔