*اللہ ربّ العزت نے اگر آپ کو چند بچوں کی دولت سے نوازا ہے،تو کسی ایک کو پلاٹ فارم دیں*
اللہ ربّ العزت کا لاکھوں، کروڑوں، اربوں اور کھربوں احسانِ عظیم و کریم ہے کہ اُس نے ہمیں انسان پیدا فرمایا، پھر اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق دی، پھر ہمیں امتِ محمدیہ ﷺ میں پیدا فرمایا، اور پھر ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا جن کا شمار انسان کے بس میں ہی نہیں۔ انہی نعمتوں میں ایک عظیم ترین نعمت اولاد ہے،لیکن آج جن کے پاس اولاد ہے، وہ اس نعمت کی قدر نہیں جانتے،اور انہیں کوئی پتا نہیں، لیکن جن کے پاس نہیں ہے وہ بہت قدر کرتے ہیں،ہم غور کرسکتے ہیں اولاد کتنی بڑی نعمت ہے،میں نے اولاد کے لیے بے انتہا لوگوں کو روتے بلکتے دیکھا ہے،اور آپ لوگ خود جانتے ہیں کہ اولاد بڑی نعمت ہے،اگر ہم اپنے رب کی نعمتوں کو گننا چاہیں تو گن نہیں سکتے(فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ) جب شمار نہیں کر سکتے تو پھر شکر کا حق کیسے ادا کریں؟ اس کی حمد و ثنا کیسے کریں؟اللہ کی ذات تو اتنی اعلیٰ، اتنی اقدس، اتنی ارفع ہے کہ ہمارے الفاظ اس کے شایان شان ہو ہی نہیں سکتےـ
حضرت اجمل شاہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
بیاں ہو حمد تیری کس طرح ہم ناتوانوں سے
کہ تو برتر ہے وہموں سے، خیالوں سے، گمانوں سے
گلستاں جہاں میں سب تیری تسبیح کرتے ہیں
لسانِ حال سے، دل سے، زبانوں سے، جوارح سے
کرے اجمل ثنا کیوں کر کہ ناواقف ہے منزل سے
وہی چلتے ہیں اس راہ میں جو واقف ہیں نشانوں سے ہمارے اندر وہ طاقت نہیں، ہماری زبان میں وہ وسعت نہیں، ہمارے الفاظ میں وہ بلندی نہیں جو اللہ کی شان کے مطابق ہو ہم بس اتنا کہہ سکتے ہیں:نحمدك يا ربّ، نشكرك يا غفّار الذنوب و يا ستّار العيوب۔
اب اصل بات کی طرف: جب اللہ نے آپ کو چند بچوں کی دولت سے نوازا ہے تو ہر ایک کو کوئی نہ کوئی پلاٹ فارم دیجئے، اور اگر سب کو نہیں دے سکتے تو کسی ایک کو ضرور دیجئے تاکہ وہ آپ کی عزت میں چار چاند لگائے، تاکہ وہ خاندان کے لیے روشنی بنے، تاکہ اس کی وجہ سے آپ کی دنیا بھی سنورے اور آخرت بھی روشن ہو،آج سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس اولاد نہیں،اصل المیہ یہ ہے کہ اولاد موجود ہے، مگر سمت موجود نہیں،آج ہمارے گھروں میں چند ایک کے سوا اکثر مسلمان مزدوری کی زندگی گزار رہے ہیں،مزدوری کوئی عیب نہیں مگر پوری نسل کو مزدوری کے اندھیرے میں چھوڑ دینا بہت بڑا ظلم ہے مسئلہ صلاحیت کا نہیں، مسئلہ پلاٹ فارم کا ہے،ہم نے اپنے آباؤ اجداد کے طرز فکر کو چھوڑ دیا، اپنی پہچان کو چھوڑ دیا، اور ہم بھی مزدور بن گئے اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی مزدور بنانے پر تُل گئے،جبکہ اسلام کا نظریہ فکر یہ ہے کہ مزدوری نا کرکے بلکہ کاروبار کیا جائے،اور اگر آپکو یقین نہیں تو انبیاء کرام علیہم السلام کو دیکھ لیں تمام کے تمام نے یا تو اپنا پیشہ کیا ہے،یا پھر کاروبار ہم زیادہ دور نا جاکر خود اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھیں آپ نے ایکسپورٹ(Export) اور امپورٹ(Import) کیا ہے اور تمام صحابہ کرام کی زندگی شاہد ہے اس بات پر کہ وہ لوگ تجارت کیا کرتے تھے۔
خود کو سنبھالیے،آپ خدمت کرنے کے لیے نہیں، خدمت کرانے کے لیے پیدا ہوئے تھے،کسی نے سچ کہا تھا ہم غریب گھر میں پیدا ہوئے یہ افسوس کی بات نہیں،اصل افسوس تو یہ ہے کہ ہم غریب ہی مر جائیں،اور اپنی اولاد کو بھی غریبی میں دھکیل دیں،اگر آپ سب بچوں کو آگے نہیں بڑھا سکتے تو کسی ایک کو مضبوط بنا دیں،وہ ایک بچہ پورے خاندان کی تقدیر بدل سکتا ہے، اور بدلا بھی ہے یقینی طور پر،تواریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ وہ گھر جہاں ایک ہی بچہ تعلیم یافتہ تھا وقت نے کروٹ بدلی اور آج اُس گھر کا ایک ایک بچہ تعلیم یافتہ ہے،اس لیے کہ ایک کو تعلیم کی قدر معلوم ہو گئی،پھر وہ سب کو بدلنے نکلا، اندھیروں سے نکالنے نکلا، محرومیوں سے نکالنے نکلا، اور روشنی کی طرف لے آیا۔
یاد رکھیے ایک چراغ پورے گھر کو روشن کر دیتا ہے،ایک مضبوط ستون پوری عمارت کو سنبھال لیتا ہے،ایک ہی درست قدم پوری نسلوں کا رخ بدل دیتا ہے،ہم بچوں کو کھانا دے دیتے ہیں،کپڑا دے دیتے ہیں، موبائل دے دیتے ہیں مگر مقصد زندگی نہیں دیتے،ہم انہیں کھیل سکھاتے ہیں، مگر میدان زندگی میں جیتنے کا ہنر نہیں سکھاتے،ہم انہیں خواہشیں دیتے ہیں،مگر قربانی دینا نہیں سکھاتے،خدارا اپنے بچوں کو صرف جینے کا ہنر نہیں جیتنے کا حوصلہ بھی سکھائیں،صرف کمانا نہ سکھائیں کچھ بننا بھی سکھائیں،صرف نوکری کے خواب نہ دکھائیں قیادت کے راستے بھی دکھائیں،اگر آپ ایک کو عالم بنا دیں،ایک کو ڈاکٹر، ایک کو تاجر،ایک کو کاریگر،یا کسی ایک کو ہی مضبوط بنا دیں،وہ ایک آپ کی سات نسلوں کے لیے دعا بن جائے گا، وہ آپ کی عزت کا سبب بنے گا،اور آپ کی قبر کے اندھیروں میں بھی روشنی بنے گا،آج بھی وقت ہے فیصلہ آج کرنا ہے اپنے بچوں کو پلاٹ فارم دیجیےاگر سب کو نہیں دے سکتے تو کسی ایک کو ضرور دیجیے،کیونکہ وہی ایک دن سب کا سہارا بنے گا،اور وہی آپ کی دنیا بھی سنوارے گا اور آخرت بھی سنور جائے گی،خدارا ہم لوگ سمجھتے نہیں غربت کیا ہے،
ایک حوصلہ افزائی کرنے والا انسان (Motivational speaker) غربت کو سمجھاتے ہوئے کہتا ہے دیکھو کتنی بری ہے چیز ہے غربت جب آپ ٹرین میں سفر کر رہے ہوں اور سوئے اتفاق جنرل ڈبّہ ہو اسی میں ساتھ میں آپکی بیوی بھی ہو تو آپ یا تو اسکو چھوڑیں گے یا اس میں جائیں گے اگر جائیں گے تو یہ ظاہر ہے آپ ایک پاکیزہ انسان ہیں ہماری عورتوں میں حیا ہے لیکن ڈبّہ جنرل ہے، تو اس میں آپکے ہمسفر کے ساتھ وہ ہوگا جس کو آپ نہیں چاہتے ہوں اور آپکو دیکھنا ہوگا،اور یقینی طور پر دیکھنا ہوگا کیونکہ ڈبّہ جنرل ہے اور ہم لوگ جنرل کا معنی سمجھتے ہی ہیں اس میں لوگ آئیں گے جائیں اور بعض اوقات ایسا ہو جاتا ہے بلکہ اس میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک دوسرے سے مس رہتے ہیں اب آپ اگر مالدار ہوتے،تب آپ اپنی بیوی کو اس جنرل میں لیکر نہیں جاتے بلکہ آپ ریزرویشن میں یا اے سی میں لیکر جاتے،یا پھر بس اور فور بلر سے جاتے بتانا مقصد یہ تھا ہماری غربت ہمیں اس پلاٹ فارم پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے جب ہم اس پر نظر دوڑائیں تو خدارا ہم سمجھ نہیں سکتے کہ ہمارے ساتھ وہ وہ ہو جاتا ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔
میرا مزید مشورہ یہ ہے آپ جو اپنے بچوں کی شادی اتنی اتنی مہنگی کرتے ہو وہ شادی اتنی مہنگی نا کر کے نکاح کو آسان بنادو اور جو پیسہ وہاں خرچ ہونے والا ہوتا ہے اسکو بچے کے لیے کاروبار کر کے دو،آپکو پیسا نا تو کپڑے،نا کھانے،نا کسی اور سہولت میں خرچ کرنا ہے یعنی فضول خرچ نہیں کرنا ہے اگر آپکی کوئی شادی پانچ ہزار میں ہو سکتی ہے،یعنی داوت تو اسکو اور کم کرنے کی کوشش کرو،لیکن جہاں آپکو پیسہ خرچ کرنے سے نہیں روکنا وہ دو جگہ ہے ایک تو تعلیم جتنا بھی خرچ ہو آپ حضرات کریں اور دوسرا کاروبار آپ چاہیں ایکسپورٹ کا ہی کام کریں، لیکن کاروبار ضرور کریں اللہ نے کاروبار میں برکتیں رکھی ہیں،اور اولا اسلامی نظریہ سے تو جہیز کی اجازت نہیں لیکن پھر بھی وہ زیادہ کریں تو ان کہیں کہ آپ سامان نا دے کر آپ نقدی(Cash) دے دیں اور اس سے آپ کاروبار کریں۔
نوٹ : بھائی ہر ایک بندے کو اپنی سوچ بتانے کا پورا اختیار ہے کیونکہ میں بھی آپ ہی کی طرح ایک انسان ہوں،اور ممکن ہے میری سوچ آپ جیسی نا ہو،اگر کوئی مختلف الرای ہیں بیشک اللہ آپکو آپکی سوچ کا ثواب عطا فرمائے۔
اللہ کریم ہم لوگوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*