*کس نے کہا بیٹی کو بچہ جننے(پیدا کرنے)کے لیے باپ کے گھر جانا ضروری ہے؟*

مجھے ایک بھائی نے میسیج میں ایک ایسا سوال پوچھا جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا کہنے لگا:

*بھائی جو عورت حاملہ ہوتی ہے، کیا اس کا بچہ لازمی طور پر باپ کے گھر ہی پیدا ہونا چاہیے؟ ہماری ایک آپی کو اس حالت میں زبردستی ان کے سسرال والے بھیج رہے ہیں آپ کیا کہیں گے؟*

میں نے فوراً جواب دیا،بھائی نہ یہ شریعت کا حکم ہے،نہ عقل کا تقاضا، نہ اخلاق کی اجازت، کیونکہ عورت کا اصل گھر شوہر کا گھر ہے،اور بچہ وہیں پیدا ہونا چاہیے،جہاں تحفظ ہے،جہاں سہارا ہے،اگر اسے باپ ہی کے گھر بچہ پیدا کرنا تھا پھر آپکے ساتھ شادی کیوں کی؟ آپکے ساتھ شادی کرنے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آپ جنسی تعلقات قائم کریں اور پریشانی میں اسے گھر بھیجیں اور تمہاری غیرت ایمانی کہاں ہے جو تم اس حال میں لاچار کو بے یارو مددگار چھوڑ کر گھر بھیجنا چاہتےہو، اے امت محمدیہ تمہیں کیا ہو گیا ہے تمہاری غیرت ایمانی کہاں چلی گئی، اسلام کی تعلیمات کو تم نے کیوں بھلا دی ہے،آپکو پتہ نہیں درد زہ کے بارے میں 😭۔

خدارا کبھی پڑھیں قرآن کریم کو جب حضرت مریم سلامۃ اللہ علیھا بحکم خدا حاملہ ہوئیں اور بچہ پیدا ہونے کا وقت آیا خدارا انہوں نے ایسے الفاظ استعمال کئے تھے جس سے ماؤں کی تکلیف کو بغور سمجھا جا سکتا ہے، حضرت مریم سلامۃ اللہ علیہا نے کہا تھا اللہ میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی،میں بھولی بسری ہو جاتی،یہی وجہ کہ اللہ کے رسول محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی بیٹا اپنی ماں کے حق کو نہیں ادا کر سکتا اسلیے کہ وہ جو درد زہ برداشت کرتی ہے وہ زندگی اور موت سے لڑتی ہے،تمہیں شرم و حیا نہیں آتی ایسے وقت میں اسے تمہاری ضرورت ہوتی ہے اور تم کہتے ہو مائیکا جا،خدارا اپنے آپکو سنبھالو یہ بھی ہماری بربادی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے،اللہ کریم سمجھنے کی توفیق بخشے۔

ہمارے معاشرے میں لڑکیاں ایسی ہیں

جو عین وقت تک، بلکہ کئی کئی مہینوں تک اپنے شوہر کے گھر ہی میں رہتی ہیں،کہیں نہیں جاتیں،اور خاص طور پر حالت حمل میں وہ کہیں جانا مکروہ جانتی ہیں، کیونکہ انکی غیرت ایمانی اس بات کی قائل ہوتی ہے کہ اس حالت میں کم نکلا جائے کم چلا جائے، کیونکہ سفر کی تکلیف، جسم کی کمزوری، درد و خوف کے باوجود

وہ وہیں رہنا پسند کرتیں ہیں، جہاں ان کا حق بنتا ہے،اور میں تو یہاں تک دیکھا ہوں کہ وہ کسی رشتےدار کے سامنے آنا بھی گوارا نہیں کرتیں، اور اپنے آپکو بہت زیادہ چھپا لیتی ہیں اور یہی عقلی تقاضہ بھی ہے،اور یہ بات یقینی ہے پوری دنیا کی عورتوں میں اگر کوئی عورت غیرت مند ہے تو وہ اسلام کی شہزادیاں ہیں جو اپنے کو ہمیشہ محفوظ رکھنا چاہتی ہیں،اور محفوظ رہتی ہیں یہ اسلیے نہیں کہ وہ عورت ہے بلکہ اس لیے کہ قوم مسلم کے ہر فرد میں اللہ نے غیرت رکھی ہے، اور جو اپنے کو زمانے میں دکھانا چاہتی ہیں، وہ اپنا محاسبہ خود کر سکتی ہے، بات حمل کو لیکر چل رہی تھی میری غیرت جاگ گئی اور وجود کا ہر فرد مجھ سے سوال کرنے لگا،کیا ایسے بھی لوگ ہیں جو اس نازک ترین وقت میں عورت کو بوجھ سمجھ کر اس کے مائیکے کی طرف دھکیل دیتے ہیں؟ میں نے اس بھائی سے پوچھا، آخر یہ ظلم کس علاقے کا دستور ہے،وہ خاموش رہے اور کچھ نہیں بتایا؟اور اگلا ٹوپک شروع کر دیا،پھر جو بات بتائی اس نے میرے دل کو چیر دیا،کہنے لگا بھائی ہمارا گھر اس وقت انتہائی تنگی میں ہے،بڑے بھائی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا،پچھلے پانچ مہینے سے چارپائی پر پڑے ہیں،وہی گھر کے کمانے والے تھے،میں ابھی طالب علم ہوں،لیکن اب مزدوری کر کے گھر چلا رہا ہوں،اور اب اسی حال میں ہماری بہن کو ہمارے گھر بھیجا جا رہا ہے،ہم سنبھال نہیں پا رہے،لیکن کچھ کہنے کی ہمت بھی نہیں ہو رہی ہے۔

میرے عزیز تب میرے دل سے ایک چیخ نکلی،کیا بیٹی کا مائیکا سرکاری زچگی اسپتال ہے؟کیا ماں باپ ایمبولینس ہیں؟کیا بھائی نرسیں ہیں؟اور کیا غریب باپ کا گھر فری وارڈ ہے؟جہاں جب چاہو مریضہ بھیج دو،اور داماد صاحب ذمہ داری سے بری ہو جائیں؟جب بیٹی ہنستی ہے تو بھی مائیکا،جب روتی ہے تو بھی مائیکا،جب بیمار ہوتی ہے تو بھی مائیکا،اور جب ماں بننے لگتی ہے تو بھی مائیکا؟تو پھر شوہر کا گھر کیا ہے؟ صرف حکم چلانے کی جاگیر ہے؟صرف سہاگ رات کا کمرہ؟آخر تم نے سمجھا کیا ہے؟کوئی اسلام کی یہ شہزادیاں لاوارث ہیں؟صرف اسلام نے تمام حقوق صرف آپکو دئے ہیں؟خدارا سمجھ لیں اسلام کو ورنہ یہ زمانہ آپکی دھجیاں اڑا دے گا ٹکڑے بھی زمین پر نہیں ملیں گے۔

اور حالت یہ کہ یہ ظلم شوہر تنہا نہیں کرتا، اس کے پیچھے ساس،خسر اور خاندانی روایتیں کھڑی ہوتی ہیں،ایک ہی جملہ جو ساس کی زبان سے صادر ہوتا ہے ہم نے بھی وہیں جنا تھا،ہماری ماں نے بھی وہیں جنا تھا،یہ تو رسم ہے،میں پوچھنا چاہتا ہوں اس ناپاک رسم کا حق آپکو دیا کس نے،آپ کوئی دین کی ٹھیکیدارنی ہو،یا کسی قوم کی پیشوا ہو جو تم جہالت کو بڑھاوا دوگی تو سب کو اس پر عمل کرنا فرض ہوگا،گویا رسم دین بن گئی،اور دین صرف مسجد تک محدود ہو گیا،یہ کوئی روایت نہیں بلکہ ایک جہالت ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، کوئی یہ نہیں پوچھتا،اس لڑکی کے گھر میں کھانا ہے یا نہیں؟ دوا ہے یا نہیں؟ ہسپتال قریب ہے یا نہیں؟ وہاں پہلے ہی کوئی حادثہ، بیماری یا فقر تو نہیں؟ وہاں اسے سنبھالنے کی طاقت کسی میں ہے بھی یا نہیں؟بس اپنے گھر کا بوجھ،دوسروں کے آنگن میں پھینک دیا جاتا ہے۔

میرے عزیز جس عورت کو تم نے نکاح میں لیا، جس کے جسم میں تمہاری اولاد سانس لے رہی ہے،جس کی کمزوری کی جڑ بھی شوہر ہے، تو اس کا سب سے پہلا حق دار بھی وہ شوہر ہے مائیکا نہیں،قرآن چیخ چیخ کر کہتا ہے:☆اَلرِّجَالُ قَوَّامُوۡنَ عَلَى النِّسَآءِ☆

مرد عورتوں کے نگہبان ہیں،ذمہ دار ہیں،محافظ ہیں،قوام بننے کا مطلب صرف خرچہ دینا نہیں، قوام بننے کا مطلب حکم چلانا نہیں، قوام بننے کا مطلب ہے،اس دن ڈھال بننا جس دن عورت سب سے زیادہ کمزور ہوتی ہے،آخر آپنے کبھی غور کیا کہ اللہ نے عورت کی شادی مرد سے کیوں رکھی،میرے رب کی شان ہے اگر وہ چاہتا تو تو کچھ عورتوں میں ہی ایسی خصوصیات پیدا فرما دیتا جو انکو مرد سے نکاح کرنے کی ضرورت ہی نا پڑتی،یاحاکم آپکو کیوں بنایا، عورت بھی تو تمہاری حاکمہ ہو سکتی تھی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ نے عورت کو کمزور اور مرد کو بر مقابل عورت کے طاقتور پیدا فرمایا ہے وہ نرم مزاج ہے آپ کو سخت مزاج بنایا ہے کیونکہ آپ کو اسکو بھی سنبھالنا ہے اور خود کو بھی سنبھالنا ہے،اور عقل مرد حضرات میں کیوں زیادہ رکھی اسلیے کہ وہ عورت کو ہر موڑ پر سمجھائے کیوں کہ وہ ناقص العقل ہے،اور جب وہ تمہارے سمجھانے سے نا سمجھے اور شریعت کی حدود کو پامال کردے پھر تمہیں حق دیا کہ اسے طلاق دے دو اور چھٹکارا پا لو لیکن حق کے ساتھ دینا ہے،ورنہ میرے رب کی لاٹھی میں آواز نہیں ہے۔

یاد رکھو حاملہ کو اسکے گھر بھیجنے والوں یہ ظلم صرف بیوی پر نہیں ہوتا، یہ ظلم بچے پر بھی ہوتا ہے، اور یہ ظلم ان ماں باپ پر بھی ہوتا ہے جو اپنی بیٹی کو اس حال میں سہارا دیتے ہیں صرف اس ڈر سے کہ اس کا گھر کہیں ٹوٹ نہ جائے،کتنی ہی عورتیں اسی جبر کی وجہ سےخاموش ڈپریشن،خوف اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں،جس کا سیدھا اثر بچے کی صحت اور ذہن پر پڑتا ہے،اور پھر ہم روتے ہیں کہ نئی نسل کمزور کیوں ہے؟

عزیزم جو مرد اس حالت میں اپنی بیوی کو تحفظ نہیں دے سکتا،سکون نہیں دے سکتا،اعتماد نہیں دے سکتا وہ شوہر نہیں،صرف ایک نالائق مرد ہے،اور اس نے نکاح کو سمجھا ہی نہیں،کیونکہ یہ بات نکاح کے وقت ہی کہی جاتی ہے کہ نان و نفقہ شوہر کے ذمے ہوتا ہے،مجھے کوئی بتائے نا کیا بچے پر اس کا حق صرف اتنا رہ جاتا ہے کہ وہ اس کا نام کا باپ ہے، کردار کا نہیں،وہ جب تمہارے وجود سے نکلا ہوا ہے تو وہ کہیں اور کیوں لے کر جائے،ایسے رسم و رواج میں آگ لگ جائے جس سے ماں اپنے حاملہ ہونے پر شرمندگی محسوس کریں۔

یہ رسم اسلام کی نہیں، یہ رسم جہالت کی پیداوار ہے، یہ وہ زنجیر ہے جو نسل در نسل بیٹی کے پیروں میں ڈالی جا رہی ہے،اور یاد رکھو جو اس ظلم کا حکم دیتا ہے، جو اس پر خاموش رہتا ہے، اور جو اسے روایت کہہ کر جائز ٹھہراتا ہے،یہ سب حقوق العباد کے مجرم ہیں،اور قیامت کے دن

ان سے ایک ایک آنسو کا حساب لیا جائے گا،اور تمہاری اس ماں اس باپ اس بہن کی طاقت نہیں کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں اسکا جواب دے سکیں۔

آخر میں بس اتنی سی بات کہوں گا اگر تم بیوی کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے تو شادی نہ کرو،اگر تم باپ بننے کا حوصلہ نہیں رکھتے تو اولاد پیدا نہ کرو،اور اگر تم صرف نام کے مرد ہو 

تو یاد رکھو،اسلام ایسے مردوں کو مرد نہیں مانتا،بلکہ مرد وہ ہے جس کی امان میں آ کر عورت اپنے وقار عزت اور ناموس کو محفوظ سمجھنے لگے، وہی مرد ہے اسلام کی نظر میں، اور جس مرد کی حفاظت میں آ کر عورت خود کو کمزور و لاغر سمجھنے لگے، اپنے آپکو احساس کمتری کا شکار کرنے لگے، میں اسکو مرد نہیں سمجھتا بلکہ وہ میری نظر میں وہ کم ظرف انسان ہے جو انسان کہلانے کے لائق نہیں کیونکہ اسلام نے اسے وہ تمام حقوق دئیے ہیں جسکی وہ متقاضی ہے،اور بچہ جننے اور اسکی پرورش کی ذمے داری شوہر کا حق ہے نا کے مائیکے والوں کا،اگر آپکی یہ رسم ہے کہ وہ پہلا بچہ یا کوئی بھی بچہ ماں کے گھر جنے تو میں تھو کرتا ہوں ایسے رسم و رواج پر اور میں نامرد گردانتا ہوں ایسے مردوں کو جو غلط بات پر عمل پیرا ہوں۔

معذرت خواہ ہوں بہت سختی سے کلام کیا ہے لیکن میرے بھائی مجھے بتاو تو سہی کیا یہ صحیح ہے؟

اللہ کریم ہمیں سوچنے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے مجھے حق پر قائم رہنے کی توفیق بخشے آمیـــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

          *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*