ایک تلخ حقیقت ۔۔۔۔۔
بچے کی پیدائش پر پابندی فیشن یا مجبوری
بچے دو ہی اچھے
آج کل ہماری بعض بہنیں بچوں کی پیدائش سے اس قدر گھبرانے لگی ہیں
 کہ دو چار بچوں کے بعد ہی ہمیشہ کے لیے اولاد کا راستہ بند کروا دیتی ہیں۔
 کوئی مانع حمل گولیاں استعمال کرتی ہے،
کوئی انجیکشن لگواتی ہے
 اور کوئی مستقل طور پر آپریشن کروا لیتی ہے۔
بعض خواتین یہ سب بچوں کے درمیان وقفہ رکھنے کے لیے کرتی ہیں،
 جبکہ بعض مزید اولاد نہ چاہنے کی وجہ سے یہ فیصلہ کرتی ہیں۔
بعض خواتین کی یہ مجبوری بھی ہوتی ہے۔۔۔۔۔
آپ نے بھی اکثر سنا ہوگا
 بچے دو ہی اچھے
چند دن پہلے میری زندگی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔
 دل کو چکنا چور کر دیا۔
اور مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ انسان اپنی منصوبہ بندیوں میں کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو بھول جاتا ہے۔
میرے گھر کے برابر میں ایک فیملی رہتی ہے۔
 انتہائی غربت کی زندگی ہے۔
اب ایسی ہی غربت میں لڑکی دے رکھی ہے 
اکثر غریبوں کی بیٹیاں غریبوں میں ہی بیاہی جاتی ہے
 غربت بھی ایسی کہ ضروریاتِ زندگی پوری کرنا بھی مشکل ہے۔
 اللہ تعالیٰ نے انہیں سال سال کے وقفے سے پانچ بیٹے عطا فرمائے۔
پانچواں بیٹا پیدا ہونے کے بعد ان بہن نے آپریشن کروا لیا۔
ایک روز باتوں باتوں میں ان سے اس بارے میں ذکر ہوا
تو انہوں نے اپنی زندگی کی ایک ایسی حقیقت بیان کی جسے سن کر دل بھر آیا۔
''کیا کرتی میں؟
جب بچوں کے باپ کو ہی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ زچگی کے دنوں میں کبھی آدھا کلو گھی بھی میسر نہیں ہوا۔
 ایک بیٹے کو بخار آیا، لیکن غربت کی وجہ سے مناسب علاج نہ ہو سکا
 اور وہ دنیا سے چلا گیا۔
 اس کے باپ کو اتنی توفیق بھی نہ ہوئی کہ آ کر اپنے بچے کو دیکھ لیتا۔
بیٹے کی موت پر بھی نہیں آیا 
کیا کرتی میں، عائشہ۔۔۔؟''
ان کی باتیں سن کر مجھے محسوس ہوا کہ ان کا یہ شوق یا فیشن نہیں تھا،
 بلکہ حالات کی ماری ہوئی ایک عورت کا فیصلہ تھا۔
لیکن اس کے بعد جو حادثہ پیش آیا،
 اسے سن کر آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
ایک بیٹا تو پہلے ہی اللہ کو پیارا ہو چکا تھا، جس کا ذکر میں کر چکی ہوں
دو سال بعد دوسرا بیٹا بھی اپنی ماں کو الوداع کہہ گیا۔
پھر ایک ماہ بعد تیسرا بیٹا بھی ماں کو سسکتا بلکتا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
اور دل پر چھریاں تو اس وقت چل گئیں جب اگلے ہی دن اچانک چوتھا بیٹا بھی دنیا سے چلا گیا۔
ایک ہی مہینے میں تین بیٹے اللہ کو پیارے ہو گئے۔
اب اس ماں کے پاس صرف ایک بیٹا باقی ہے۔
 وہ اسے ہر وقت اپنے کلیجے سے لگا کر رکھتی ہے
اس سے زیادہ افسوس اس بات کا ہو رہا تھا 
کہ 
''اب تو اور بچے بھی نہیں ہوں گے!''
انسان مستقبل کے خوف سے آج کے فیصلے تو کر لیتا ہے،
 لیکن مستقبل کس نے دیکھا ہے؟
اولاد نعمت ہے، 
کسی کو بچوں کی تعداد پر طعنے مت دیجیے 
کیونکہ زندگی ہمیشہ ہماری خواہشات اور منصوبوں کے مطابق نہیں چلتی۔
ہم بھول جاتے ہیں کہ جو ذات دینا جانتی ہے،
 وہ واپس لینا بھی جانتی ہے۔۔۔۔۔
عائشہ 🍁