ہندوستانی مسلمان اور اسد الدین اویسی: بے بسی کی تاریخ سے خود مختار قیادت تک

✍️محبوب الحسن محبوؔب مظفرنگری

۱. سیکیولر سیاسی جماعتیں اور ان کا مسلمانوں کے تئیں رویہ
ہندوستان کی آزادی کے بعد سے اب تک، روایتی سیکیولر جماعتوں (مثلاً کانگریس، سماج وادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل، تری نمول کانگریس وغیرہ) کو مسلمانوں کا قدرتی اتحاد مانا جاتا رہا۔ مسلمانوں نے دہائیوں تک ان جماعتوں کو یکطرفہ ووٹ دیا، لیکن اس کے بدلے میں مسلمانوں کو کیا ملا؟
• سیاسی اور معاشی پسماندگی: سچر کمیٹی رپورٹ (2006) نے یہ ثابت کر دیا کہ دہائیوں تک سیکیولر حکومتوں کے تحت رہنے کے باوجود مسلمانوں کی معاشی، تعلیمی اور سماجی حالت دلتوں سے بھی بدتر ہو چکی ہے۔
• ووٹ بینک کا استعمال: سیکیولر احزاب نے اکثر مسلمانوں کو "بی جے پی کا ڈر" دکھا کر صرف ایک ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا۔
• قیادت اور آواز کی کمی: جب مسلمانوں پر ماب لنچنگ، بلڈوزر کارروائی، یا دیگر ناانصافیوں کے واقعات پیش آتے ہیں، تو یہ سیکیولر جماعتیں اکثر ہندو ووٹ بینک متاثر ہونے کے خوف سے خاموشی اختیار کر لیتی ہیں یا نام نہاد "محتاط" موقف اپنا لیتی ہیں۔
۲. مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) اور اسد الدین اویسی کا ابھار
اسی سیاسی خلا اور مایوسی کے دوران اسد الدین اویسی کی قیادت میں AIMIM حیدرآباد کے دائرے سے نکل کر مہاراشٹر، بہار، اتر پردیش اور گجرات جیسے ریاستوں تک پھیلی۔
• مسلم نوجوانوں کا زبردست رجحان: اویسی کی ریلیوں میں نوجوانوں کا جوش و خروش اور بھاری بھیڑ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم نوجوان ایک نڈر، بیدار اور آئینی دائرے میں رہ کر بات کرنے والے قائد کی تلاش میں تھے۔
• آئین اور حقوق کی زبان: اویسی جذباتی تقریروں کے بجائے ہندوستانی آئین، حقوق، تعلیمی ترقی اور قانون کی بات کرتے ہیں۔ وہ پارلیمنٹ میں مسلم مسائل پر بے باک آواز اٹھاتے ہیں، جس سے نوجوانوں میں ایک خودمختار سیاسی شناخت کا احساس پیدا ہوا ہے۔
• ووٹوں میں تبدیلی: مہاراشٹر کے اورنگ آباد، بہار کے سیما نچل اور حیدرآباد کے علاقوں میں یہ بھیڑ محض تماشائی نہیں رہی، بلکہ اس نے ووٹوں میں تبدیل ہو کر مجلس کے نمائندوں کو اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں بھیجا ہے۔
۳. "بی جے پی کی بی ٹیم" کا الزام: حقیقت یا سیاسی ہتھیار؟
جب بھی مجلس کسی ریاست کے الیکشن میں اترتی ہے، سیکیولر جماعتیں اس پر بی جے پی کی "بی ٹیم" ہونے یا "ووٹ کاٹنے والی پارٹی" (Vote Cutter) کا الزام لگاتی ہیں۔
اس الزام کی منطق:
سیکیولر جماعتوں کا دعویٰ ہوتا ہے کہ مجلس کے الیکشن لڑنے سے مسلمانوں کے ووٹ تقسیم (Split) ہو جاتے ہیں، جس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو ملتا ہے۔

 حق: آئینِ ہند کے تحت ہر شہری اور ہر سیاسی جماعت کو ملک کے کسی بھی کونے میں الیکشن لڑنے کا مساوی حق حاصل ہے۔ کسی ایک پارٹی کو مسلم ووٹوں کا خود ساختہ ٹھیکیدار نہیں بنایا جا سکتا۔
  جہاں اویسی یا ان کی پارٹی الیکشن نہیں لڑتی (مثلاً کئی ریاستوں کے صوبائی انتخابات یا لوک سبھا سیٹیں)، وہاں بھی سیکیولر جماعتیں اکثر بی جے پی سے ہار جاتی ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی کی جیت کی اصل وجہ سیکیولر احزاب کی تنظیم کاری کی کمزوری اور اپوزیشن کا بکھراؤ ہے، نہ کہ صرف اویسی کا الیکشن لڑنا۔
3. اویسی کا سخت موقف: اسد الدین اویسی نے بارہا اس الزام کی تردید کی ہے اور یہاں تک کہ ایک موقع پر انہوں نے عوامی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اگر میں بی جے پی سے ملا ہوا ہوں تو کعبے کا غلاف پکڑ کر قسم کھانے کو تیار ہوں کہ یہ الزام سراسر جھوٹ ہے"۔
۴. حقیقت پسندانہ تجزیہ: فائدہ کس کا، نقصان کس کا؟
حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس پورے منظر نامے کے دو اہم پہلو ہیں:

اویسی نے مسلمانوں کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ کسی کے "رحم و کرم" پر رہنے کے بجائے اپنی خودمختار سیاسی قیادت (Independent Leadership) قائم کریں۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلمانوں کے مسائل پر بلا خوف بولنا ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

چیلنجنگ پہلو (ووٹ کی تقسیم)
فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ (First-Past-The-Post) انتخابی نظام میں، جہاں محض چند ووٹوں کے فرق سے جیت کا فیصلہ ہوتا ہے، وہاں ووٹوں کا بکھراؤ بعض اوقات فرقہ پرست طاقتوں کو عددی فائدہ پہنچا دیتا ہے۔

یہ کہنا کہ اسد الدین اویسی "بی جے پی سے ملے ہوئے ہیں" سیاسی و علمی اعتبار سے درست معلوم نہیں ہوتا۔ اویسی کا سیاسی نظریہ اور پارلیمنٹ میں ان کا ریکارڈ بی جے پی اور آر ایس ایس کی نظریاتی مخالفت سے بھرا ہوا ہے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ سیکیولر جماعتوں نے دہائیوں تک مسلمانوں کی وفاداری کو مفت کا سودا (Taken for Granted) سمجھا اور انہیں سیاسی قیادت سے محروم رکھا۔ اویسی کی مقبولیت اور ان کی ریلیوں میں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کا امڈتا ہوا ہجوم سیکیولر جماعتوں کی اسی ناکامی اور مسلمانوں کی اندرونی مایوسی کا نتیجہ ہے۔
مسلم قوم اب صرف "بی جے پی کو ہرانے" کے نام پر ووٹ دینے کے بجائے اپنے حقوق، اپنی قیادت اور اپنی عزتِ نفس کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی طرف گامزن ہے، اور اس تبدیلی کے مرکز میں اسد الدین اویسی اور ان کی پارٹی مجلس اتحاد المسلمین کھڑی ہے۔