فلسطین اور اسرائیل جنگ
25 اکتوبر، 2026
عنوان فلسطین اور اسرائیل جنگ ۔۔ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگوں کی خبریں آئےدن اتی رہتی ہے ہر دو تین مہینوں پر غزہ اور اہل غزہ پر اسرائیلی دھاوا ایک عام سی بات ہو چکی ہے ان کی باہمی لڑائیوں کی خبریں اتنی مرتبہ آ چکی ہے کہ لا تعداد مسلمان تو اب ان خبروں پر توجہ بھی نہیں دیتے فلسطین اور اسرائیل کی موجودہ جنگ جو سات اکتوبر 2023 کو اکایک چھڑی تو یہی سمجھا گیا کہ دو چار دنوں کے بعد یہ سلسلہ بھی بیٹھ جائے گا مگر ایسا نہیں ہوا کم و بیش سو دنوں تک مسلسل چلتی رہی درمیان میں فلسطینی تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ بھی طے پایا اور چار دنوں کے بد پھر وہی میزائل وہی تو وہی ہیلی کاپٹر کی گڑگڑاہٹ گزشتہ تین مہینوں سے فلسطینوں پر جو حالات ائے ہیں ان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا یہودیوں نے حماس کو کوئی خاص نقصان تو نہیں پہنچایا مگر عام شہریوں پر ایسی بمباریاں کی ہے کہ الامان حفیظ بچوں اور عورتوں کی شہادتیں بڑی کثرت سے ہوئے جوانوں اور بوڑھوں کی لاشیں بھی تعداد میں کم نہیں ہے ظالم یہودیوں نے ہسپتال تک کو نہیں چھوڑا اور مریضوں سمیت ڈاکٹروں کو بھی موت کی نیند سلا دی دھرتی کے یہ بوجھ مدارس اور اسکولوں کو بھی تختہ مشق بناتے رہے ہر جگہ میزائل ہر مقام پر بموں سے یلغار ایک ہاں ہاں کار مچا دی تباہیوں کی نئی داستان رقم کر ڈالی شہید ہونے والے جوانوں بوڑھوں عورتوں اور بچوں کی صحیح تعداد تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اخبارات کے مطابق کم و بیش 20 ہزار افراد شہید ہوئے لاشوں کی کثرت یہ حال تو شہادت پانے والوں کا ہے جو بچ گئے ان کا حال تو اور بھی برا ہے انہیں دیکھا بھی نہیں جا سکتا زخمی پڑی ہوئی ہیں کسی کا ہاتھ جلایا گیا کسی کا پاؤں سلامت نہیں کوئی بینائی سے ہاتھ دھو بیٹھا کسی کے چہرے پر ہیبت ناک گھاؤ ہے کسی کی پسلیاں ٹوٹ گئی ایسے مریض شہیدوں سے بھی زیادہ ہے فلسطینوں کی اسلام سے محبت کا اندازہ اس سے لگا سکتے ہیں کہ کم و بیش 80 سالوں سے یہودیوں کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں وہ چاہتے تو دیگر عرب ممالک کی طرف اسرائیل سے صلح کر لیتے اور چین کی بانسری بجاتے لیکن انہوں نے ٹھان رکھا ہے کہ مر جائیں گے مگر اللہ اور اس کے پیغمبر سے اپنا رشتہ نہیں توڑیں گے بیت المقدس کی حفاظت ہر حال میں کریں گے ان 70 سالوں میں لاکھوں فلسطینی شہادت کا جام پی گئے مگر اس کے باوجود انبیاء کی سرزمین کے ان باشندوں میں تھکاوٹ نہیں ائی حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے یہ گفتگو کر رہے تھے مسجد نبوی افضل ہے کہ مسجد بیت المقدس تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری اس مسجد میں ایک نماز بیت المقدس میں پڑھی گئی چار نمازوں کے برابر ہے ویسے وہ نماز پڑھنے کی بہترین �