حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی اور میری حماقتیں

(ناصرالدین مظاہری)

خبر ملی کہ قاضی مجاہد الاسلام صاحب تعزیت کے سلسلے میں مدینۃ العلوم رسولی (ضلع بارہ بنکی) آرہے ہیں۔ اپنے اساتذہ، خاص کر مفتی نظام الدین قاسمی مدظلہ، سے نام اور تعریف اتنی سن رکھی تھی کہ زیارت کی طلب ہوئی۔ کرایے پر سائیکل لے کر آٹھ نو کلومیٹر کا راستہ طے کرکے امدادالعلوم زیدپور سے رسولی پہنچ گئے۔

وہاں ایک بڑے حجرے میں بھیڑ بہت تھی۔ مجمع میں گھس کر مشکل سے آگے پہنچا تو عقیدت کا محل سیکنڈوں میں گرگیا۔ جن کو قاضی صاحب، فقیہ وغیرہ سمجھتا تھا، وہ تو داڑھی ہی نہیں رکھتے تھے۔ میں اکیلا ہی بدظن نہیں ہوا، رضوان سیتاپوری بھی ساتھ تھا۔ الٹے پاؤں واپس امدادالعلوم زیدپور آگئے۔ ہمیں یہ محنت ضائع محسوس ہوئی۔

اگلے دن مفتی نظام الدین صاحب مدظلہ نے پوچھا: کون کون حضرت سے ملنے گیا تھا؟ میں نے پوری کہانی سنادی اور مصافحہ کیے بغیر فوری واپسی کی تفصیل بھی عرض کردی۔ مفتی صاحب ہنسے اور فرمایا: ان کی داڑھی نکلی ہی نہیں ہے۔ پہلی بار ایسا سنا کہ کبھی کبھی کسی کسی کی داڑھی نہیں نکلتی۔

خیر، ہمیں اپنی غلطی پر شرمندگی ہوئی، مگر اب کیا ہوسکتا تھا۔ پھر جب مظاہر علوم پہنچے تو یہاں قاضی صاحب سے کئی بار ملاقات ہوئی، اور اس حال میں ہوئی کہ قاضی صاحب کے ساتھ نہ لشکر، نہ گاڑیاں، نہ خادم و خدام، نہ ہجومِ بیکراں۔

میں ہر آمد پر باقاعدہ ملتا، بے تکلفی سے ملتا۔ نہ ان کے کمالات کا علم تھا، نہ ان کی بھاری اور علم سے بھری شخصیت سے تعارف تھا۔ بس اتنا معلوم تھا کہ یہ قاضی مجاہد الاسلام ہیں۔

میں اصل میں ٹھہرا احمق۔ احمق کی یہ تفصیل سن کر آپ کو بھی مزہ آئے گا۔

زیدپور امدادالعلوم میں جو ناظمِ مطبخ تھے، ان کا نام تھا قاضی شفیق۔ موٹے مسٹنڈے، خوب صورت، مشفق۔ بس پھر قاضی نام کی وجہ سے میرے دل میں یہ تھا کہ قاضی وہ بھی ہیں، یہ بھی ہیں۔ حالاں کہ کہاں راجہ بھوج، کہاں گنگو جولاہا!

میں حضرت قاضی صاحب سے اتنا بے تکلف تھا کہ مہمان خانہ، حجرہ نمبر گیارہ (حجرہ علامہ رفیق احمد بھیسانوی) میں خوب جاتا تھا۔ ان کا تھیلا کھول کر ستو نکال لیتا، گھولتا اور کھاتا تھا۔ کبھی کوئی اور چیز مل جاتی، جیسے چنے کا ستو، بھنے ہوئے دھان وغیرہ۔

قاضی صاحب کے پاس بے تکلف بیٹھتا تھا، مگر ملی کونسل سہارنپور نے ایک بڑا پروگرام سہارنپور میں کیا۔ قاضی صاحب اس کے روحِ رواں اور مدعوئے خصوصی تھے۔ گاگل ہیڑی سے کئی درجن گاڑیوں نے ان کا سواگت اور استقبال کیا۔ بڑی شان کے ساتھ قاضی صاحب تشریف لائے۔ اسلامیہ انٹر کالج کا پورا گراؤنڈ بھرا ہوا تھا۔ قاضی صاحب نے تقریر کی۔ ڈیڑھ گھنٹے کی شان دار، جان دار، عالمانہ، فاضلانہ تقریر ہوئی اور میری ساری بے تکلفی دھری کی دھری رہ گئی۔

آج مجھے پتا چلا کہ اتنے بڑے اور تگڑے عالم و فقیہ اور قاضی القضاۃ ہیں۔ حد ہوگئی میری حماقت کی!

پھر کچھ عرصے بعد جب قاضی صاحب مظاہر علوم تشریف لائے تو میں بڑا ڈرا سہما، چپکے سے سلام کرکے دور دوزانو بیٹھا۔ برائے نام ہاں، ناں میں گفتگو ہوئی۔

حضرت قاضی صاحب کو میرے اس تکلف پر بڑا تعجب تھا۔ پہلے استفسار بھری نظروں سے دیکھتے رہے، پھر پوچھا: ناصر! آپ کو کیا ہوا؟ آپ بولتے کیوں نہیں؟

میں نم دیدہ ہوگیا اور سابقہ بے تکلفی پر معافی مانگنے لگا اور عرض کیا کہ حضرت! مجھے معاف کردیجیے، مجھ سے بڑی گستاخی ہوتی رہی۔

فرمایا: ہوا کیا؟

میں نے عرض کیا کہ مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ اتنے بڑے عالم، فاضل، فقیہ اور قاضی ہیں۔ آپ کے استقبال کے لیے سیکڑوں گاڑیوں کی قطار تھی۔ میں بڑا شرمندہ ہوتا رہا کہ مجھے آپ کے مقام و مرتبے کا بالکل خیال ہی نہ ہوسکا۔ ورنہ میں آپ کے بیگ سے اجازت کے بغیر ستو وغیرہ نہ نکالتا، اتنی بے تکلفی سے باتیں نہ کرتا۔

سنبھل کر بیٹھ گئے اور فرمایا: ناصر! یہ تم کیسی بات کررہے ہو؟ میں کوئی فقیہ نہیں ہوں، وہی ہوں جو پہلے تھا، اور مجھے پہلا والا ناصر چاہیے۔

آہ! کیا بتاؤں، کیسے بتاؤں کہ پھر وہ والا ناصر گم ہوگیا اور پھر میرے سامنے ہمیشہ ایک قاضی القضاۃ ہوتا، فقیہ و مفتی ہوتا۔

خدا بخشے! ہیرے جیسے انسان اور موتی جیسے قیمتی عالم تھے۔

(گیارہ جمادی الاولی چودہ سو اڑتالیس ہجری)