دینِ اسلام علم و حکمت، دلیل و بصیرت  عدل و انصاف اور اعتدال و توازن کا دین ہے۔ دین سے محبت، شریعت سے وابستگی اور اسلامی شعائر کی حفاظت ہر مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے، لیکن دینی جذبات اسی وقت قابلِ قدر ہیں جب وہ قرآن و سنت کی رہنمائی کے تابع ہوں۔ اگر جذبات علم و حکمت سے محروم ہوجائیں تو تعصب، بے جا شدت اور انتشار کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے دین میں اصل معیار جذبات کی شدت نہیں، بلکہ حق کی معرفت، دلیل کی پیروی اور عمل میں اخلاص ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا اور اس بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمہیں علم نہیں؛ بے شک کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں بازپرس ہوگی۔ یہ آیت ہمیں تعلیم دیتی ہے کہ کسی دینی مسئلے میں بلاعلم رائے قائم کرنا، سنی سنائی بات کو حقیقت سمجھنا اور تحقیق کے بغیر کسی کے حق میں یا خلاف فیصلہ صادر کرنا درست نہیں۔ خصوصاً موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں، دینی بیانات اور شرعی مسائل کو تحقیق کے بغیر قبول کرنا یا آگے پھیلانا فتنہ و فساد کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو۔ اس قرآنی ہدایت کا تقاضا ہے کہ ہر خبر کی تصدیق، ہر دعوے کی جانچ اور ہر دینی مسئلے میں صحیح علم حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
دین میں غلو اور بے جا شدت سے اجتناب بھی ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا إِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ دین میں غلو کرنے سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلو ہی نے ہلاک کیا۔ غلو یہ ہے کہ انسان شرعی حدود سے تجاوز کرے، بے دلیل سختی اختیار کرے یا اپنی رائے کو دین کا قطعی معیار بنا لے۔ البتہ شریعت کے ثابت شدہ احکام پر مضبوطی سے عمل کرنا غلو نہیں، بلکہ مطلوب ہے۔ اعتدال کا مطلب دین میں کمی کرنا نہیں، بلکہ شریعت کی پابندی کرتے ہوئے افراط و تفریط سے بچنا ہے۔ دین کے نام پر کسی بات کو لازم قرار دینے یا کسی شخص پر شرعی حکم لگانے سے پہلے اس کی دلیل اور علمی بنیاد کو سمجھنا ضروری ہے۔
بے علمی میں فتویٰ دینا اور دوسروں کے ایمان پر حکم لگانا نہایت سنگین معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس مسئلے کا علم نہ ہو، اس میں اپنی رائے پیش کرنے کے بجائے مستند اہلِ علم کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ چند آیات و احادیث کے تراجم پڑھ لینا ہر مسئلے میں فتویٰ دینے کے لیے کافی نہیں؛ شرعی احکام کے فہم کے لیے علمی اہلیت اور اصولِ شریعت کی معرفت ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ جس شخص کو بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا، تو اس کے گناہ کا وبال فتویٰ دینے والے پر ہوگا۔ لہٰذا دینی مسائل میں جلد بازی، بے احتیاطی اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے بچنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
اختلافِ رائے میں بھی عدل، انصاف اور حسنِ اخلاق لازم ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو؛ انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔ اس آیت کی روشنی میں مخالف کی درست بات کو محض مخالفت کی وجہ سے رد کرنا اور اپنے پسندیدہ شخص کی غلطی کی محض عقیدت کی بنا پر حمایت کرنا درست نہیں۔ جہاں قرآن و سنت کی واضح دلیل ہو، وہاں اس کی پیروی ضروری ہے؛ لیکن معتبر اجتہادی اختلافات میں علمی آداب اور باہمی احترام کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ اس نبوی تعلیم کا تقاضا ہے کہ ہماری زبان سے ایسی بات نکلے جو اصلاح کا ذریعہ بنے، نہ کہ نفرت، تحقیر اور انتشار کا سبب۔
دین کی دعوت دیتے ہوئے بھی حکمت اور بہترین اسلوب اختیار کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ
 اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلائیے، اور ان سے ایسے طریقے سے بحث کیجیے جو سب سے بہتر ہو۔ لہٰذا حق بات بیان کرنے میں دلیل کی مضبوطی، نیت کی پاکیزگی اور اسلوب کی شائستگی ضروری ہے؛ کیونکہ بلند آواز دلیل نہیں، تلخ لہجہ حقانیت کی علامت نہیں اور کسی کی تحقیر دین کی خدمت نہیں۔
آج ہمیں دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ کہیں ہم اپنی رائے کو دین کا معیار، اپنی پسند کو حق اور اپنی مخالفت کو گمراہی کا عنوان تو نہیں دے رہے؟ کیا ہم دلیل کی بنیاد پر اپنی اصلاح کرتے ہیں، یا اپنی رائے کو درست ثابت کرنے کے لیے دلیل تلاش کرتے ہیں؟ 
یاد رکھیے! دینی غیرت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ انسان حق کو پہچانے، تحقیق کے بعد اسے قبول کرے اور حکمت و عدل کے ساتھ دوسروں تک پہنچائے۔نہ جذبات کو علم پر حاکم بنایا جاسکتا ہے اور نہ اعتدال کے نام پر شرعی احکام کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ کامیابی اسی میں ہے کہ ہم قرآن و سنت کو اپنا معیار، علم و تحقیق کو اپنا طریقہ اور اخلاص و حسنِ اخلاق کو اپنا شعار بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں غلو، تعصب اور بے علمی سے محفوظ فرمائے، صحیح علم و بصیرت عطا کرے اور حق کو سمجھنے، قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔