کبھی کبھی لوگوں کو کھونے کے لیے ان کا زندگی سے چلے جانا ضروری نہیں ہوتا، بس ایک مشکل وقت کافی ہوتا ہے۔ یہی وقت بتا دیتا ہے کہ کون واقعی آپ کا اپنا ہے اور کون صرف اپنی فرصت کے چند لمحے آپ کے نام کرتا رہا ہے۔

ایک وقت کے بعد احساس ہوتا ہے کہ ہمارے کانٹیکٹ میں موجود ہر نمبر کسی تعلق کی علامت نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ صرف اپنے فارغ اوقات میں ہمیں یاد کرتے ہیں، ہماری ہنسی میں شامل ہوتے ہیں، ہماری خوشیوں میں مسکراتے ہیں، ہماری باتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ شاید یہ بھی ہمارے اپنے لوگوں میں سے ہیں۔

مگر پھر زندگی ایک ایسا وقت لے آتی ہے جب انسان خود کو کسی پریشانی، تکلیف یا مشکل کے حصار میں گھرا ہوا پاتا ہے۔ یہی وقت بہت سے چہروں سے نقاب ہٹا دیتا ہے۔ وہ رابطے جنہیں ہم نے کبھی اپنے قریب سمجھا تھا اس مشکل وقت میں ان کی نہ خیریت پوچھنے کے لیے کوئی کال آتی ہے، نہ ایک مختصر سا پیغام کہ "تم ٹھیک تو ہو؟"

تب آہستہ آہستہ سمجھ آتا ہے کہ ہر وہ شخص جو ہمارے ساتھ ہنستا ہے، ضروری نہیں کہ ہماری خاموشی بھی سمجھ سکے۔ ہر وہ شخص جو ہماری خوشیوں میں شریک ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ ہماری پریشانی میں بھی ہمارے ساتھ کھڑا ہو۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں تعلق کی وجہ سے نہیں، صرف اپنی فرصت کی وجہ سے موجود ہوتے ہیں۔

یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر شخص جو مشکل وقت میں ساتھ نہ دے وہ برا ہو، ہر انسان کی اپنی مجبوریاں اور اپنی زندگی ہوتی ہے۔ مگر کچھ رشتے ایسے ضرور ہوتے ہیں جن کی حقیقت ہمیں تب سمجھ آتی ہے جب ہمیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ مشکل وقت کسی سے یہ نہیں پوچھتا کہ آپ کے پاس کتنے لوگوں کے نمبر محفوظ ہیں، وہ صرف یہ دکھاتا ہے کہ ان نمبروں میں سے کتنے لوگ واقعی آپ کے اپنے ہیں۔

شاید اسی لیے وقت گزرنے کے ساتھ انسان کے کانٹیکٹ میں موجود نمبروں کی تعداد کم ہونے لگتی ہے، مگر سمجھ بڑھنے لگتی ہے، ہم ہر رابطے کو تعلق سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں، ہر مسکراہٹ کو اپنائیت نہیں سمجھتے اور ہر ساتھ چلنے والے کو اپنا نہیں مان لیتے۔

آخرکار یہ احساس ہو ہی جاتا ہے کہ زندگی میں بہت سے لوگ صرف اچھے وقت کے ساتھی ہوتے ہیں، مگر برے وقت میں ساتھ رہنے والے چند لوگ ہی اصل دولت ہوتے ہیں۔
کیونکہ ہر رابطہ تعلق نہیں ہوتا، ہر بات کرنے والا اپنا نہیں ہوتا، اور ہر ساتھ چلنے والا آخر تک ساتھ نہیں رہتا۔

خلاصہ یہ کہ مجھے اس دوران یہ سمجھ آیا کہ ہمارے موبائل میں محفوظ بہت سے نمبر ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم نے فضول میں سنبھال کے رکھا ہوا ہوتا ہے
 حالانکہ وہ اس قابل نہیں ہوتے کہ ان کو محفوظ رکھا جاے_
یقینا سب کے فون میں اس طرح کے کچھ نمبر ضرور ہونگے_

بنتِ شہاب✍️