*اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخ زیبا لےکر* 🕯️
__________________________
✍🏻گل رضاراھی ارریاوی
__________________________
آۓ عشاق گئے وعدۂ فردا لےکر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لےکر
یہ دنیا عدم کو مستلزم ہے یہاں کی تمام شئی خواہ کتنے ہی خوبیوں کے حامل کیوں نہ ہو وہ حادث ہے، دنیا کی فطرت کہنگی ہے ،کہنگی سے چیزیں کمزور ہوتی ہے اور کمزور ہونے چیز ختم ہوجاتی ہے ، فنا اس دنیا کی اٹل حقیقت ہے ،اس لیے ہر شیئ اپنے محدود وقت کے ساتھ وجود پاتاہے جب وقت پورا ہو جاتا ہے تو عدم میں چلاجاتاہے ،اسی کو ہست و بود کہتے ہیں، جو کل تھا آج نہیں ہے، اور جو آج ہے وہ کل نہیں رہے گا؛ مگر جو اہل دل ہیں ،جن کے قلوب یاد خدا سے سرشار ذکر الہی سے روشن ہے،جن کا دماغ علم وفکر کا مخزن ہے، دین کی خدمت شوقین ہے وہ ہمیشہ زندہ جاوید رہتاہے -
اللہ تعالیٰ اس کے ذکرخیر کو بعد والوں کےلیے جاری کردیتا ہے تاکہ وہ لوگوں میں زندہ رہے ،اس کا ذکر خیر خلق خدا کے درمیان ہوتارہتاہے ،ان کے خدمات کو لوگوں کےلیے حوصلہ ذریعہ ہوتا ہے-
حضرت مولانا سعید الرحمان رحمہ اللہ انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ہیں جن کی زندگی لوگوں کےلیے مشعل راہ ہے،حضرت رحمہ اللہ کی زندگی محنت ومشقت ،جد و جہد مطالعۂ کتب ،قلمی تراش خراش ،درس و تدریس کی سنہری کڑی سے عبارت ہے،ان کی زندگی کا طویل حصہ خدمت دین میں صرف ہواہے ،ان کی زندگی کا نظم و ضبط ،اوقات کی حفاظت ،صوم و صلوٰۃ کی پابندی ،تلاوت قرآن سے عشق ایک بہتریں سبق ہے،حضرت رحمہ اللہ بےشمار خوبیوں کا حامل تھے ، وہ بیک وقت معلم ومدرس ، مفسر ومحدث ،محقق ومدقق ،مؤرخ ومرتب ، مفکر ومدبر، مصلح ومرشد ،مشفق و محسن ،مہتمم ومنتظم، مایۂ ناز ادیب وخطیب ،نازش عرب وعجم،فخر ندوہ تھے
ان کا دور اہتمام اہل ندوہ کےلیے علم و عمل اور ترقیات کا حسین سنگم ہے ،ان کے دور اہتمام میں ندوہ مزید ترقیات کی راہ پر گامزن ہوا-
آپ رحمہ اللہ اہل علم اور علماء کے درمیان یکساں مقبول تھے،علماء آپ سے تعلق رکھتے ،آپ سے ملاقات کرکے قلب و جگر کو معطر کرتےتھے -
آپ رحمہ اللہ نے72 سال دینی خدمات انجام دی ، ہزاروں نہیں لاکھوں علماء آپ نے تیار کیے ،آپ کو تحریر و تقریر کا اچھا ذوق تھا، آپ البعث الاسلامی کے رئیس التحریر تھے ،آپ نے اردو عربی دونوں زبانوں میں متعدد کتابیں لکھی، آپ صحت کے زمانے میں خطابت کےلیے مدعو کیے جاتے ،ندوۃ العلماء کی مسجد میں سالہا سال جمعہ کا خطبہ دیا -
چند سالوں آپ علیل چل رہے تھے؛مگر پھر بھی اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹےاور اپنی ذمہ داری ادا کرتے تھے ۔
آپ اکابر ندوہ کے معتمد تھے،بطور خاص حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی رح کے ،طویل عرصے تک ان کی معیت آپ کو حاصل رہی ،آپ ان کے قریبی رہے ،یہی وجہ تھی کہ آپ کی کار کردگی کی وجہ سے آپ کو سن 2000 میں ندوۃ العلماء کا مہتمم بنایا گیا ، آپ نے وہاں کا نظم ونسق کو مزید بہتر کیا ،آپ رجال ساز تھے ،ندوہ میں آج جتنے نامور علماء خدمت انجام دے رہے ہیں ان میں بیشتر آپ کے تیار کردہ شاگرد ہیں-
حضرت رحمہ اللہ اصول پسند ،سادگی ، متواضع اورسنجیدہ مزاج انسان تھے ،آپ کی زندگی صلاح وتقوی ،زہد و ورع ،متانت وسنجیدگی سے عبارت تھی ہے ،میں نے ندوہ کے علماء سے آپ کی خوبیوں کا تذکرہ بارہا سنا ہے ،آپ کی وفات محض ایک شخص کی وفات نہیں بلکہ ایک انجمن کی وفات ہے ،آپ کی وفات سے علمی ،ادبی اور فکری محفل سوگوار ہوگئی-
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
رب کریم آپ کی خدمات جلیلہ کو قبول فرماۓ ، سیئات سے در گزر فرماۓ، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطافرماۓ ، امت کو آپ کا نعم البدل عطا فرماۓ، آپ کے پسماندگان جن میں آپ کے تمام محبین شامل ہےسب کو صبر جمیل عطافرماۓ آمین
ا