*سیاست کی اہمیت اور اسکا مقام* 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
✍🏻گل رضا راھی ارریاوی 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

      علم سیاست یا فن سیاست کوئی نیا علم نہیں؛ بلکہ مخلوق میں موجود قدیم فطری صلاحیت ہے،جو اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں ودیعت فرمائی ہے- 

   قرآن کریم کے سورۂ نمل میں چیونٹی کی قیادت اور اس کی دور اندیشی کی حیرت انگیز واقعہ مذکور ہے کہ چھوٹی سے مخلوق کس حسن انتظام کی مالک ہے؟وہ صرف اپنی جان کی فکر نہیں کرتی بلکہ اپنی پوری قوم کے جان کی فکر کرتی ہے ،وہ چیونٹی کہتی ہے
اے چیونٹی ! اپنے بلوں میں گھس جاؤ کہیں ،حضرت سلیمان اور اس کے لشکر بے خبری میں کچل نہ دے -
یہ آیت دنیا کے قائدین کےلیے واضح مثال ہے قائد کو ہمہ وقت درست قیادت کےلیے تیار رہنا چاہیے ،دوراندیشی ہونی چاہیے ،خطرات سے آگہی ہونی چاہیے تاکہ وہ بروقت اپنی قوم کی حفاظت کرسکے، چیونٹی کے دگر نظم ونسق اور انتظامی صلاحیت بھی بہت زبردست ہے جس کو مفکرین نے اپنی کتاب درج کیا ہے-
ہر مخلوق میں سیاسی صلاحیت پائی جاتی ہے جس میں وہ اپنے اور اپنے بچوں کے نفع وضرر کو جانتی ہے ،اور نقصان سے بچا کر اس کی پرورش کرتی ہے -
ہاں تو بات بہت دور نکل گئی ،عرض یہ کررہا تھا کہ فن سیاست کوئی نیا فن نہیں بلکہ قدیم فن ہے-

جو حضرات بھی فلسفہ سے کچھ علاقہ رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ فلسفہ کہ دو قسمیں ہیں 1 حکمت نظریہ 2 حکمت عملیہ 
حکمت نظریہ علم الطبعیات ،علم الہیات ،علم عنصریات اور علم الافلاک پر مشتمل ہے -
حکمت عملیہ تہذیب الاخلاق ،تدبیر المنزل اور سیاست مدنیہ یا سیاست مدن پر مشتمل ہے -

دوسرا حصہ انسان کی انفرادی و خاندانی اور اجتماعی ومعاشرتی زندگی سے بحث کرتی ہے، تاکہ انسانی زندگی بہترین نظم ونسق ، عدل وانصاف اور حسن معاشرت کے ساتھ گزر سکے،اور کسی مظلوم کو انصاف کےلیے در بہ در کی ٹھوکریں نہ کھانا پڑے-

   سیاسی صلاحیت سبھی مخلوق میں ہوتی ہے بطور خاص انسان میں مگر علم سیاست کی تدوین اور علم سیاست کے اصول وضوابط کی تدوین بعد میں ہوئی ،سیاست پر سب سے پہلی کتاب افلاطون نے تصنیف کی، اور اس کا نام "جمہوریت" رکھا ،افلاطون نے اپنے استاذ سقراط سے سیاست سے متلعق جو کچھ سیکھا اسکو کتاب درج کردیا ، پھر افلاطون کے شاگرد ارسطو نے اس باب میں کمال حاصل کیا اور اپنے استاذ کی کتاب پر مزید تحقیق کا کام کیا اور اس کو ایک نئی شناخت دی، اس وقت سے لے کر اب تک اس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی اور پڑھی جارہی ہیں-

جب ہم سیاست کے متعلق غور کرتے ہیں تو ایک سوال ذہن میں آتاہے کہ سب سے پہلے ریاست کا قیام کب ہوا؟ اور اس کے اسباب کیا بنے؟ یہ بھی سوال ہوتاہے اس سے پہلے لوگ کس طرح زندگی گزارتےتھے ؟

واضح رہے کہ اس کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جاسکتی کیوں کہ جنہوں نے بھی اس کا کچھ جواب دیاہے وہ محض عقلی بات ہے اور احتمال کے درجےمیں ہے اور اس پر کوئی نص وارد نہیں ہے اور نہ ہی تاریخ میں اس کا کوئی ٹھوس ثبوت ملتا ہے - 

ان میں سے ایک نظریہ یہ ہے کہ کوئی سیاسی نظام نہیں تھا، ہرشخص اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارتا تھا، مگر چونکہ اس میں ایک خرابی یہ تھی کہ آپس میں نفع وضرر کا تصادم ہوتاتھا جس سے تنازع وتناقض کا خطرہ بڑھ رہا تھا ،اس لیے آپس میں یہ طے پایا ہم میں کا کوئی آدمی ہمارا امیر ہو ،ہمارے عمومی فایدہ کے پیش نظر ہمارا کام انجام دے اور درست فیصلہ کرے، پھر یہی نظام رفتہ رفتہ حکومتی نظام میں تبدیل ہوا ،یہ تخمینہ ہے جو عقلا لگاۓ گیے ہیں، اس پر نص صریح موجود نہیں تو کوئی حتمی نہیں کہی جاسکتی ہےکہ ابتداۓدنیا کےلوگ کیسے رہتے تھے ؟
اس سلسلے میں ارتقائی نظریہ پایا جاتاہے کہ رفتہ رفتہ زندگی گزارنے کا رنگ ڈھنگ سیکھا،جس سے ایک نظام مرتب ہوا، جوں جوں دنیا میں ترقیات ہوتی گئی تو نظم و نسق میں بہتری آتی گئی ،سیاسی دور کا آغاز ہوا ،شاہانہ نظام قائم ہوا اور لوگ ریاستی حکومتوں میں بٹ گئے- 

سیاست دین سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ یہ دین کا ایک حصہ ہے اسی وجہ سے حضرت داؤد علیہ السلام ،حضرت سلیمان علیہ السلام ،حضرت یوسف علیہ السلام نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی جس سے واضح ہوتا ہے کہ سیاست دین کا حصہ ہے اور خود حضور صلی اللہ علیہ سلم نے مدنی زندگی میں سیاسی کردار بہترین نظم وضبط کے ساتھ اداکیا ہے -
یہ افواہ عیسائیوں نے پھیلایا کہ مذہب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور یہی نظریہ ترقی کرکے جمہوریت و سیکولر کہلایا -

بعض کم خواندہ حضرات نے اس نظریہ کی تردید میں اس قدر زور دیاکہ سیاست کو اصل دین بنادیا اور دین کے دگر احکامات کو ثانوی درجہ دیا،جس سے خطرات بڑھ گیے اور سیاست کا جو مقام تھا وہ بدل گیا کہنا یہ تھا کہ سیاست دین سے الگ کوئی چیز نہیں مگر کہہ دیاکہ دین سیاست سے الگ نہیں اس میں خرابی یہ آئی کہ سیاست مقصد دیں بن گیا حالانکہ سیاست وسیلۂ دین ہے ،اس سے احکام اسلام کا نفاذ بآسانی ہوتاہے، سیاست مقصود نہیں بلکہ عبادت مقصود ہے ،یہ غلط فہمی ہوئی جس کی وجہ سے ہم نے سیاست کی خاطر ترک عبادت کو ہلکا سمجھا -

سیاست ایک اچھی چیز ہے اگر اس کو اصول شریعت کی روشنی میں کی جاۓ تو عدل و انصاف ،امن وامان ،خوش حالی اور ترقیات کی بحالی کےلیے ممدومعاون بنے گی -

جو قوم سیاسی شعور نہیں رکھتی، اسکا وجود ہلکا پڑھاتا ہے ،دنیا میں وہ اپنا اعزاز کھودیتاہے ،بہت سی قومیں وجود میں آئی ، مگر اس کا آج نام و نشاں تک باقی نہیں ہے کیوں کہ ان کا سیاسی شعور میں خاطر کردار نہیں پایا جاتاہے -

امام غزالی فرماتے ہیں : کہ دنیا کا نظم و ضبط ،جان و مال کا امن ایک مطاع اقتدار کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا ہے مزید فرماتے ہیں : دین اور اقتدار باہم جڑے ہوۓ ہیں 

علامہ ابن خلدون فرماتے ہیں :کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے اجتماعی زندگی اختیار کرنے والا ہے
وہ واضح کرتے ہیں کہ انسان کی زندگی تعاون ،اجتماعی نظم بالآخر ایسے اقتدار کی محتاج ہے جو لوگوں کے درمیان ظلم اور بدامنی کو دور کرے -
علامہ اقبال نے 1932 میں واضح انداز میں فرمایا : سیاست کی جڑیں انسان کی روحانی زندگی میں پیوست ہے،اسی خطاب میں وہ فرماتے ہیں اسلام کو محض نجی مذہبی تجربہ سمجھنا درست نہیں ،بلکہ وہ ایک اجتماعی اور شہری نظام بھی تشکیل دیتا ہے -

  ان سب باتوں کے باوجود ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کا کردار آٹے میں نمک سے بھی کم ہے اور اس میں دن بہ دن تنزلی آرہی ہے، جس سے مسلمانوں کے تحفظ و بقا خطرے میں ہے ،عبادت و معاملات بند ہونے کے درپے ہے، عبادت و تعلیم گاہ مسمار ہورہے ہیں کیوں کہ ہمارا حکومت میں حصہ نہیں ؛اس لیے ہماری آواز ایک صداۓ باز گشت کے سوا کچھ بھی نہیں -

آج مسلمانوں کو جدید ترقیات میں حصہ لینے، میڈیا ہاؤس قائم کرکے اپنی آواز کو حق کے ساتھ بلند کرنے کی ضرورت ہے، محبت اور باہمی اتحاد کے ساتھ سیاسیت کی ضرورت ہے جس میں بلا تفریق مذہب عدل وانصاف ہو اور ہم اس ملک کو دوبارہ سونے کی چڑیا بناسکیں اور سب اہم اپنے جان ومال ،ایمان وایقان کا تحفظ کرسکیں - 

اللہ تعالی ہم سب کو عدل وانصاف کے ساتھ مل جل کر رہنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین