بابری حقائق کی روشنی میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چھ دسمبر کی تاریخ پانچ صدیوں کی اس جنگ کا آخری دھماکہ ہے جس میں کبھی جھوٹ نے حق کو دبایا، کبھی سیاست نے عدالت کو خریدا، کبھی اکثریت نے اقلیت پر اپنا وزن ڈال کر انصاف کی ہڈی توڑ دی اور کبھی امت نے خود بھی غفلت کے تکیے پر سر رکھ کر اپنی تاریخ کو مٹی میں گم ہونے دیا۔۔ بابری مسجد کی کہانی 1528 سے شروع ہوتی ہے جب میر باقی نے اس جگہ جامع مسجد تعمیر کی۔ بابرنامہ میں کوئی ذکر نہیں کہ وہاں کبھی کوئی مندر گرا ہو، کوئی مورتی ٹوٹی ہو یا کوئی رام جنم بھومی نام کی جگہ رہی ہو۔ چار سو سال تک ہندو مسلمان ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں شریک رہے، بازار بھی ایک تھے۔ اگر وہاں واقعی کوئی ایسا عقیدہ ہوتا تو صدیوں میں ایک بھی تحریر، ایک بھی شکایت، ایک بھی مذہبی حوالہ ضرور ملتا لیکن ملتا کچھ نہیں اس کے باوجود 1857 کے بعد انگریزوں کی divide & rule پالیسی نے رام مندر کا یہ جھوٹ تخلیق کیا۔ 1859 میں پہلی بار باقاعدہ زمین کو دو حصوں میں بانٹا گیا۔ باہر کا صحن ہندوؤں کے لیے اندرونی حصہ مسلمانوں کے لیے۔یہ پہلا سرکاری ظلم تھا جس نے مسجد کو متنازع بنانے کی بنیاد رکھی پھر 1885 میں مہنت رگھوبیر داس نے پہلی بار عدالت میں درخواست دی کہ ہمیں چبوترہ بنانے کی اجازت دی جائے۔ خود ہندو مہنت نے مسجد کو مسجد مان کر درخواست کی۔ یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ مندر کا دعویٰ محض بعد کی سیاست کا ہتھیار تھا۔ عدالت نے چبوترہ بنانے کی اجازت نہ دی اور واضح کہا کہ یہ جگہ مسلمانوں کی مسجد ہے لیکن کیا سیاست نے کبھی عدالت کے فیصلوں کی پرواہ کی ہے؟۔۔۔۔

1949 کی وہ سیاہ رات جب شدت پسندوں نے پولیس و انتظامیہ کی سرپرستی میں مسجد کے اندر راتوں رات مورتی رکھ دی۔ یہ قدرتی واقعہ نہیں بلکہ پورے صوبائی نظام کا منصوبہ تھا۔ خفیہ فائلیں آج کھل چکی کہ کس طرح اس وقت کی بیوروکریسی نے گھنٹوں تک حکم کا انتظار کیا اور کسی نے ایک شرپسند کو بھی نہیں روکا۔ اگلی صبح حکومت نے مسجد کو تالہ لگا کر status quo کا ڈھنڈورا پیٹا یہ وہی status quo تھا جس نے مسجد کو قیدی بنائے رکھا اور ظالموں کو فاتح بنا دیا۔ 1950 سے 1986 تک مسلمان عدالتوں کے چکر لگاتے رہے لیکن 1986 میں اندرا گاندھی کی سیاسی وراثت نے ایک ایسا فیصلہ پیدا کیا جس نے بھارتی سیکولرزم کی لاش پر دستخط کر دیئے۔ تالا کھول دیا گیا۔ مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ مورتی رکھنے والوں کے لیے۔ اسی لمحے کچھ شر پسندوں نے رام جنم بھومی تحریک کو تلوار بنا کر پورے ملک میں نفرت کا بازار گرم کر دیا، ہندو نوجوانوں کو تربیت دی گئی، کارسیوا کے نام پر لاٹھیاں، ہتھوڑے، کدالیں بانٹی گئیں۔ پوری مہم کو دونوں پارٹیوں نے اپنی اپنی سیاست کے حساب سے ہوا دی، ایودھیا کا ہر راستہ طے شدہ اسٹیج بن گیا، عدالت خاموش، حکومت خاموش، پولیس خاموش اور ظلم نے قدم قدم پر نعرہ لگایا کہ اب مسجد کی باری ہے۔

6 دسمبر 1992 کو جب لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور پوری قیادت اس جگہ پہنچی تو مسجد کا فیصلہ پہلے ہی لکھا جا چکا تھا، کارسیوکوں کے بھیس میں لائے گئے تربیت یافتہ بلوائیوں نے مسجد کے اردگرد انسانی دیوار بنائی، پولیس کو حکم دیا گیا مداخلت نہ کریں، ہتھوڑوں کی پہلی ضرب گنبد پر نہیں پڑی تھی بلکہ آئین ہند کے چہرے پر پڑی تھی پھر دیکھتے ہی دیکھتے تین گنبد گرے، آسمان نے دھول سے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس کیا، قرآن کے اوراق ہوا میں بکھرے، نمازیوں کی یادیں خاک میں ملیں اور دنیا نے دیکھا کہ بابری مسجد کا انہدام محض ایک مذہبی جرم نہیں بلکہ ایک قومی قتل تھا۔ قتل انصاف کا، قتل اکثریت کا، قتل سیکولرزم کا، قتل بھائی چارے کا، قتل آئین کا، قتل بھارتی جمہوریت کا۔

لیکن سب سے بڑا زخم 2019 کے فیصلے نے دیا جب سپریم کورٹ نے خود مانا کہ مسجد گرانا مجرمانہ عمل تھا، اکثریتی جنونیت تھی، قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں لیکن زمین پھر بھی انہی کے حوالے اور مسلمان؟ صرف ایک الگ جگہ مسجد بنانے کی تسلی یعنی تمہاری عبادت گاہ توڑی گئی، تمہاری تاریخ مٹائی گئی، تمہارا حق چھینا گیا، تمہیں انصاف بھی ہم دیں گے اور فیصلہ بھی ہم طے کریں گے۔ دنیا نے کبھی ایسا انصاف دیکھا ہے کہ مجرم کا جرم ثابت بھی ہو جائے اور پھر بھی حق اس کے حوالے کر دیا جائے؟

اے امت! اب اس پوری حقیقت کو اپنی نسل تک پہنچانا تمہاری ذمہ داری ہے، انہیں بتانا کہ کیسے انگریزوں کی پالیسی نے پہلی دراڑ ڈالی، کیسے سیاسی مفاد نے مندر کا جھوٹ گھڑا، کیسے عدالتوں نے انصاف کو فائلوں میں دفن کیا، کیسے کانگریس اور بی جے پی دونوں نے اس مسئلے کو اپنے اپنے فائدے کے لیے جلتی آگ کی طرح بھڑکایا، کیسے 1949 کی رات مسجد کے سینے میں خنجر مارا گیا، کیسے 1986 کے فیصلے نے مسجد کا کفن سیا، کیسے 1992 کے دن بلوائیوں نے مسجد کے وجود کو مٹا دیا، کیسے 2019 کے فیصلے نے بھارت کے انصاف کو پوری دنیا میں شرمندہ کیا اور کیسے آج کے ہندوستان میں مساجد، مدارس، مسلمانوں کی تاریخ اور ان کی عبادت گاہیں مسلسل تنگ دائرے میں لائی جا رہی ہیں۔ CAA، NRC، حجاب پابندی، مدرسہ سروے، وقف بورڈ قانون، لَو جہاد کا فسانہ یہ سب اس ایک کہانی کے تسلسل ہیں۔ اکثریت کا پورا کنٹرول، اقلیت کا پورا محاصرہ۔

اور اے مسلمانو! یہ تمہارے لیے آخری انتباہ ہے اگر تم نے اپنی نسلوں کو بابری کا سچ نہ بتایا تو ایک دن وہ تم سے ہی پوچھیں گے کہ ابّا جب مسجد گر رہی تھی تو تم کہاں تھے؟ جب انصاف کٹہرے میں کھڑا تھا تو تم کیا کر رہے تھے؟ جب ہماری تاریخ جل رہی تھی تو تم کیوں خاموش تھے؟ انہیں بتاؤ کہ یہ مسجد تمہاری غیرت کا نشان تھی، تمہاری تاریخ کی شہ رگ تھی، تمہاری اجتماعی شناخت کا علم تھی۔ اگر تم نے یہ تاریخ نہ سنبھالی تو تمہاری نسل کو تاریخ نہیں ملے گی بلکہ صرف ملبہ ملے گا، صرف آنسو ملیں گے اور شاید صرف پچھتاوا ملے گا۔

اے امت! اپنی تاریخ محفوظ کرو، اپنی نسلیں بیدار کرو، اپنے دلوں کو جھنجھوڑو اور بابری مسجد کا قصہ صرف یاد نہ رکھو، اپنی رگوں میں اتار لو کیونکہ جس قوم کی مساجد گرادی جائیں اور وہ تاریخ نہ لکھے وہ قوم خود بھی تاریخ کے حاشیے میں لکھی جانے لگتی ہے۔۔۔۔۔۔۔


✍🏻 محمد پالن پوری