*طلوعِ آفتاب*
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تو آپ کی نال کٹی ہوئی تھی۔ حالانکہ نال پیدائش کے بعد دایہ کاٹتی ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نال پہلے سے ہی کٹی ہوئی تھی اور آپ ختنہ شدہ پیدا ہوئے تھے۔
عبد المطلب کو بہت خوشی ہوئی اور وہ کہتے تھے کہ میرا یہ بیٹا نرالی شان والا ہوگا۔ انہیں کیا خبر تھی کہ یہ وہ ہستی ہے جس کی بدولت ساری کائنات وجود پذیر ہوئی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے مکہ میں ایسی خوشیاں آئیں کہ تمام قحط سالی ختم ہو گئی اور بروقت بارشیں ہونے لگیں۔ پیدائش کے وقت آپ اپنے ہاتھوں پر جھکے ہوئے تھے اور آپ کی نظر آسمان کی طرف تھی، گویا سجدے کی حالت میں آپ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔
آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ جب آپ دنیا میں تشریف لائے تو اتنی روشنی ہوئی کہ مجھے بصرہ میں اونٹوں کی گردنیں تک نظر آ گئیں۔
اور جب آپ دنیا میں تشریف لائے تو آپ کی زبانِ مبارک پر یہ کلمات تھے: "اللہ اکبر کبیرا، والحمد للہ کثیرا، وسبحان اللہ بکرۃ و اصیلا۔"
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخِ ولادت کیا ہے؟ یہ اگلی قسط میں ان شاء اللہ بیان کیا جائے گا۔