حاضریِ ندوہ:
(ناصرالدین مظاہری)
حضرت مولانا سعیدالرحمن اعظمی ندوی رحمہ اللہ کے انتقالِ پُرملال کی خبرِ کلفت اثر سن کر رنج و غم کی جس کیفیت سے دوچار ہوا، لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ جس وقت انتقال کی اطلاع ملی، اس وقت میں مظاہرعلوم وقف سہارنپور کے ناظم حضرت مولانا مفتی محمد بدران سعیدی کے ہمراہ بجنور کے اکبرآباد میں جناب منشی نثار احمد، سفیر مظاہرعلوم، کی عیادت کے لیے ان کے دولت کدے پر حاضر تھا۔ وہاں سے واپسی پر لکھنؤ جانے کا نظم اور ٹکٹ کی کوشش شروع ہوئی۔ فوری طور پر کوئی ٹرین نہ مل سکی جس میں ٹکٹ آسانی سے مل سکتا۔
طے ہوا کہ اگلے دن صبح پانچ بجے وندے بھارت سے لکھنؤ روانگی ہو، اگرچہ اس وقت تک نمازِ جنازہ ہو چکی ہوگی، پھر بھی تعزیتِ مسنونہ تو ہو جائے گی۔
میں حضرت مولانا مفتی بدران سعیدی کا تعزیتی مکتوب بنام حضرت مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی لے کر ندوہ حاضر ہوا۔
حضرت مولانا مفتی محمد بدران سعیدی نے اپنے تعزیتی مکتوب میں لکھا تھا کہ:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
لائقِ احترام حضرت مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی مدظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ابھی تھوڑی دیر قبل مختلف ذرائع سے حضرت مولانا سعیدالرحمن اعظمی ندوی رحمہ اللہ کے انتقالِ پُرملال کی خبرِ کلفت اثر سن کر نہایت رنج و قلق ہوا۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔
إن للہ ما أخذ ولہ ما أعطی، وکل شیء عندہ بأجل مسمی، فلتصبر ولتحتسب۔
حضرت مولانا مرحوم علم و دعوت کی دنیا کا ایک معتبر نام تھے۔ ان کے انتقال سے ایک علمی و دینی خلا پیدا ہوا ہے، جس کا احساس اہلِ علم و اہلِ تعلق سبھی کو دیر تک رہے گا۔
میں آنجناب کے توسط سے حضرت مولانا رحمہ اللہ کے تمام پسماندگان، متعلقین اور وابستگان کی خدمت میں تعزیت و ہمدردی پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل اور اجرِ جزیل سے نوازے۔
اللہ تعالیٰ ادارہ ندوۃ العلماء کو حضرت مولانا مرحوم کا نعم البدل عطا فرمائے اور ان کی دینی، علمی و دعوتی خدمات کو شرفِ قبول بخشے۔
حضرت مولانا مرحوم کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت کا سلسلہ جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔
والسلام
(مفتی) محمد بدران سعیدی
ناظم و متولی
مظاہر علوم (وقف)، سہارنپور
24 ربیع الثانی 1448ھ
بتاتا چلوں کہ حضرت مولانا سعیدالرحمن اعظمی ندوی رحمہ اللہ کو جن جلیل القدر ہستیوں سے اجازتِ حدیث حاصل تھی، ان میں ایک نام شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کا بھی ہے۔
جمعہ کا دن چونکہ چھٹی کا ہوتا ہے، اس لیے ملاقاتیں اگلے دن پر ملتوی کر دیں۔
میں نے اپنی حاضری کی اطلاع دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ، کے مہتمم حضرت مولانا عبدالعزیز خلیفہ بھٹکلی مدظلہ کو پہلے ہی کر دی تھی۔
میں سیدھا حضرت مولانا بلال عبدالحی ندوی مدظلہ کی قیام گاہ پہنچا، جہاں اساتذۂ کرام کے ساتھ میٹنگ جاری تھی، اس لیے بھائی مصباح سے علیک سلیک ہوئی، تعارف ہوا اور آصف برخیا کی طرح چشمِ زدن میں میرے سامنے میز پر ناشتہ سجا دیا گیا۔
ناشتے کی ضرورت بھی ہو رہی تھی۔ فارغ ہونے سے پہلے ہی حضرت مولانا عبدالعزیز بھٹکلی مدظلہ کا فون آ گیا اور پرسشِ مزاج و احوال کے بعد اپنے دفتر بلا لیا۔ دفتر میں حضرت نے اپنے ساتھ پھر شریکِ ناشتہ کر لیا اور ڈھیر ساری باتیں کرتے رہے۔ ان باتوں میں مولانا کے دل سے نکلے ہوئے الفاظ اب بھی میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔
مولانا بات بات میں اس قدر اشعار پڑھتے ہیں کہ باذوق انسان ان کی گفتگو کی شیرینی و حلاوت میں کھو جاتا ہے۔
دیر تک باتیں کرتے رہے، پھر اپنے معتمد خادم و شاگرد اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے معین مدرس مولانا محمد فہیم ندوی کو بلایا اور میرا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کا تعلیمی وقت پورا ہونے سے پہلے زیارت کراؤ۔ چنانچہ کلیۃ الشریعہ، کلیۃ اللغۃ، کلیۃ الدعوۃ، شعبۂ انگلش، شبلی نعمانی لائبریری، حدیث شریف کی درس گاہوں، تخصصات کے شعبوں، افتاء و قضاء کے دفتروں نیز مجلس نشریاتِ اسلام وغیرہ کا تفصیل کے ساتھ معائنہ کرایا۔
مجھے کہیں بھی بچے ادھر ادھر گھومتے نہیں ملے۔ اساتذۂ کرام، بالخصوص حضرت مولانا خالد غازی پوری، مفتی محمد زید مظاہری وغیرہ، مصروفِ تدریس نظر آئے۔ دورۂ حدیث کی کئی ترتیبیں ہیں، سبھی کی نگرانی کے لیے درس گاہوں میں کیمرے نصب ہیں اور زیریں حصے میں ایک آفس میں ڈسپلے موجود ہے۔ تمام طلبہ کی حاضری جدید ترین مشینری سسٹم کے تحت ہوتی ہے۔
مجھے ایک دفتر میں ایک بزرگ نظر آئے۔ مولانا فہیم صاحب نے ان کا تعارف کرایا کہ یہ مولانا ابوسحبان روح القدس ندوی ہیں۔ میں نے الرائد میں درس من السنۃ کالم بہت پڑھا تھا، اس لیے ملاقات کی اجازت لے کر اندر داخل ہو گیا۔ گفتگو علم، تعلیم، قلم، مضمون سے شروع ہوئی اور پھر یہ مجلس، مجلسِ علمی ہوتی چلی گئی۔ مولانا مجھ سے مل کر بہت خوش ہوئے، اپنی کتابوں کی تفصیلات بتائیں اور جدید ترین، تازہ ترین کتاب ’’حواشی السعدی علی مقدمۃ اصول الحدیث‘‘ عنایت فرمائی۔
اس کی وجہِ تالیف و ترتیب بڑی دلچسپ ہے، جو اسی کتاب کے ابتدائی حصے میں موجود ہے، مگر میں یہاں اس لیے تذکرہ نہیں کر رہا ہوں کہ اس پر باقاعدہ ’’سنو سنو‘‘ کے تحت ایک قسط لکھنے کا ارادہ ہے۔
مولانا فہیم ندوی بھی ندوۃ العلماء کے عشق میں مرغِ بسمل ہو رہے ہیں۔ لگتا ہے حضرت مولانا عبدالعزیز بھٹکلی مدظلہ دنیا سے جانے سے پہلے اپنے جیسے عشاق کی ایک جماعت تیار کرکے جائیں گے، اور ایسا ہی ہوگا، ان شاء اللہ!
اب ہمارا رخ حضرت مولانا بلال حسنی ندوی کی طرف تھا۔ وہاں پہنچا تو پتا چلا کہ میٹنگ اب بھی ہو رہی ہے۔ دوپہر بھی بہت ہو چکی تھی، کچھ آرام کا بھی تقاضا ہو رہا تھا، اس لیے مہمان خانے جدید حجرہ نمبر 20 پہنچا اور مولانا فہیم ندوی صاحب کو بھی بھیج دیا۔ غسل کیا، نمازِ ظہر پڑھی اور ظہرانے کے لیے حضرت مولانا عبدالعزیز بھٹکلی مدظلہ کا فون آ گیا۔ پُرتکلف ضیافت سے فارغ ہوا، کافی دیر گفتگو ہوتی رہی۔ گفتگو کیا، حضرت کی ادبی گفتگو سے محظوظ ہوتا رہا۔ باتیں اتنی ہیں کہ کئی قسطیں لکھی جا سکتی ہیں۔ اللہ سلامت رکھے۔
اب قیلولے کے لیے اپنے حجرے پہنچا۔ میرے بہت سے اہلِ تعلق اساتذۂ کرام سے ابھی ملاقاتیں باقی تھیں۔ مولانا نفیس خان ندوی، مولانا محمد مستقیم ندوی، مولانا عبدالسلام خطیب بھٹکلی، مولانا فیصل احمد بھٹکلی وغیرہ۔
اطلاع اکثر کو ہو چکی تھی۔ سبھی ملنا چاہ رہے تھے، میں بھی سبھی سے ملنا چاہ رہا تھا مگر ترتیب نہیں بن پا رہی تھی۔
بہرحال، اتوار عصر کی نماز کے بعد حضرت مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی کی مجلس میں شرکت ہوئی۔ پورا ہال بھرا ہوا تھا۔
مولانا بلال عبدالحی حسنی ندوی مدظلہ نے دو کتابوں کا اجرا کیا۔ پہلی کتاب عربی میں ہے، دوسری اردو میں۔ عربی کتاب کا نام ’’قبسات من حیاۃ الصحابۃ‘‘ ہے۔
اس کے اصل مرتب تو مولانا محمد خالد غازی پوری ندوی ہیں، جنہوں نے اسے اردو زبان میں ’’صحابۂ کرام کی زندگی کے روشن واقعات‘‘ کے نام سے مرتب کیا ہے۔
یہ کتاب صحابۂ کرام کی زندگی کے ان ایمان افروز اور دل نشیں واقعات کا جامع مجموعہ ہے، جن میں ان کی زندگی کے مختلف گوشے نمایاں ہوتے ہیں۔ ان واقعات میں ایمان کی حقیقتیں جلوہ گر ہیں، صدق و ثبات اور ایثار و قربانی کے معانی نمایاں ہیں۔ اسلوب ایسا دل نشیں ہے کہ قاری کا دل متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا، اور واقعات کی تصویر اس انداز سے کھینچی گئی ہے کہ پڑھنے والا خود کو ان کے ماحول میں موجود محسوس کرنے لگتا ہے۔
اس کی تعریب لائق فائق استاذ مولانا عبدالرشید ندوی راجستھانی نے کی ہے۔ خوب صورت اسلوب، پختہ ترجمہ و ترجمانی اور معیاری ادب کا شاہکار ہے۔ 180 صفحات پر مشتمل یہ مجلد کتاب مجلس میں موجود ہونے کی وجہ سے مجھے بھی مل گئی، ورنہ نہ ملنے کا یقینِ کامل تھا۔
دوسری کتاب کا نام ہے ’’اللہ والوں کی نصیحتیں‘‘۔ یہ جدہ میں مقیم مشہور بزرگ حضرت الحاج مولانا محمد یونس صاحب مدظلہ کے ارشادات کا مجموعہ ہے۔ اس کے مرتب بھی حضرت مولانا محمد خالد ندوی ہی ہیں۔ اس کی ضخامت 150 صفحات ہے۔ غیر مجلد، مگر معیاری طباعت سے مزین ہے۔
(جاری)
(چار جمادی الاولی چودہ سو اڑتالیس ہجری)