انسانی تاریخ گواہ ہے کہ مٹی کے پتلے کو انسانیت کے اوجِ کمال تک پہنچانے میں جس ہستی کا عمل دخل رہا ہے، اُسے دنیا "استاد" اور "شیخ" کے نام سے یاد کرتی ہے۔ استاد اور شیخ فقط علم کی ترسیل کا ذریعہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ انسان کی فکری نشوونما، باطنی تطہیر اور روحانی بیداری کے ضامن ہیں۔ اگر والدین انسان کے وجودِ جسمانی کا سبب ہیں، تو اساتذہ اور مشائخ اس کے وجودِ روحانی کے معمار ہیں۔ استاد تاریکیوں میں جلتا ہوا وہ چراغ ہے جو جہالت کے اندھیروں کو چاک کر کے بصیرت کا راستہ ہموار کرتا ہے، جبکہ شیخِ کامل نفسِ امارہ کی سرکشی کو ختم کر کے انسان کو بندگی کے مقامِ احسان پر فائز کرتا ہے۔ ہمارے لیے
ہمارے اساتذہ اور مشائخ محض درسی رہنما نہیں، بلکہ ہماری زندگی کا وہ روشن قطب نما ہیں جنہوں نے ہر قدم پر ہماری فکری اور اخلاقی تربیت کی۔۔
قرآنی نقطۂ نظر اور مقامِ استاذ :- اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب اپنے حبیبِ پاک ﷺ کی بعثت کے مقاصد کو بیان فرمایا تو نبوت کے بنیادی فرائض میں تعلیم و تربیت کو مرکزی حیثیت بخشی:
هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِی الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ
(سورۃ الجمعۃ: ۲)
ترجمہ: "وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں تلاوت فرماتے ہیں، ان کا تزکیہ فرماتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔"
اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ معلمی اور مشیخت (تزکیہ) سنتِ نبوی کا اصل جوہر ہے۔ استاد "تعلیمِ کتاب و حکمت" کا آئینہ دار ہے اور شیخ "تزکیۂ نفس" کا امین۔
اس کے علاوہ قرآنِ مجید نے اہلِ علم کی فضیلت اور ان کے درجات کو بلند کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ
(سورۃ المجادلۃ: ۱۱)
ترجمہ: "اللہ ان لوگوں کے درجات بلند فرماتا ہے جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم عطا کیا گیا۔"
استاد کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس علم کو اللہ نے بلندی کا معیار ٹھہرایا، استاذ اسی علم کا تقسیم کنندہ ہے۔
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں اساتذہ اور مشائخ کی وقعت :-
حضورِ اکرم ﷺ نے خود اپنے منصبِ مبارک کو معلم کے عنوان سے واضح فرمایا:
رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ اقدس:
" إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا "
(سنن ابن ماجہ)
ترجمہ: "بے شک مجھے معلم (استاد) بنا کر ہی بھیجا گیا ہے۔"
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَيْسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَمْ يُجِلَّ كَبِيرَنَا، وَيَرْحَمْ صَغِيرَنَا، وَيَعْرِفْ لِعَالِمِنَا حَقَّهُ
(مسند احمد)
ترجمہ: "وہ شخص میری امت میں سے نہیں جو ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے، ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے، اور ہمارے عالم (استاذ) کا حق نہ پہچانے۔"
* حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَوَاتِ وَالأَرَضِينَ حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا وَحَتَّى الحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الخَيْرَ (جامع الترمذی)
ترجمہ: "بے شک اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے، آسمان و زمین کے تمام باشندے یہاں تک کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلی (سمندر میں) بھی لوگوں کو خیر و بھلائی کی تعلیم دینے والے (استاذ) کے لیے دعائے خیر و رحمت کرتے ہیں۔"
اقوالِ ائمہ کے آئینے میں :-
امام ابن جماعۃ نے استاذ کے ادب کو علم کے حصول کی اولین شرط قرار دیتے ہوئے تحریر فرمایا کہ شاگرد کو چاہیے کہ وہ اپنے استاد کی مجلس میں نہایت وقار، توجہ اور حلم کے ساتھ بیٹھے، اور استاد کے سامنے اس طرح رہے جیسے ایک مریض کسی ماہر اور مشفق طبیب کے سامنے ہوتا ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ طالبِ علم کو چاہیے کہ وہ اپنے استاد کے ساتھ ہمیشہ انکساری اور تواضع سے پیش آئے، خواہ استاذ عمر یا شہرت میں اس سے کم ہی کیوں نہ ہو۔ وہ نقل کرتے ہیں کہ اسلاف جب اپنے استاذ کے پاس جایا کرتے تو راستے میں صدقہ دیا کرتے اور دعا مانگتے: اے اللہ! میرے استاد کے عیوب مجھ سے پوشیدہ رکھ اور ان کے علم کی برکت سے مجھے محروم نہ فرما۔ (التبیان فی آداب حملۃ القرآن)
علامہ زُرنوجی نے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کا تاریخی ارشاد نقل فرماتے ہیں "أَنَا عَبْدُ مَنْ عَلَّمَنِي حَرْفًا وَاحِدًا، إِنْ شَاءَ بَاعَ، وَإِنْ شَاءَ اسْتَرَقَّ، وَإِنْ شَاءَ أَعْتَقَ۔"
میں اس شخص کا غلام ہوں جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا؛ وہ چاہے تو مجھے بیچے، چاہے غلام بنائے رکھے، چاہے تو آزاد کر دے۔ (تعلیم المتعلم طریق التعلم)
امام شافعی فرماتے ہیں: میں اپنے استاد امام مالک کے سامنے کتاب کے اوراق کو نہایت آہستگی اور نرمی سے پلٹا کرتا تھا تاکہ کاغذ کی کھڑکھڑاہٹ کی آواز سے ان کی طبیعت پر ناگواری نہ گزرے۔
اختتامیہ:
اساتذہ اور مشائخ اس امت کا وہ سرمایہ ہیں جن کے دم قدم سے علم اور روحانیت کا تسلسل برقرار ہے۔ ان کی خدمت اور توقیر فقط ایک اخلاقی تقاضا نہیں، بلکہ برکت اور توفیقِ الٰہی کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جنہوں نے اساتذہ کے ادب کو تھاما وہ اوجِ ثریا پر پہنچے، اور جن سے ادب کا دامن چھوٹا وہ وسعتِ علم کے باوجود فیض سے محروم رہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے تمام اساتذہ اور مشائخ کے درجات کو بلند فرمائے، ان کی عمر اور صحت میں برکت عطا فرمائے، جو دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ان کی قبروں کو نور سے بھر دے، اور ہمیں ان کی تعلیمات، افکار اور راہِ مستقیم پر تاحیات استقامت کے ساتھ چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین یا رب العالمین۔
استاد کے احسان کا بدلہ نہیں ممکن.
ہر حرفِ شناسا ہے عنایت ترے دم سے.
🖋️ محمد اشرف جہانگیر (بنگلور)
دورۂ حدیث