Translation unavailable. Showing original.
موبائل فون کی ایجاد—— ایک ترقی یا بربادی کا ذریعہ؟
14 اکتوبر، 2026
موبائل فون: یہ دراصل مرکب ہے موبائل اور فون سے، جس کا مطلب ہوتا ہے چلتا پھرتا، حرکت کرتا یا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والا آلہ (Device)۔ موبائل فون کے موجد (Inventor) مسٹر مارٹن کوپر (Martin Cooper) نے جب موٹورولا (Motorola) کی ٹیم کے ساتھ مل کر 1973 میں پہلا موبائل بنایا—جس کا وزن دو کلو تھا—اور نیویارک کی سڑک پر جب انہوں نے اس کے ذریعے پہلی کال کی، تو ان کے ذہن و دماغ میں دور تک بھی یہ خیال نہ آیا ہوگا کہ ان کی یہ ایجاد آنے والے وقت میں دنیا کے تقریباً تمام انسانوں کی زندگی کا ایک حصہ بن جائے گی، جسے وہ اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، سوتے جاگتے، یہاں تک کہ بیت الخلاء میں جاتے وقت بھی اپنے ساتھ لے جانا نہ بھولیں گے۔ ہنسیے مت، یقیناً معاشرہ آج اسی صورتِ حال سے دوچار ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم موبائل استعمال نہیں کر رہے، بلکہ موبائل ہمیں استعمال کر رہا ہے۔
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ موبائل بڑی اچھی چیز ہے؛ اس نے تو علم کے دروازے ہمارے ہاتھوں میں کھول دیے ہیں۔ ہزاروں کتابیں، دور دراز کی خبریں، لغات، تحقیقی مقالات اور علمی لیکچرز محض ایک سرچ سے ہماری آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔ یقیناً اس طرح کے بہت سے فوائد ہیں، جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن انسان کی عادت یہ ہے کہ وہ کسی چیز کے کچھ فوائد دیکھتا ہے، تو اس کے نقصانات کو بھلا بیٹھتا ہے۔ اس کا ایک اچھا رخ دیکھ کر اسی پر اکتفا کر لیتا ہے اور اس کو کل حقیقت سمجھ لیتا ہے اور یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتا کہ اس کا دوسرا رخ کیا ہے۔ تو آئیے، ہم اسی دوسرے رخ پر غور کریں۔
آج کے دور میں موبائل فون اور سوشل میڈیا کو جس طبقے کے لیے سب سے زیادہ مفید اور ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، وہ طلبہ (Students) کا طبقہ ہے، لیکن یقین جانیے، اسی موبائل اور سوشل میڈیا ایپس جیسے ChatGPT، Gemini، Grok، DeepSeek وغیرہ سے بڑھ کر طلباء کی فکری استعداد کا گلا گھونٹنے اور تخلیقی صلاحیت کا بیڑا غرق کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ آج طلبہ کا ایک بڑا طبقہ اپنی کوئی تقریر ہو یا چھوٹا سا مضمون، اے آئی (AI) کی بھیک اور اس کے سامنے اپنا دستِ سوال دراز کیے بغیر نہیں لکھ سکتا۔ لیکن دوستو! یاد رکھیے اس طرح کے مضامین کا لوگوں کے دلوں پر خاطر خواہ اثر نہیں ہوتا، کیونکہ دلوں کے تاروں کو تو وہی بات چھیڑتی ہے، جو دل سے نکلتی ہے۔ اسی لیے تو اقبال نے کہا ہے:
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
علمی انحطاط اور فکری تنزلی سے بڑھ کر نوجوانانِ امت اس فتنے کے عام ہونے کی بنا پر جس چیز سے سب سے زیادہ تباہ ہو رہے ہیں، وہ جنسی بے راہ روی ہے؛ کیونکہ موبائل نے ان کے لیے ناجائز تعلقات، بے حیائی اور فحش مواد کے دروازے کھول دیے ہیں۔ لہٰذا، وہ رات دن سوشل میڈیا کا استعمال کرکے اپنے مستقبل کو خراب، راتوں کو تاریک اور جوانیوں کو داغ دار کر رہے ہیں۔
عہدِ پیری میں نہ کچھ شیوۂ رند آیا حیف! ہم نے نہ جوانی کی بھی کچھ قدر جانی (میر تقی میر)
دوستو! موبائل کے جسمانی و روحانی نقصانات اور تباہ کاریاں اتنی زیادہ ہیں، جیسے صحت کا خراب ہونا، بینائی کا کمزور ہونا، نیند کی کمی، گھر والوں کو وقت نہ دینا، جھوٹ کی کثرت، عبادات میں سستی، موسیقی میں مبتلا ہونا، بے حیائی کا عام ہونا اور آخرت سے غفلت وغیرہ، کہ ان کی فہرست بہت طویل ہے۔ لیکن ان میں سب سے عام، جس میں معاشرے کے تمام افراد، بچے، بوڑھے، جوان، سب مبتلا ہیں، وہ ضیاعِ وقت ہے۔ ایک ہمارے اسلاف تھے، جو ہر ہر لمحے کو قیمتی بناتے تھے، اور آج ہم ہیں کہ گھنٹوں گزرنے کا بھی احساس تک نہیں ہوتا۔
ہائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا کارواں
کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
حل: کیا اتنے سارے نقصانات اور خرابیوں کو دیکھ کر مایوسی اختیار کی جائے؟ ہرگز نہیں، بلکہ ہمیں اس کے استعمال میں راہِ اعتدال اور توازن اختیار کرنے اور ہمیشہ اس بات کو پیشِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ’’موبائل ہماری جیب میں ہو، نہ کہ ہماری سوچ میں۔‘‘
محمد یوسف قاسمی کرناٹکی