سورۂ الحجرات کی تعلیمات کی روشنی میں

✍️ محبوب الحسن محبوؔب مظفرنگری

معاشرہ افراد کے مجموعے کا نام ہے اور افراد کے اخلاق و کردار ہی سے معاشرے کی تعمیر ہوتی ہے۔ اگر لوگوں کے درمیان محبت، احترام، خیر خواہی، انصاف اور حسنِ سلوک ہو تو معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے، لیکن اگر دلوں میں نفرت، بدگمانی، حسد، طعن و تشنیع، غیبت اور ایک دوسرے کی تحقیر پیدا ہوجائے تو معاشرتی زندگی بے سکونی اور انتشار کا شکار ہوجاتی ہے۔

قرآن کریم نے انسانی معاشرے کو خوشگوار بنانے کے لیے صرف عبادات ہی کی تعلیم نہیں دی، بلکہ باہمی تعلقات، گفتگو، اخلاق اور معاشرتی رویوں کے ایسے اصول بھی بیان فرمائے ہیں جن پر عمل کرکے ایک مثالی معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ سورۂ حجرات اس سلسلے میں ایک جامع اخلاقی منشور کی حیثیت رکھتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس مختصر سورت میں انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ برتاؤ کے ایسے اصول عطا فرمائے ہیں جو آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔

1۔ وَلَا تَلْمِزُوا — ایک دوسرے کو طعنے نہ دیا کرو

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ﴾

یعنی ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور طعنہ نہ دو۔

کسی کی غربت، کمزوری، شکل و صورت، خاندان، پیشے یا کسی سابقہ غلطی کو بنیاد بنا کر اسے طعنے دینا دل آزاری کا سبب بنتا ہے۔ بسا اوقات انسان اپنی زبان سے کہی ہوئی بات بھول جاتا ہے، لیکن جسے طعنہ دیا گیا ہو وہ اسے مدتوں یاد رکھتا ہے۔

خوشگوار معاشرہ وہی ہے جہاں انسان دوسروں کے عیوب تلاش کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر کرے۔

2۔ فَتَبَيَّنُوا — خبر کی تحقیق کرلیا کرو

قرآن کریم کا واضح حکم ہے:

﴿فَتَبَيَّنُوا﴾

یعنی کسی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تحقیق کرلیا کرو۔

آج سوشل میڈیا کے دور میں اس تعلیم کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ایک غیر مصدقہ پیغام چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے اور کبھی ایک جھوٹی خبر کسی شخص کی عزت، خاندان یا پورے معاشرے کو نقصان پہنچا دیتی ہے۔

لہٰذا ہر سنی سنائی بات کو فوراً آگے بڑھانا دانش مندی نہیں۔ مسلمان کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ خبر کی صحت معلوم کرے، حقیقت واضح کرے اور پھر کوئی بات آگے پہنچائے۔

3۔ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ — برے القاب سے نہ پکارو

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾

یعنی ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو۔

نام بگاڑنا، کسی کی جسمانی کمزوری کو مذاق کا موضوع بنانا یا ایسا لقب دینا جس سے دوسرے کی تحقیر ہو، اسلامی اخلاق کے خلاف ہے۔

اچھا معاشرہ وہ ہے جہاں زبانیں لوگوں کے دل جوڑنے کا ذریعہ بنیں، توڑنے کا نہیں۔

4۔ فَأَصْلِحُوا — مسلمانوں کے درمیان صلح کراؤ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ﴾

جب دو افراد یا دو گروہوں کے درمیان اختلاف ہوجائے تو تماشائی بن کر کھڑے رہنا کافی نہیں، بلکہ اصلاح کی کوشش کرنا بھی ایک دینی ذمہ داری ہے۔

آج خاندانوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور مختلف جماعتوں کے درمیان معمولی اختلافات بعض اوقات برسوں کی دشمنی میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اگر اہلِ خیر بروقت آگے بڑھ کر صلح کی کوشش کریں تو بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔

صلح کرانا معاشرے میں امن پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

5۔ لَا يَغْتَبْ — ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا﴾

غیبت معاشرے کے اندر نفرت اور بداعتمادی پیدا کرتی ہے۔ محفل میں کسی غیر موجود شخص کے عیوب بیان کرنا بظاہر معمولی گفتگو محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔

قرآن کریم نے غیبت کی قباحت سمجھانے کے لیے نہایت مؤثر مثال بیان فرمائی کہ کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟

اگر انسان یہ احساس پیدا کرلے کہ جس شخص کی غیر موجودگی میں میں اس کے بارے میں بات کررہا ہوں، اگر وہ سامنے موجود ہوتا تو کیا میں یہی بات کہہ سکتا تھا؟ تو معاشرے کی بہت سی محفلیں غیبت سے پاک ہوسکتی ہیں۔

6۔ وَأَقْسِطُوا — انصاف سے کام لیا کرو

قرآن کریم کا حکم ہے:

﴿وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾

یعنی انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

معاشرہ صرف محبت سے نہیں بلکہ انصاف سے بھی قائم رہتا ہے۔ اگر انسان اپنے لیے کچھ اور اور دوسروں کے لیے کچھ اور معیار رکھے تو معاشرے میں اعتماد باقی نہیں رہتا۔

انصاف کا تقاضا ہے کہ رشتہ دار ہو یا اجنبی، دوست ہو یا مخالف، طاقتور ہو یا کمزور، ہر شخص کے ساتھ حق کے مطابق معاملہ کیا جائے۔

7۔ لَا تَجَسَّسُوا — کسی کی ٹوہ میں نہ لگو

ارشاد ہے:

﴿وَلَا تَجَسَّسُوا﴾

یعنی ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگو۔

دوسروں کی نجی زندگی میں بلاوجہ مداخلت کرنا، ان کے راز تلاش کرنا، ان کے ذاتی معاملات کی کھوج لگانا اور ان کی کمزوریوں کو تلاش کرتے رہنا اسلامی معاشرت کے خلاف ہے۔

اگر ہر شخص اپنے کردار کی اصلاح میں مصروف ہوجائے تو دوسروں کی زندگیوں کی نگرانی کے لیے وقت ہی نہیں بچے گا۔

8۔ لَا يَسْخَرْ — ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑاؤ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ﴾

یعنی کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے۔

مذاق اگر کسی کی عزتِ نفس مجروح کردے تو وہ مذاق نہیں بلکہ دل آزاری ہے۔ کسی کے رنگ، قد، لباس، زبان، لہجے، مالی حالت، تعلیم یا کمزوری کو نشانہ بنانا انسان کے اندر احساسِ کمتری پیدا کرسکتا ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جس شخص کا ہم آج مذاق اڑا رہے ہیں، ممکن ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہم سے کہیں زیادہ عزت والا ہو۔

9۔ اِجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ — بدگمانی سے بچو

قرآن کریم کا ارشاد ہے:

﴿اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾

یعنی بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔

بدگمانی دلوں میں فاصلے پیدا کرتی ہے۔ انسان کبھی دوسرے کے ایک جملے یا ایک عمل کا اپنی مرضی سے مطلب نکال لیتا ہے اور پھر اسی مفروضے کو حقیقت سمجھ کر تعلق خراب کرلیتا ہے۔

اسلام ہمیں حسنِ ظن کی تعلیم دیتا ہے۔ جہاں کسی بات کی کئی توجیہات ممکن ہوں، وہاں بلاوجہ بدترین مفہوم اختیار کرنے کے بجائے اچھا گمان کرنا چاہیے۔

سورۂ حجرات: معاشرتی زندگی کا جامع منشور

اگر ہم سورۂ حجرات کی ان تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنالیں تو ہمارے گھروں، محلوں، اداروں، مدارس، مساجد اور پورے معاشرے کا ماحول تبدیل ہوسکتا ہے۔

طعنے ختم ہوں تو دل جڑتے ہیں،
خبر کی تحقیق ہو تو فتنے رک جاتے ہیں،
برے القاب ختم ہوں تو عزت باقی رہتی ہے،
صلح کی کوشش ہو تو رشتے بچتے ہیں،
غیبت ختم ہو تو اعتماد پیدا ہوتا ہے،
انصاف قائم ہو تو امن آتا ہے،
تجسس ختم ہو تو پردۂ عزت محفوظ رہتا ہے،
مذاق اڑانا ختم ہو تو دل نہیں ٹوٹتے،
اور بدگمانی ختم ہو تو محبت بڑھتی ہے۔

اختتامیہ: تبدیلی دوسروں سے نہیں، اپنے آپ سے شروع ہوگی

آج ہم معاشرے کی خرابیوں کا رونا روتے ہیں، گھروں کے بکھرنے، رشتوں کے ٹوٹنے، دلوں میں بڑھتی ہوئی نفرت اور باہمی اعتماد کے ختم ہونے پر افسوس کرتے ہیں؛ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا ہے کہ اس بگاڑ میں ہمارا اپنا کردار کتنا ہے؟

ہم دوسروں سے سچائی چاہتے ہیں مگر خود سنی سنائی بات آگے بڑھا دیتے ہیں۔ دوسروں سے عزت چاہتے ہیں مگر خود طعنہ دے دیتے ہیں۔ اپنی عزت کے لیے حساس ہوتے ہیں مگر دوسروں کا مذاق اڑانے میں دیر نہیں لگاتے۔ اپنی کمزوریوں پر پردہ چاہتے ہیں مگر دوسروں کے عیوب تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ہم اپنے بارے میں حسنِ ظن چاہتے ہیں مگر دوسروں کے بارے میں بدگمانی کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔

سورۂ حجرات ہمیں آئینہ دکھاتی ہے۔

یہ ہمیں بتاتی ہے کہ معاشرے کی اصلاح صرف تقریروں، جلسوں اور نعروں سے نہیں ہوگی؛ اصلاح اس وقت شروع ہوگی جب ہماری زبان بدل جائے گی، ہمارے لہجے بدل جائیں گے، ہماری سوچ بدل جائے گی اور ہمارے دل بدل جائیں گے۔

آئیے آج یہ عہد کریں کہ ہم کسی کی عزت نہیں اچھالیں گے، بغیر تحقیق کوئی خبر نہیں پھیلائیں گے، کسی کو برے لقب سے نہیں پکاریں گے، اختلاف کو دشمنی نہیں بنائیں گے، غیبت سے اپنی زبان کو بچائیں گے، انصاف کا دامن نہیں چھوڑیں گے، دوسروں کے راز نہیں ٹٹولیں گے، کسی کی کمزوری کا مذاق نہیں اڑائیں گے اور بلاوجہ بدگمانی کو دل میں جگہ نہیں دیں گے۔

کیونکہ ایک اچھا معاشرہ دوسروں کے اچھے بننے کا انتظار کرنے سے نہیں بنتا؛ ایک شخص کے خود اچھا بننے سے بنتا ہے۔

اور جب ایک شخص بدلتا ہے تو ایک گھر بدلتا ہے، ایک گھر بدلتا ہے تو ایک خاندان بدلتا ہے، خاندان بدلتے ہیں تو محلے بدلتے ہیں، محلے بدلتے ہیں تو معاشرہ بدلتا ہے۔

پس معاشرے کو خوشگوار بنانے کا آغاز ہمارے دروازے کے باہر نہیں، ہمارے اپنے دل کے اندر سے ہوگا۔

یہی سورۂ حجرات کا پیغام ہے، یہی اسلامی معاشرت کا حسن ہے، اور یہی ایک پُرامن، باوقار اور خوشگوار معاشرے کی بنیاد ہے۔