*سعدیہ فاطمہ عبدالخالق*
ناندیڑ مہاراشٹر 8485884176
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*اے خدا صرف ایک عہد وفا اب بھی کہاں باقی ہے*
تمام تعریفیں اللّٰہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، ہر دور میں ایمان والوں کے لئے ایک کتاب اور ایک رسول بھیجا گیا ہے ، جس نے ان باتوں کو سمجھ کر اپنے اندر سمو لیا اس نے دونوں جہانوں کو اپنے لئے کامیاب کر لیا ، ہمارے آخری نبی پیغمبر حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت ہمارے لئے ایک باعث رحمت ہے ، اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جسے کسی زبان سے ، رنگ و نسل یا لسانی گروہ سے وابستہ نہیں کیا جا سکتا یا کسی جغرافیائی گروہ سے ، جیسے ایشیائی ، افریقی ، یورپی گروہ ۔۔۔۔۔۔ ، بلکہ وہ سارے انسانوں کا مذہب ہے ساری انسانیت اس کی مرہونِ منت ہیں ، قرآن مجید میں الحجرات میں اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا ,, اے لوگوں ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تمھاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو ۔ درحقیقت اللّٰہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ،، (سورت الحجرات:13) اسلام ایسے تمام تصورات کی نفی کرتا ہے جو انسانوں کے درمیان رنگ ، نسل ، ذات قوم وغیرہ کی بنیاد پر تفریق کرتے ہیں ، اسلام کا پیغام وحدت انسانی کا پیغام ہے ، وہ اس حقیقت کو ماننے کی دعوت دیتا ہے کہ سارے انسان ایک خدا کی مخلوق اور بندے ہیں اور ایک مرد اور عورت کی اولاد اور آپس میں بھائی بھائی ہیں ،
لیکن آج ہم 1446ھ کے جس دور سے گذر رہے ہیں اس کی تلخ حقیقت سے بخوبی سب واقف ہیں کہ اس وقت عالم اسلام ایک عجیب اضطراب اور بے چینی کے دور سے گزر رہا ہے قتل و غارت گری ، دنگے فساد معیشت کی تباہی تعلیم سے محرومی اور بے شمار مسائل مسلمانوں کا مقدر بن چکے ہیں ایسے ماحول میں وطن عزیز ہندوستان میں مسلمانوں کو امن و سکون اور اطمینان کا ماحول میسر نہیں ہے، عالمی سطح پر صیہونی طاقتیں اور اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کو تباہی سے دو چار کرنے کے در پے ہیں آج ہم غلامی و ذلت ، پستی اور خوف کا شکار ہیں اور اس خوف کے نتیجے میں تارک الدنیا ہو رہے ہیں ، یہ سب خُدائے کاملہ کی رحمت کاملہ پر بھروسہ نہ ہونے کا نتیجہ ہے ، یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ جب بھی حالات نامساعد ہوں اور ہمارے خلاف جا رہے ہوں تو ہماری نجات اور ہماری بقاء وہ ترقی کا دارومدار صرف اور صرف قرآن اور سنت پر عمل آوری میں پنہاں ہے اس سے ہٹ کر کوئی اور راستہ نہیں ہے اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس میں ہمارے تمام مسائل کا حل ہے اس میں زندگی گزارنے کا طریقہ ہے ایک ایک عمل کی تفصیل ہے ، ایک قابل غور بات یہ ہے کہ روز ازل سے آج تک انسان کشت و خون کا مرتکب ہوتا جا رہا ہے آدم کی تخلیق پر فرشتوں کا یہ کہنا کہ وہ خون بہائے گا اور خداوند قدوس کا اس اعتراض کی تردید نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ دعویٰ امن پسندی اور امن دوستی کے باوجود انسان ایک دوسرے کا خون بہاتا رہا ہے ہر دور اور ہر زمانے میں قومیں اپنے وجود کی کھیتی کو سیراب کرنے کے لئے خون دیتی رہی ہیں لیکن ہم نے من حیث القوم دوسروں کی حفاظت قبول کر کے اپنے اپ کو جھوٹے امن کا عادی بنا لیا ہے ، یہ بات واضح ہے کہ ملک میں مسلمانوں کو مٹانے یا انہیں ملک سے نکال دینے کی منظم مساعی فرقہ پرست کر رہے ہیں اسی ذہن میں ہزاروں سال سے کروڑوں انسانوں کو اچھوت بنا کر جانوروں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور کیا وہ اسی تجربے کو نہ صرف دہرانا چاہتے ہیں کیونکہ ان لوگوں کے نزدیک ہندوستان ہندوؤں کا ہے اور ہندو سے مراد اعلٰی ذات کے لوگ ہیں ان میں نہ اچھوت شامل ہیں نہ دیگر اقلیتوں کا کوئی مقام ہے ہم جانتے ہیں کہ آج حملے کا رخ مسلمانوں کی طرف ہے ، غرض ان تمام محاذوں پر مسلمانوں کو پریشان کیا جا رہا ہے ، ہمارے برادران وطن کے پاس اتنے خدا ہیں اور اتنی ذاتیں ہیں کہ جن کا شمار نہیں ، وہ کروڑوں خداؤں کو پوجنے کے باوجود متحد ہیں ، اور یہ ہم ہی ہیں جو ان کو متحد رکھے ہوئے ہیں ، موجودہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلام نے ہم کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا ہے اسلام ہم کو سکھاتا ہے کہ ہم حالات کا کس طرح مقابلہ کریں یہ بات ہم پر اس وقت روشن ہوگی جب ہمارے دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت سے لبریز ہوں گے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہم کو ہماری جان و مال سے ہمارے ماں باپ سے ہماری اولاد سے ہمارے کاروبار سے اور ہماری عزتوں سے زیادہ پیاری نہ ہو ضرورت ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلتے رہیں ، امت مسلمہ اس وقت اختلاف و انتشار اور آپسی دشمنی کی جس صورتحال سے دو چار ہے ویسی صورتحال ساڑھے چودہ سو (1450)سال کی تاریخ میں کبھی پیش نہیں آئی یہ اپنے وقت کا بدترین سانحہ ہے اور اس صورتحال سے کس طرح نمٹنا ہے اس پر کوئی غور نہیں کر رہا ہے عام طور پر سماج میں ایسی کوششیں ہوتی ہیں کہ سماج کو متحد و متفق رکھنے کے لئے کوششیں کی جائیں اور عام طور پر ایسی کوششوں کو سماج کے افراد کی تائید وہ حمایت بھی حاصل ہو جاتی ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے مسلم سماج میں ایسی کسی بھی کوشش کا نہ صرف فقدان ہے بلکہ ملت میں اتحاد کی بات کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو لوگوں کی نظروں سے دور اور محفوظ رکھے لیکن کتنی بڑی بد نصیبی ہے کہ ہم انفرادی طور پر تو اپنی کمزوریاں چھپاتے ہیں لیکن ایک قوم کی حیثیت سے ہم اپنی کمزوریوں کو اور اپنے اختلافات کو ببانگ دہل اچھالتے ہیں ، جس بات سے فائدہ اٹھا کر یہ مسلمانوں کے تشخص کو ختم کرنے کی کوشش کرتے آرہے ہیں ، کبھی مسلم پرسنل لاء بورڈ میں دخل اندازی ، کچھ نہیں تو غذائی عادات و اطوار کے معاملے میں بیف کو نشانہ بنانا ، نوجوانوں پر الزامات ، تعلیم کے شعبے میں ناانصافی ، نابالغ لڑکیوں کے ریپ کیسیس ، موب لانچنگ ، حجاب پر پابندی ، بلڈوزر ، غرض ان تمام محاذوں پر مسلمانوں کو پریشان کیا جا رہا ہے ،
انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ہم اب اس منزل میں ہیں جہاں افراد ملت فکر و عمل سے اس بری طرح محروم ہو رہے ہیں کہ اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ، ہماری قوم کے لیے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ دیانت دارانہ قیادت پیدا کی جائے سینکڑوں ہزاروں کارکن پیدا کیے جائیں اس کے لیے نوجوانوں کی تربیت بے حد ضروری ہے ہم کو آرزومند لیڈر اور جوشیلے کارکن تو مل جائیں گے لیکن ہمارا مشاہدہ گواہ ہے کہ چند ہمارے قومی کارکنوں کی بڑی تعداد ناقابل بھروسہ اور خودغرض اور مفاد پرست ثابت ہوئی کوئی معاشی فلاح اور دینی تعلیم کا کام ، قومی سدھار سماجی بہتری کا اقدام بغیر دیانت دار اور مخلص کارکنوں کے کامیاب نہیں ہو سکتا اور اس نقطہ نظر سے ہماری قوم میں موضوع آدمیوں کا قحط ہے ، موجودہ آزمائشی حالات میں مسلمانوں پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے عقیدہ توحید کو مضبوط بناتے ہوئے ہم کو دین پر مکمل عمل کرنا ہے اور دوسروں کی خواہشات کی پیروی میں اپنے دین کو اپنی روایات کو اپنی شریعت کو چھوڑنا نہیں ہے اپسی اختلافات کو کم کرتے ہوئے باہمی اتحاد کو مضبوط بنانا ہے اللہ کی ذات ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے تو ہمارا یقین وہ بھروسہ صرف اللہ پر ہی ہونا چاہیے ہم کو کسی سے ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ہم خود پر اعتماد کرنا سیکھیں اس سے ہم دنیا کی چال بازیوں اور مکاریوں سے بچ سکیں گے اور اس طرح ہم کو اپنی ذات اور اپنی قوت بازو پر بھروسہ کرنے کا فن آجائے گا اور یہ جذبہ کامیابی کے لیے مادی و مالی وسائل سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے ہم کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے اللہ ہمارا مونس و غم خوار ہے اور ہدایت ہماری ہم رکاب ہے کامیابی ایک دن حق و صداقت کی ہی ہوگی ، انسان ایک سماجی حیوان ہے ، اور اپنی بہت سی ضرورتوں کے لئے طرح طرح کی اجتماعی شکلیں اختیار کرنے پر مجبور ہے ، ہر اجتماعی ہیئت وفاداری چاہتی ہے ، اور جب آدمی اس سے وفاداری کا حق بھی ادا کرتا ہے اور اس کے تئیں محبت بھی اس کے دل میں فطری طور پر پیدا ہوجاتی ہے ،
,, وفاداری وابستگی یا محبت دو صورتوں میں جرم بنے گی اس کی وضاحت بھی ہم کو نصوص میں ملتی ہے ایک تو اس وقت جب یہ فطری محبت یا وابستگی احساس برتری کا ذریعہ بنے اور آدمی دوسری قوموں کو حقیر سمجھنے لگے اور دوسرے اس وقت جب نا انصافی اور ظلم میں قوم کا ساتھ دیا جائے ، عوامی دائرہ سماجی زندگی کا وہ حصہ ہے جس میں افراد ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں ، (ماخوذ) انسان نے جہاں افراد کے حقوق کو تسلیم کیا ہے وہیں اقلیتوں اور تہذیبی گروہوں کے حقوق بھی تسلیم کیے ہیں اس تصور کا عملی نمونہ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا ہے ، اہم مسئلہ تو سماجی معاشی یا تعلیمی لحاظ سے پسماندہ گروہوں کی ترقی کا مسئلہ ہے ، ہم جتنا اس پر زیر بحث رہیں گے یہ اتنی گہرائی میں لے جاکر آئینہ بتائے گا ، اب بھی وقت ہیں ہم اللّٰہ سے جڑ کر اپنے لئے صحیح راستے کا انتخاب کرلیں ، اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعے جس وفا کا عہد بتایا ہے کیا ہم اس پر جمے ہوئے ہیں ، ہم سے تو صرف ایک عہد ہی تو کرایا گیا کہ واحد لاشریک کی ذات ہی وفا کے لئے بنی ہیں ، ہم نے اپنے مفاد کے لئے وفا کو بھول گئے عہد کے گن گاتے پھرتے ہیں لیکن عمل ندارد ، جس کا لوگ فائیدہ اٹھا رہے ہیں ، ان شاءاللہ ,, لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ،، کے عہد پر ہم ضرور سچ ثابت ہونے کی کوشش کریں گے اور دونوں جہان پانے کی امید رکھیں گے ،
اللّٰہ ہمیں اپنی وفا کے لئے ثابت قدمی عطاء فرمائے آمین