کیا ہم اپنے بچوں کو واقعی سنتے ہیں؟کیا ہم اپنے بچوں کو واقعی سنتے ہیں
بچے جب ہم سے کوئی بات کرتے ہیں تو کیا ہم واقعی ان کی بات سنتے ہیں، یا صرف جواب دینے کے لیے ان کی بات ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں؟
اکثر بچے اپنی چھوٹی چھوٹی باتوں، سوال
12 اکتوبر، 2026
بچے جب ہم سے کوئی بات کرتے ہیں تو کیا ہم واقعی ان کی بات سنتے ہیں، یا صرف جواب دینے کے لیے ان کی بات ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں؟
اکثر بچے اپنی چھوٹی چھوٹی باتوں، سوالات اور احساسات کے ذریعے ہم سے جڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ہر بار انہیں ڈانٹ دیں، نظر انداز کر دیں یا فوراً اپنا فیصلہ سنا دیں تو آہستہ آہستہ وہ اپنی باتیں ہمارے ساتھ شیئر کرنا کم کر دیتے ہیں۔
بچے کو سننے کا مطلب صرف اس کی بات سن لینا نہیں، بلکہ اس کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کرنا بھی ہے۔ جب بچہ پریشان ہو تو فوراً حل بتانے کے بجائے پہلے پوچھیں، “کیا ہوا؟ مجھے بتاؤ۔”
اسے یقین دلائیں کہ اس کی بات اہم ہے، اس کے جذبات قابلِ قدر ہیں اور وہ اپنی پریشانی آپ کے ساتھ بلا خوف شیئر کر سکتا ہے۔
یاد رکھیں، آج آپ اپنے بچے کی بات جس توجہ سے سنیں گے، کل وہ اپنی زندگی کی بڑی سے بڑی بات بھی آپ کے ساتھ اسی اعتماد سے شیئر کر سکے گا۔
کبھی کبھی بچے کو کسی حل کی نہیں، صرف ایک ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو خاموشی سے اسے سن لے۔
محمد مرسلین امبیڈکرنگر ی