*غامدیت عصرِ حاضر کے بڑے فتنوں میں سے ہے*

✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
______________________________

فتنوں کے اس ہنگامہ خیز دور میں جب ہر روز ایک نیا نظریہ دین کی تعبیر بدلنے کی کوشش کر رہا ہے حق و باطل میں امتیاز پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
اس پُرفتن زمانے میں جبکہ چہار سو فتنوں کا سیلاب امڈ آیا ہے یکے بعد دیگرے علمائے کرام کا دنیا سے رخصت ہونا بھی امت کے لیے نہایت دردناک سانحہ ہے۔
ایسے نازک حالات میں ہم سب کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہیں کیونکہ اللہ ربّ العزت نے دعوت و تبلیغ اور اصلاحِ معاشرہ کی عظیم ذمہ داری ادا کرنے کے سبب ہمیں خیرِ امت کا شرف عطا فرمایا ہے۔ یہ فضیلت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب ہم پوری دیانت کے ساتھ اپنی دعوتی و تبلیغی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کریں۔
تجدد پسند افکار کے علمبرداروں میں سرسید احمد خان عبداللہ چکڑالوی غلام احمد پرویز مولانا فراہی مولانا امین احسن اصلاحی اور ان کے نامور شاگرد جاوید احمد غامدی نمایاں نام سمجھے جاتے ہیں۔ کیونکہ غامدی صاحب چونکہ میڈیا کے دور میں سامنے آئے ہیں اس لیے ان کے افکار زیادہ وسیع پیمانے پر پھیلے اور ان کے نظریات نے عوامی سطح پر غیر معمولی اثرات مرتب کیے ہیں۔
جاوید احمد غامدی کے نظریات کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ دینِ اسلام کی تفہیم میں انسانی فطرت عربی محاورات اور دورِ جاہلیت کے اشعار کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں جبکہ احادیثِ نبویہ کو صرف روایات قرار دے کر ثانوی یا ثالثی حیثیت دیتے ہیں۔ بعض مواقع پر وہ بعض احادیث کو قرآن سے متصادم قرار دے کر قبول کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں اور سنت کی ایک نئی تعریف پیش کرتے ہوئے اس کا ماخذ تواترِ عملی کو قرار دیتے ہیں۔
جاوید احمد غامدی کی پیدائش 18 اپریل 1951ء کو ضلع ساہیوال (پاکستان) کے قریب واقع گاؤں جیون شاہ میں ہوئی۔ ان کا آبائی تعلق ضلع سیالکوٹ کے قصبہ داؤد سے ہے اور خاندانی پیشہ زمینداری رہا ہے۔ انہوں نے مدرسۂ فراہی کے معروف عالم و محقق مولانا امین احسن اصلاحی سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔
بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ کسی شخصیت کی ذاتی زندگی کو زیرِ بحث لانا اخلاقیات کے خلاف ہے لیکن اسلامی روایت اس تصور کی تائید نہیں کرتی۔ ہمارے محدثین نے بھی کسی راوی کی روایت قبول کرنے سے پہلے اس کی دیانت کردار اور ثقاہت کو جرح و تعدیل کے اصولوں پر پرکھا پھر اس کی روایت کو قبول یا رد کیا۔
غامدی صاحب پر یہ تنقید بھی کی جاتی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً اپنے نظریات میں تبدیلی کرتے رہتے ہیں اور اسے فکری ارتقا کا عنوان دیتے ہیں مگر اپنی سابقہ آراء سے واضح رجوع کا اعلان نہیں کرتے۔ ان کی کتابوں کے نئے ایڈیشنوں میں متعدد ترمیمات شامل ہوتی ہیں لیکن سابقہ موقف سے رجوع کی صراحت عموماً موجود نہیں ہوتی۔
اسی طرح وہ اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اہلِ سنت خصوصاً احناف سے ان کا کوئی بنیادی اختلاف نہیں بلکہ صرف تعبیر کا فرق ہے۔ ناقدین کے نزدیک اگر اختلاف محض اجتہادی مسائل میں ہو تو تعبیر کا فرق قابلِ قبول ہو سکتا ہے لیکن اگر معاملہ دین کے قطعی نصوص اور مسلمہ عقائد کا ہو تو غلط تعبیر انسان کو ضلالت بلکہ کفر تک پہنچا سکتی ہے۔
مثال کے طور پر قادیانی حضرات بھی قرآنِ کریم پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر خاتم النبیین کی غلط تعبیر نے انہیں ختمِ نبوت کے عقیدے سے منحرف کر دیا جس کے نتیجے میں امتِ مسلمہ نے انہیں دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا۔ ناقدین کے نزدیک حدیث و سنت کے بارے میں غلط تعبیرات بھی بالآخر انکارِ حدیث و سنت جیسے خطرناک نتائج تک پہنچا سکتی ہیں۔

ہمارے نوجوان نسل کو اس حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ نوجوان جن سوالات کا جواب چاہتا ہے اور اگر اسے اپنے دینی سوالات کے تشفی بخش جوابات مستند علماء سے نہ ملیں تو وہ ان جوابات کی تلاش میں مختلف پلیٹ فارمز کا رخ کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فکری لغزش کا آغاز ہوسکتا ہے۔ لہذا ہم علماء طبقہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ نوجوانوں کے سوالات کو دبانے کے بجائے انہیں محبت اور مضبوط علمی دلائل کے ساتھ سمجھایا جائے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دین کوئی ایسا میدان نہیں جس میں ہر شخص اپنی پسند کے مطابق نئی تعبیر پیش کرتا رہے۔ قرآن کریم احادیث نبویہ سنت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور امت کے مستند علمی ذخیرے نے دین کو سمجھنے کے لیے ایک مضبوط علمی روایت قائم کی ہے۔ اس روایت سے بے نیاز ہو کر دین کی نئی تعبیر پیش کرنا معمولی معاملہ نہیں اس کے نتائج انتہائی دور رس ہوسکتے ہیں۔
فتنوں کے اس دور میں ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کریں اپنی دینی معلومات کو مستند بنائیں اہل علم سے وابستہ رہیں اور ہر نئی فکر کو صرف اس لیے قبول نہ کریں کہ اس کے اندازِ بیان میں جدت اور کشش پائی جاتی ہے۔ حق کی پہچان ہمیشہ اس کے خوب صورت الفاظ سے نہیں بلکہ قرآن و سنت اور صحیح علمی اصولوں کے مطابق ہونے سے ہوتی ہے۔
اللہ ربّ العزت ہمیں ہر ظاہر و باطن فتنے سے محفوظ فرمائے قرآن و سنت پر ثابت قدم رکھے اور ہمیں دین کی صحیح خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔