*کیا ہماری بہنیں محفوظ ہیں؟*
ایک جھنجھوڑ دینے والا اقتباس
چند دن پہلے ایک ایسا اقتباس پڑھنے کا موقع ملا جس نے مجھے اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس اقتباس میں ایک نوجوان اور ایک شخص کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ذکر تھا۔ واقعہ پڑھتے ہوئے بار بار ذہن میں یہی سوال گردش کرتا رہا کہ اس گفتگو میں بیان کی گئی باتوں میں حقیقت کا پہلو موجود ہے تو کیا ہم نے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی دینی تربیت اور ان کی حفاظت کے لیے کوئی مؤثر انتظام کیا ہے؟تو عقل ایسے جوابات کی فہرست گنانے لگی جس نے مجھے مزید الجھنوں میں ڈال دیا اگر کالج دیکھیں جائیں تو عریانیت و فحش کا اڈا ہیں۔یونیورسٹیاں دیکھیں جائیں تو کالج سے دس قدم آگے۔پھر ایک طرف جا کر ذہن رک گیا وہ تھے مدارس لیکن جب تحقیقی نظر سے دیکھا تو اس میں بھی بہت کمی نظر آئیں لیکن باقی سب سے اچھا تھا۔اس سوال کو یہیں چھوڑ کر آپ حضرات کے ذمے جواب ہے۔
*اب ذرا اقتباس کی طرف چلتے ہیں*
اقتباس کے مطابق ایک نوجوان نے ایک شخص سے اردو کا اخبار طلب کیا۔ جب اسے بتایا گیا کہ یہ اردو کا اخبار ہے تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ وہ تھوڑی بہت اردو پڑھ لیتا ہے۔ اس پر گفتگو کرنے والے شخص کو خیال ہوا کہ شاید یہ نوجوان مسلمان ہے، کیونکہ آج خود ہمارے بہت سے مسلم نوجوان بھی اردو پڑھنے اور لکھنے سے ناواقف ہیں۔ لیکن اس نوجوان نے خود ہی بتایا کہ اس کی *گرل فرینڈ مسلمان ہے* اور اسی نے اسے اردو پڑھنا لکھنا سکھایا ہے۔ مزید گفتگو ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ خاندانی طور پر ہندو ہے اور نظریاتی طور پر خود کو ملحد کہتا ہے، البتہ اسلام کے بارے میں جاننے اور مسلمان ہونے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے گھر والوں اور سماج کے خوف سے اپنی خواہش کا کھل کر اظہار نہیں کر پاتا۔
اقتباس میں اس نوجوان سے منسوب گفتگو کے مطابق اس نے دعویٰ کیا کہ بعض ہندو تنظیمیں مسلمان لڑکیوں کو اپنے مذہب سے بدظن کرنے کے لیے منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ اس کے بقول بعض خواتین کو طلاق، گھریلو مظالم اور آزادی کے نام پر ورغلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض لڑکوں کو اردو زبان سکھا کر مسلم لڑکیوں سے قربت پیدا کرنے اور انہیں اپنے مذہب سے دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے مطابق بعض معاملات میں لڑکیوں کو گمراہ کرنے کے عوض مالی لالچ بھی دیا جاتا ہے۔ یہ تمام باتیں واضح ہیں مسلم معاشرے پر اور یہ تمام دعوے اسی اقتباس میں بیان کیے گئے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق ہمارے سامنے موجود ہے۔اس نوجوان سے منسوب ایک جملہ دل کو چھو لینے والا تھا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ اگر اسے پیسے کمانے کا موقع ملے تو وہ ایسی پیش کش کیوں ٹھکرائے گا، تو اس نے جواب دیا کہ ظلم کوئی بھی کرے، خواہ ہندو ہو یا مسلمان، ظلم بہرحال ظلم ہے اور ظلم کرنے والا اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔
یہ جملہ پڑھ کر انسان کو اپنے کردار کا محاسبہ ضرور کرنا چاہیے۔ اگر ایک غیر مسلم نوجوان بھی ظلم کو ظلم سمجھنے کی بات کرتا ہے تو ہمیں بھی اپنے معاشرے میں سوچنا چاہیے کہ جس دین کے پیروکار ہی اخلاقیات بانی ہوں پھر وہ قوم کیوں کر پیچھے ہے۔اخلاق اور کردار کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔ اور اپنی بہنوں کے لیے تربیت اور حفاظت سے غافل رہنا بھی دانش مندی نہیں ہے۔
*آج سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کون سی تنظیم کیا کر رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنی نسلوں کی دینی، اخلاقی اور فکری تربیت کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے اپنی بیٹیوں کو اتنا دین سکھایا ہے کہ وہ اسلام کے بنیادی عقائد سے واقف ہوں؟ کیا انہیں حلال و حرام کی تمیز، اچھے اور برے کی پہچان اور صحیح و غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت دی ہے؟ کیا ہم نے ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اس انداز میں پیدا کی ہے کہ وہ زندگی کے نشیب و فراز میں اپنے دین پر ثابت قدم رہ سکیں؟* جوابات آپکے ذمے ہیں۔
یاد رکھیے محض پابندیاں لگا دینا تربیت نہیں ہے۔ صرف یہ کہہ دینا کہ فلاں سے بات مت کرو اور فلاں جگہ مت جاؤ کافی نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو دین کی سمجھ دیں انہیں اعتماد کے ساتھ صحیح بات کہنے کا سلیقہ سکھائیں ان کے سوالات سنیں اور ان کی الجھنوں کو محبت اور حکمت کے ساتھ دور کریں۔ اگر گھر میں انہیں رہنمائی محبت اور اعتماد نہیں ملے گا تو ممکن ہے کہ وہ اپنی الجھنوں کے جواب کہیں اور تلاش کرنے لگیں۔اور اسی کا نتیجہ ہے جو آج بہادر قوم کی بچیاں دوسروں کی نفس پرستی کا شکار ہو رہی ہیں۔
ہمیں اپنی بہنوں کو یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ ہر میٹھی گفتگو سچی نہیں ہوتی ہر ہمدردی بے غرض نہیں ہوتی اور ہر تعلق خیر خواہی پر مبنی نہیں ہوتا۔ کسی کی زبان لباس شاعری یا خوش اخلاقی سے متاثر ہونے کے بجائے اس کے کردار نیت اور عمل کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسی طرح ہمیں اپنے بیٹوں کی تربیت بھی کرنی ہوگی کہ وہ ہر عورت کی عزت کریں اور کسی کے جذبات اعتماد یا مذہب کو اپنے مفاد کے لیے استعمال نہ کریں۔یہاں ایک اور بات بھی قابلِ غور ہے کہ کالج، اسکول اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا بذاتِ خود کسی لڑکی کے لیے گمراہی کی دلیل نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہماری بچیاں دینی شعور، اخلاقی پختگی اور مناسب رہنمائی کے ساتھ تعلیم حاصل کریں۔ ہمیں ان کے لیے علم کے دروازے بند کرنے کے بجائے انہیں اتنا مضبوط بنانا چاہیے کہ وہ مختلف نظریات اور ماحول کے درمیان رہتے ہوئے بھی اپنی دینی شناخت برقرار رکھ سکیں۔
میں نے یہ اقتباس پڑھا تو دل میں کئی سوالات پیدا ہوئے۔ *کیا ہمارے گھروں میں بچیوں کی دینی تعلیم و تربیت کا مناسب انتظام ہے؟ کیا والدین اپنی اولاد کے دوستوں تعلقات اور ذہنی کیفیت سے واقف رہتے ہیں؟ کیا ہمارے مدارس علماء اور دینی ادارے نئی نسل کے بدلتے ہوئے حالات کو سمجھتے ہوئے ان کی رہنمائی کر رہے ہیں؟ اور کیا ہم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کر رہے ہیں جہاں وہ بلا خوف اپنے مسائل بیان کر سکیں؟*
ہمیں کسی قوم یا مذہب کے تمام افراد کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھ سکتے۔ اچھے اور برے لوگ ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں۔ اسلام ہمیں انصاف تحقیق اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور اپنی نسلوں کو دینی و اخلاقی اعتبار سے مضبوط بنائیں۔آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ ہماری بہنوں کی حفاظت صرف دیواریں کھڑی کرنے سے نہیں بلکہ ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی، ذہنوں میں صحیح شعور اور زندگی میں اچھے کردار کی بنیاد مضبوط کرنے سے ہوگی۔ والدین اپنی اولاد کے لیے وقت نکالیں، علماء حکمت کے ساتھ رہنمائی کریں، تعلیمی ادارے اخلاقی تربیت پر توجہ دیں اور خود ہماری بہنیں بھی اپنے دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔
اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی حفاظت فرمائے انہیں دینِ اسلام پر ثابت قدم رکھے ہر قسم کے ظلم، فریب اور استحصال سے محفوظ فرمائے اور ہمیں اپنی نسلوں کی صحیح تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*