*مدارس میں طلبہ کی کمی اور مساجد میں ائمہ کی عدم موجودگی: ایک لمحۂ فکریہ!*

گزشتہ پانچ چھ برسوں سے دیکھ رہا ہوں کہ مدارس میں طلبہ کی تعداد مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ 
بڑے اور قدیم مدارس بھی اس صورتِ حال سے دوچار ہیں، جبکہ دوسری طرف کانوینٹ اسکولوں اور کوچنگ سینٹروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 
والدین دنیاوی تعلیم پر بھاری رقم خرچ کرنے کو تیار ہیں، لیکن مفت تعلیم، عمدہ رہائش اور دیگر سہولیات کے باوجود مدارس میں بچوں کو بھیجنے میں وہ دلچسپی نظر نہیں آتی۔

*کیا ہم نے کبھی اس صورتِ حال پر سنجیدگی سے غور کیا؟*

ایک نوجوان برسوں محنت کرکے عالم بنتا ہے، لیکن فراغت کے بعد اسے مناسب روزگار اور باعزت مشاہرہ نہیں مل پاتا۔ 
یہی وجہ ہے کہ بہت سے علماء بھی اپنے بچوں کے مستقبل کے پیشِ نظر انہیں دینی تعلیم کے بجائے دنیاوی تعلیم کی طرف لے جانے لگتے ہیں۔ 
جب علماء کے اپنے گھرانوں میں یہ صورتِ حال ہو تو عام لوگوں پر اس کا اثر پڑنا فطری ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بہت سی مساجد مستقل امام سے محروم ہیں، اور جہاں امام موجود ہیں، وہاں بعض کو اتنا کم مشاہرہ دیا جاتا ہے کہ گزر بسر مشکل ہو جاتی ہے۔
ذرا سوچیے! ہم اپنے بچوں کے لیے چاکلیٹ، کرکرے اور کھلونوں پر روزانہ 25 سے 50 روپے خرچ کر دیتے ہیں، لیکن مسجد کے امام کے لیے مناسب مشاہرے کا انتظام کرنے میں تردد محسوس کرتے ہیں۔

اگر محلے کے صرف 100 گھرانے روزانہ 5 روپے اپنی مسجد کے امام کے لیے جمع کریں تو ماہانہ تقریباً 15 ہزار روپے جمع ہو سکتے ہیں۔ ہر گھرانے پر ماہانہ صرف 150 روپے کا بوجھ پڑے گا۔
مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ ترجیحات کی کمی کا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب علماء اور حفاظ کی کمی محسوس ہوئی تو لوگوں نے مدارس قائم کیے اور نئی نسل کو دینی تعلیم سے آراستہ کیا۔ 
آج علماء اور حفاظ موجود ہیں، لیکن بہت سی مساجد میں ان کی خدمات حاصل کرنے اور انہیں باعزت مشاہرہ دینے کا اہتمام نہیں۔
اگر ہر محلہ اپنی مسجد کے لیے ایک باصلاحیت امام مقرر کرے اور اہلِ محلہ مل کر اس کے مشاہرے کی ذمہ داری اٹھائیں تو ہزاروں علماء کے لیے خدمتِ دین کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، مساجد آباد ہو سکتی ہیں اور نئی نسل کی دینی تربیت کا سلسلہ مضبوط ہو سکتا ہے۔

علماء اور ائمہ کی خدمت ان پر احسان نہیں، بلکہ اپنے دین، اپنی نماز اور اپنی نسلوں کے مستقبل کی حفاظت ہے۔
آج اگر ہم ان کی قدر نہیں کریں گے تو کل کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری مساجد تو موجود ہوں، مگر انہیں آباد رکھنے والے اہلِ علم میسر نہ ہوں!

 
اُم حمدان بن سلمان سدھارتھ نگری 💫