ذکرِ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)
صرف مسلم کا محمد پے اجارہ تو نہیں !!

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی عظیم ہستی ہیں جن کی عظمت کو غیر بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہیں، بلکہ کہنا چاہیے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ کے تقدس وبزرگی کو ماننے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں۔ اسلام سے ہٹ کر، ایمان کو ایک طرف رکھ کر، دین وشریعت سے قطعِ نظر صرف انسانیت کے آئینے میں اگر اس شخص پر نظر ڈالی جائے جو آج سے 1400/ سال قبل عرب کی سرزمین پر ظاہر ہوا تھا تو قسم بہ خدا بلا مبالغہ وبلا تقابل کوئی اس کا ہمسر نہ ملے گا۔ نہ اس کا مثل ہے، نہ اس کی مثال۔ شاعر کہتا ہے:
مصطفیٰ آپ کے جیسا کوئی آیا ہی نہیں
آتا بھی کیسے جب اللہ نے بنایا ہی نہیں

وہ شخص محمد کے نام سے معروف ہوا، اپنے اخلاقِ حسنہ کی بناء پر نزولِ وحی سے قبل ہی صادق اور امین جیسے القابات کے ساتھ مشہور ہوا۔ لوگوں کے لئے ایک غم خوار اور حقیقی محسن کے روپ میں سامنے آیا، اس کی امانت ودیانت کو دیکھ کر سردارانِ قریش کو خواہی نہ خواہی اعتبار واعتماد کرنا پڑا، تعبیرِ کعبہ کے موقع پر حجرِ اسود کو اٹھانے کے تعلق سے اس کا نام آیا تو سارے لوگوں نے یک زبان ہو کر تائید کی اور اس کے فیصلے پر نہ صرف یہ کہ راضی ہوئے، بلکہ فیصلہ کی تحسین بھی کی۔

غرض یہ کہ ابھی وہ صرف محمد تھے، نہ "رسول" کے ساتھ ملقب ہوئے تھے اور نہ "نبی" سے مشہور، نہ وحی کا نزول ہوا تھا اور نہ بشارتِ نبوت ورسالت۔ مگر ہر فرد اس کی تعریف وتوصیف کرنے پر مجبور تھا، ہر آدمی اس پر جان نچھاور کرنے کو سعادت سمجھتا تھا، لوگ بڑی بڑی رقمیں اس کے پاس امانت رکھتے تھے، تاریخ گواہ ہے، کبھی کوئی خیانت کا شائبہ تک نظر نہیں آیا۔ ایسے تھے ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم!

ہر بشر اس پر اپنے سے زیادہ بھروسہ کرتا تھا، ہر انسان اسے اپنا رہبر و رہنما اور قائد تسلیم کرنے پر مجبور ہوا، کیوں کہ زمین وآسمان نے آج تک اس شخص سے زیادہ مخلص، محسن، مشفق اور غریبوں کا ہمسر نہیں دیکھا۔ اس نے حسنِ سلوک کی تعلیم دی ہے، معاشرت کے اصول سکھلائے، زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھلایا، ہر ہر قدم پر رہبری و رہ نمائی فرمائی۔ پڑوسیوں کے حقوق بڑی باریکی کے ساتھ بیان کئے، یتیموں اور مسکینوں کا ہر لمحہ خیال رکھا، صلہ رحمی کے بے شمار فضائل بیان کئے اور قطع رحمی کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
غرض یہ کہ معاشرتی زندگی سے متعلق باریک سے باریک تر چیزوں کو نہایت اہتمام اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا اور انہیں چیزوں کی اپنی امت کو تعلیم دی۔
یہ ہیں میرے نبی کی تعلیمات، دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں، جس میں معمولی سے معمولی چیز کو اس قدر تفصیل سے بیان کیا گیا ہو، اخلاق وکردار میں پورے کرۂ ارض پر میرے نبی کا کوئی ثانی نہیں۔ یہی وجہ ہے ایک سکھ (کنور مہندر سنگھ بیدی سحر) نے ہمارے نبئ مکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں ڈوب کر کیا ہی زبردست نعتیہ اشعار کہے ہیں، واللہ انہیں پڑھ کر ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ آپ بھی پڑھیں اور خصوصاً آخری شعر:

ہم کسی دین سے ہوں قائلِ کردار تو ہیں
ہم ثنا خوان شہِ حیدرِ کرار تو ہیں

نام لیوا ہیں محمد کے پرستار تو ہیں
یعنی مجبور پئے احمد مختار تو ہیں

عشق ہو جائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمد ﷺ پہ اجارہ تو نہیں
(مکمل نعت اور طویل ہے)

تحریر: عبداللہ یوسف
26/ربیع الثانی 1448ھ۔
9/اکتوبر 2026ء جمعہ