*قوم کی ترقی کا راز* 

✍🏻گل رضا راہی ارریاوی 

   کسی قوم کی نشوونما اور ترقی کا انحصار اس قوم کی فکری اور حیثیتی میدان میں تربیت پر ہوتا ہے، جن قوم کے افراد کی سوچ اور روشن خیالی کی نشوونما نہیں ہوتی ،ان قوموں کی ترقی کی امید نہیں کی جا سکتی-

 قوموں کی ترقی کے لیے قوم کے افراد کا قومی مقصد اور ہدف کے بارے میں متفق ہونا لازمی ہے -ایک ایسے معاشرے میں جہاں کوئی شخص ایک چیز کو سفید کہے اور دوسرا اسی کو سیاہ اور جہاں کہیں بھی بائیں بازو سے ٹکراؤ ہو جائے اور کبھی دائیں بازو سے ،تو وہاں کسی حالت میں بھی ترقی اور نشو ونما نہیں ہو سکتی-

 جن نسلوں نے مشترک تربیت نہ پائی ہو ،وہ انفرادی طور پر سیکھی ہوئی ثقافت کے مطابق ہمیشہ الگ الگ گروہوں میں تقسیم رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو دشمن سمجھتے ہیں- ایک ایسا معاشرہ جو اندرونی طور پر ٹکڑے ہو چکا ہو ،اس سے ترقی کی امید رکھنا اگر خلاف عقل نہ بھی ہو تو کم از کم اتنا مشکل ضرور ہے کہ اسے ناممکن کہا جائے-

 ترقی کا ہر کام پہلے تصور اور سوچ کی شکل میں سامنے اتا ہے پھر عوام سے قبولیت حاصل کی جاتی ہے، اور اس کے بعد ان لوگوں کی ہمت سے پایۂ تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے، جو ہاتھ سے ہاتھ اور دل سے دل ملا کر کام کرتے ہیں ،اس کے برعکس ترقی کے ہر کوشش اگر سوچ کے مرحلے میں علم کا ٹھپہ نہ لگوائے یا اتنی بدقسمتی ہو کہ اسے عوام کے سامنے تفصیلا بیان نہ کیا جا سکا تو اس کی قسمت میں اس کا انجام صفر ہی لکھا ہوگا -

 *حاصل گفتگو:* یہ ہے کہ قوموں کی ترقی کے لیے باہمی اتحاد، مثبت سوچ، روشن خیالی، مقصد میں انہماک، افراد کی تربیت، ماضی کے خسارے پر گہری نظر بہت ضروری ہے اگر یہ چیزیں نہ ہو تو کوئی قوم کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا کیونکہ یہ بنیادی اصول ہے ،اس سے انحراف کے نقصان کا مشاہدہ ہم موجودہ ہندوستان کی صورت حال سے کرسکتے ہیں کہ یہ ملک دن بہ دن تنزلی کی راہ اختیار کررہاہے اور کوئی اس پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہے-

اللہ تعالی فہم سلیم عطافرماۓ آمین