متاع درد 

✍🏻گل رضا راہی ارریاوی 

تمام مخلوقات کی حقیقت عدم ہے ،چونکہ وہ عدم سے آیاہے لہذا عدم اس کی فطرت ہے ،یہی اس کی اصلیت ہے "کل شیئ یعود الی اصلہ "
موت کا وقت مقرر ہے ،وہ اپنے وقت پر آجاتا ہے،جب اس کا وقت آجاتا ہے تو بغیر کسی لاگ لپیٹ ،طول وامل کے خود کو اسکےسپرد کرنا پڑتا ہے،اس سے بھاگنا ناممکن ہے،زندگی کی یہی حقیقت کہ اسے ختم ہونا ہے،یہ دنیا ہے یہاں کسی کو بقانہیں بلکہ بقا کو بقا بھی نہیں بس فناہی فناہے" کل من علیھا فان " خیر موت اٹل فیصلہ ہے ، اس سے کسی کو فرار نہیں -
جوبھی دنیا میں آیا ہے جانے کےلیے آیا ہے،اور مومن کو تو جاناہی ہے، رات مجھے بڑے بھائی نے فون کیا خیر دریافت کرنے کے بعد یہ اندوہناک و دلسوز خبر دی کہ ہمارے سرپرست ورہنما، مخدوم گرامی، مشفق ومحسن بزرگوار خالو جناب ماسٹر شمیم صاحب ایک سڑک حادثے میں راہی ملک بقا ہوگیے اناللہ واناالیه راجعون ان للہ مآأخذ وله مآأعطی کل شیئ عندہ بأجل مسمی ،أللھم اغفرلہ وارحمه واجعل مثواہ فی الجنۃ آمین ،إن العين تدمع والقلب یحزن ولانقول إلا ما یرضی ربنا 

یہ خبر سن کر قلب و جگر قاش قاش ہوگیا ،دل میں ایک عجیب غم کی کیفیت چھاگئی ،نئی پرانی یادوں کی ایک بارات نکل پڑی ،ابھی کچھ ماہ پہلے ہمارے بڑے پھوپھا جناب فضل الرحمان صاحب انتقال ہوۓ،یہ غم سے نکلے بھی نہ تھے کہ اب مرحوم چل بسے، یہ سب ہمارے خاندان اور رشتوں کی بڑی اہم کڑی تھے جن کے ساۓ میں ہم والد کی کمی کو زیادہ محسوس نہیں کرتے تھے ، کیوں کہ ان کی پدری شفقت ملتی رہتی تھی، ہمارے خاندان کے ہر اہم معاملے میں انہیں یاد کیا جاتاتھا، ان کی راۓ کو ترجیح دی جاتی تھی ،کیوں کہ یہ حضرات معمر ومجرب تھے ، زندگی کے نشیب و فراز اور اسکی پیچ و خم سے بخوبی واقف تھے، ہمارے اس سلسلے کی آخری کڑے یہ خالو تھے مگر اب یہ کڑی بھی ٹوٹ گئی اور ہم سب یتیم ہوگیے ہم کیا تعزیت کریں ہم خود تعزیت کے مستحق ہیں -
مرحوم بےشمارخوبیوں کے حامل تھے ،جن کو ہمارے تمام رشتہ دار جانتے اور مانتے تھے اور موقع موقع سے اس کا اعتراف بھی کرتے تھے،ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں گزری ہے،انہوں نے ایک عرصہ تک اسکولوں میں پڑھایاہے ،نہ جانے کتنے بچوں کے مستقبل کو سنوارا ،جب وہ اس ذمہ داری سے سبکدوش ہوۓ تو مخلتف بیماریاں لاحق ہوگئی،گھر پہ رہتے تھے، کھیت کھلیان دیکھتے تھے،مرحوم بڑے ہی خلیق وملنسار ،خوش مزاج تھے،سب رشتہ داروں کا خیال رکھتے تھے،جب بھی کسی اہم امور میں یاد کیاجاتا تو آپ تشریف لاتے اور مسائل کو حل کرتے ، صوم وصلوۃ کے پابند اور غربیوں کی مدد کرتے تھے، سب کے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے ،میں نے اپنی زندگی میں انہیں نزم مزاج پایا ،والد صاحب رحمہ اللہ اور مرحوم خالو کے تعلقات بڑے خوش گوار تھے ،قلبی تعلق تھا، اب دونوں نہیں رہے -

 اللہ تعالی ہمارے خالو کی بال بال مغفرت فرماۓ،حسنات کو قبول فرماۓ ،سیئات سے در گزر فرماۓ، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرماۓ،اور ہمیں صبر جمیل عطافرماۓ،
 آمیں
 آسماں تری لحد پہ شبنم آسمانی افشانی کرے 
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے