تاریخ کا بکھرا ہوا ورق بابری مسجد اور ہمارا اجتماعی صدمہ۔
بقلم ✍🏻محمد عادل ارریاوی
_____________________________________
محترم قارئین اسلام میں مساجد کا وہی مقام ہے جو انسانی جسم میں دل کا ہے دل کی حرکت سے زندگی شروع ہوتی ہے اسی طرح مسجد سے ایمانی زندگی کا آغاز ہوتا ہے دل کی حرکت بند ہونے کے بعد زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اسی طرح بمشکل ہی کسی ایسی مسلم آبادی کا تصور کیا جا سکتا ہے جہاں مسجد نہ ہو
ہمارے ملک ہندوستان کے ایک اہم مقام ایودھیا ضلع فیض آباد اتر پردیش میں ایک مسجد بابری مسجد کے نام سے تقریبا پانچ سو (500) سال پہلے تعمیر کی گئی تھی تاریخ تعمیر 1528ء سے 22 دسمبر 1949ء تک اس مسجد میں نماز با جماعت مسلمان ادا کرتے رہے 22 اور 23 دسمبر 1949ء کی درمیانی شب میں چوری چپکے سے مسجد میں مورتیاں رکھ دی گئیں اس کے بعد معاملہ پولس میں گیا اور آخر کار عدالت کے حکم سے مسجد مقفل کر دی گئی اور وہاں ایک پجاری کو بٹھا دیا گیا اور معاملہ جوں کا توں کم و بیش 46 سال تک باقی رہا اس کے بعد یکم فروری 1986ء کو کچھ سیاستدانوں نے اپنی سیاسی مصلحتوں کے تحت عدالت کے حکم سے تالا کھلوا دیا اور عام ہندوؤں کے لئے پوجا پاٹ کا موقع فراہم کیا گیا۔
دوسری طرف 1949ء سے الہ آباد ہائی کورٹ میں مسجد کی ملکیت کی بابت مقدمہ چل رہا تھا لیکن آج پچاس سال سے زائد ہوگیا ابھی تک عدالت کوئی فیصلہ نہیں کر سکی اور اب مسجد کی جگہ مندر بن گیا ۔ اور الٹے عدالت کے ذریعہ ہی ہندوؤں کو یہ موقع فراہم کیا گیا کہ وہ بزور مسجد کو منہدم کر دیں اور مسجد کی جگہ مندر کا نیا عارضی ڈھانچہ تیار کر لیں۔ یہ سارا عمل دن دہاڑے ساری دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہوا ہے۔ تیسری طرف مسجد کے رکھوالے یعنی ہندوستانی مسلمان ملک کی عدالت اور انتظامیہ پر بھروسہ کئے بیٹھے رہے۔ البتہ مسجد کے انہدام کے بعد پورے ملک میں سینکڑوں جو شیلے نو جوانوں نے اپنے غم و غصہ کا جب اظہار کیا تو شدت پسندوں نے انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا اور ان گشت مقامات پر فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ان ہنگاموں کے دوران جو واقعات پیش آئے ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مسلمانوں کو اس طرح مرعوب کر دینا چاہتی ہے کہ وہ آہ بھی نہ کرسکیں اور حکومت اپنے اس مقصد میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہو گئی ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کا ایک طبقہ فکری طور پر پسپا ہو چکا ہے جس میں مذہبی اور غیر مذہبی علماء اور جدید دانشور سب ہی شامل ہیں انتہا یہ ہے کہ بعض لوگوں نے بتوں کو منہدم کرنے پر طالبان کو خوب خوب ملامت کی لیکن مسجد کے گرانے والوں کو کچھ نہ کہہ سکے بلکہ الٹے مسجد سے دستبرداری ہی کو باعث خیر ثابت کرنے پر زور لگایا۔
مسجد سے متعلق جو مسئلہ ہمارے سامنے درپیش ہے وہ بابری مسجد کا مسئلہ ہے یہ مسئلہ مختلف اسباب کی بناء پر اتنی اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ ہندوستان کا کوئی لیڈر جب خطاب کرتا ہے یا کوئی مقالہ نگار یا تجزیہ نگار ملکی حالات پر قلم اُٹھاتا ہے تو کسی نہ کسی نوعیت سے بابری مسجد کا ذکر ضرور کرتا ہے۔ ملکی سیاست پر اس مسئلہ کے گہرے اثرات ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ جہاں ایک طرف بابری مسجد کے سلسلہ میں اپنے خاص طرز عمل کی بناء پر ہندوستان کی سب سے مضبوط اور سب سے قدیم پارٹی کانگریس کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا وہیں بی جے پی اپنے خاص طرز عمل اور رویہ کے ذریعہ اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوگئی تیسری طرف ایک عام تأثر یہ ہے کہ 6 دسمبر 1992ء کو واقع تأثر ہونے والے سانحہ کی بنا پر مسلم نو جوانوں میں ایک خاص قسم کی بیداری پیدا ہو گئی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پرانی مسلم قیادت کو اس سانحہ نے مزید بے حوصلہ بنا دیا ہے۔ جیسا کہ چند سطروں پہلے اس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے چنانچہ ان میں سے کوئی کہتا ہے کہ اس مسئلہ کو چھیڑ نے میں دعوتی مقاصد تباہ ہو جائیں گے کوئی بڑے ہی دانشورانہ اور علمی انداز میں بولتا ہے کہ اس مسئلہ کی وجہ سے مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی ترقی میں خلل ہوگا۔ کوئی صاحب فرماتے ہیں کہ ہم اقلیت میں ہیں کسی اقلیت کا اکثریت سے ٹکرانے کا مطلب آبیل مجھ کو بار ہے۔ اس مسئلہ میں پڑنا اپنے کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ کوئی صاحب بڑے حقیقت پسندانہ لب ولہجہ میں فرماتے ہیں کہ ایک مسجد کے جانے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ بے شمار مسجدیں موجود ہیں اور مزید کئی نئی مسجدیں بنائی جاسکتی ہیں۔
بابری مسجد کے مسئلہ سے صرف نظر کرنا اور اس سے اپنے کو دور رکھنا اور بچانا نہ صرف یہ کہ ایک دینی ذمہ داری کو ادا کرنے سے کترانا ہے اور آخرت کا سودا کرنے کے بجائے دنیا کے حقیر مفادات کی محبت میں گرفتار ہونا ہے نیز او پر اٹھنے کے بجائے پستی کی جانب گرنا ہے۔ بلکہ اس بات پر اپنی آمادگی اور رضا کا واضح طور پر اعلان ہے کہ بس ہماری جان بخش دی جائے ہم نمبر دو اور تین کے شہری بن کر رہنے کے لئے تیار ہیں۔ اس پہلو سے بابری مسجد کا مسئلہ ہندوستان میں ملت اسلامیہ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے بلکہ اس ایک مسئلہ میں سارے مسائل ضم ہو گئے ہیں مسلمانوں کے ان گنت مسائل اگر حل ہوں گے تو اسی مسئلہ کے حل ہونے کی صورت میں حل ہوں گے۔ اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا تو آئندہ بھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا جیسے کہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ میں ایک مسئلہ بھی حل نہیں ہوا ہے بلکہ لا یحل مسائل میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ قدرت کی مہربانی کہ اس نے ہمارے سارے مسائل کو ایک مسئلہ میں سمیٹ دیا ہے جیسے کسی فوج کو درجنوں محاذوں پر لڑنے کے بجائے قدرت نے ایسے حالات پیدا کر دیئے ہوں کہ وہ ایک ہی محاذ پر قوت آزمائی کرے اور اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا کر فتح مند ہو جائے یا اپنے سکتے پن کا ثبوت دے کر پسپا ہو جائے۔
امام رازی نے اپنی تفسیر میں آیت إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللہ کے تحت لکھا ہے کہ مسجد کی آباد کاری ایمان کی دلیل ہے بلکہ لفظ انما سے اشارہ ہو رہا ہے کہ ایمان صرف انہیں لوگوں میں ہوگا جن کے اندر مسجد کو آباد کرنے کی صفت پائی جائے گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آنے کے بعد سب سے پہلے مسجد بنائی اس کے بعد ازواج مطہرات کے حجرے بنائے گئے۔ کعبۃ اللہ بھی ایک مسجد ہے اس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھنا مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے۔ دنیا کی تمام مسجدیں اس مرکزی مسجد کی شاخیں ہیں۔ اسی طرح دنیا کی کسی مسجد کی بے حرمتی کعبۃ اللہ کی بے حرمتی کے ہم معنی ہے اور کسی بھی مسجد کی خدمت اور آبادکاری کعبۃ اللہ کی خدمت اور آبادی سے ملتی جلتی چیز ہے۔ اِقامَتِ الصَّلوة کا حکم ایمان باللہ کے بعد پہلا حکم ہے اور ایمان کا ایک اہم ترین تقاضہ ہے۔ اس حکم کی تعمیل کے لئے مسجد ایک لازمی چیز ہے۔
مسجد اللہ کی ملکیت ہوتی ہے
ارشاد باری تعالی ہے:
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا
اور یہ کہ مسجدیں اللہ کی ہیں لہذا ان میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔
(سورة الجن : 18)
سلسلہ بیان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف جن باتوں کی وحی کی گئی ان میں ایک بات یہ بھی ہے کہ مسجد میں اللہ کے لئے خاص ہوتی ہیں۔
تفسیر کبیر میں اس آیت کا مفہوم یوں بیان کیا گیا ہے أَي فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا فِي الْمَسَاجِدَ لِأنَّهَا لِلَّهِ خَاصَّةٌ ۔ پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو سجدوں میں نہ پکارو اس لئے کہ مساجد اللہ کے لئے خاص ہیں۔
قرآن مجید میں کم از کم 19 جگہ مسجد اور 6 جگہ مساجد کا لفظ آیا ہے۔ ان سارے مقامات کو دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسجد اور مساجد سے مراد وہ جگہ ہے جو عبادت کے لئے مخصوص کی گئی ہو۔ اس کے باوجود بعض بزرگوں نے سات اعضاء دونوں ہاتھ دونوں قدم دونوں گھٹنے اور پیشانی کو مراد لیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت کے اطلاق سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ان اعضاء پر اللہ کے سوا کسی اور کے لئے سجدہ نہ کیا جائے۔ اسی طرح اس آیت اور حدیث میرے لئے پوری زمین مسجد بنا دی گئی ہے اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ زمین پر اللہ کے سوا کسی اور کو نہ پکارو بہر صورت مسجد اور مساجد سے مراد عبادت کے لئے مخصوص طور پر بنائی ہوئی جگہ ہے۔
آیت کے نزول کے وقت روئے زمین پر صرف دو مسجدیں تھیں ایک کعبتہ اللہ مکہ معظمہ میں اور دوسرے مسجد اقصٰی فلسطین میں اس کے باوجود جمع کا لفظ مساجد آیا ہے۔ غالبا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حکم رہتی دنیا تک زمین پر تعمیر ہونے والی تمام مساجدوں کے بارے میں دیا گیا ہے۔
مشرکین مکہ خانہ کعبہ میں اور یہود و نصاری اپنی اپنی عبادت گاہوں میں اللہ کے ساتھ کئی خداؤں کی پوجا کرتے تھے اور کئی بتوں کے سامنے سجدہ کرتے تھے اس پس منظر میں حکم دیا گیا کہ مساجد میں صرف اللہ کو پکارو اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو یعنی کسی اور کی عبادت نہ کرو اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ مساجد اللہ کے واسطے مختص ہوتی ہیں۔ اور اللہ کی ملکیت میں ہوتی ہیں۔ اللہ میں لام ملکیت کو بتاتا ہے جیسے: اِنَّ الْأَرْضَ لِلهِ بلاشبہ زمین اللہ کی ہے۔ انا للہ ہم اللہ کے ہیں۔
یہاں شرعی فقہی اور قانونی لحاظ سے ایک بڑی اہم بات معلوم ہوتی ہے کہ کسی بھی مسجد کا صرف اللہ کی عبادت کے لئے مختص ہونا اور کسی مسجد کا اللہ کی ملکیت ہونا کوئی ایسی بات نہیں ہے جو اجتہاد اور استنباط کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے بلکہ یہ حکم ہر مسجد کے لئے نص صریح سے ثابت ہے۔ یہ مسئلہ اجتہاد کے دائرے سے باہر ہے اسی بناء پر کسی فرد یا جماعت کو یہ حق حاصل نہیں ہو سکتا کہ وہ کسی مسجد کو غیر اللہ کی عبادت کے لئے دے دے یا اس کی ملکیت میں تبدیلی پیدا کر دے۔ مسجد کی ملکیت کے مسئلہ کو سمجھنے کے لئے ایک واقعہ کا ذکر کرنا یہاں نا مناسب نہ ہوگا۔ ہمارے معتبر واعظین بیان کرتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم صبح تک میری حدود سلطنت سے باہر چلی جاؤ ورنہ تم پر طلاق ہے۔ اس کے بعد سب کو پریشانی لاحق ہوگئی کہ صبح تک حدود سلطنت سے نکل جانے کی کوئی صورت نہیں ہے اس لئے طلاق واقع ہو جائے گی عام علماء اور مفتیان کے نزدیک اس کے علاوہ کہنے کی کوئی بات نہیں تھی۔ لیکن ایک بڑے فقیہ نے کہا کہ طلاق سے بچنے کی ایک صورت ہے اور وہ یہ ہے کہ بیگم صاحبہ صبح سے پہلے کسی مسجد میں چلی جائیں مسجد اللہ کی ملکیت ہوتی ہے کسی بھی بادشاہ کی سلطنت سے نہیں ہوتی ہے ۔ جن لوگوں نے ایک بابری مسجد کو ڈھایا ہے انہوں نے گویا دنیا کی تمام مسجدوں پر وار کیا ہے اور جن لوگوں نے ایک مسجد کو منہدم ہوتے ہوئے دیکھا ہے اور خاموش رہے اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے وہ بھی جرم میں شریک ہیں وہ جنہوں نے اللہ کے ایک گھر پر پھاؤڑا اور سٹیل چلا کر تمام مساجد اللہ کی حرمت کو پامال کرنے کی کوشش کی ہے ان کے جرم اور ظلم میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے لیکن کیا ہم جیسوں کا جرم بھی کچھ کم ہے؟ جو کہتے ہیں کہ بابری مسجد تا قیامت مسجد رہے گی جبکہ اس مسجد میں پتھر کی بے جان مورتیاں پوجی جا رہی ہیں اور مورتیوں کو ہٹانے کے لئے ذرا ہلنے اور جنبش کرنے کے لئے ہم تیار نہیں ہیں اور نہ اس کے لئے آمادہ ہیں کہ سڑک پر نکلیں اور پیروں میں گرد لگے اور شیروانی کرتے پائجامے پر شکن پڑے اور استری ٹوٹ جائے۔ جیل جانا پتھر کھانا لاٹھی چارج کا سامنا کرنا تو دور کی بات ہے ساری دوڑ دھوپ کی انتہا پوری احتیاط کے ساتھ زبان و قلم کا استعمال ہے اور بس۔ حالانکہ زبان و قلم کا استعمال معقول لوگوں کے لئے کارآمد ہوتا ہے جن کے پاس کوئی کردار ہو صحیح اور غلط کی جن کو تمیز نہیں جنہیں شرم و حیا ہو۔
اے اللہ ربّ العزت ہمارے دلوں کو ہدایت اتحاد ہمت اور غیرتِ ایمانی عطا فرما۔ ہمیں ظلم کے مقابلے میں صبر حکمت اور استقامت عطا فرما۔
اے اللہ ربّ العزت ہندوستان اور دنیا بھر کی مساجد کی حفاظت فرما
اور ہمیں اپنے گھروں کے حقوق ادا کرنے والا بنا دے آمین یا ربّ العالمین۔