تمہید
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانوں کو محبت، اخوت، ہمدردی، اتحاد اور اتفاق کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ میں مسلمانوں کو باہمی محبت کے ساتھ رہنے، اختلافات کو حکمت کے ساتھ حل کرنے اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ مسلمانوں کی اصل قوت ان کا ایمان، ان کا کردار اور ان کا باہمی اتحاد ہے۔
تبلیغی جماعت ایک ایسی دینی تحریک ہے جس نے طویل عرصے سے مسلمانوں میں نماز، ذکر، اصلاحِ نفس، دینی تعلیم اور دعوت و تبلیغ کا جذبہ بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اس تحریک سے وابستہ بے شمار افراد نے اپنی زندگیوں میں دینی اعمال کی پابندی پیدا کرنے اور دوسروں تک دین کی بات پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ تبلیغی جماعت میں بعض انتظامی، مشاورتی اور قیادت سے متعلق اختلافات سامنے آئے، جن کے نتیجے میں اس سے وابستہ لوگوں کے درمیان دو نمایاں حلقے وجود میں آئے۔ ان اختلافات نے بعض مقامات پر دینی حلقوں اور عام مسلمانوں کے درمیان بھی دوریاں پیدا کیں۔ ایسے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذبات، تعصب اور گروہی وابستگی سے بالاتر ہوکر قرآن و سنت کی روشنی میں اتحاد و اتفاق کی اہمیت کو سمجھیں۔
قرآنِ مجید کا پیغام: اتحاد اختیار کرو
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
ترجمہ: ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔‘‘
(سورۂ آلِ عمران: 103)
یہ آیت مسلمانوں کو واضح پیغام دیتی ہے کہ ان کی اصل ذمہ داری اللہ تعالیٰ کے دین کو مضبوطی سے تھامنا اور باہمی اختلافات کے باوجود اتحاد کو برقرار رکھنا ہے۔
اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص کی رائے ایک جیسی ہوجائے یا تمام اختلافات ختم ہوجائیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے حقوق، عزت اور دینی رشتے کا احترام باقی رہے۔
اگر ہم دین کی خدمت کرتے ہوئے بھی اپنے بھائیوں سے نفرت کرنے لگیں، ان کی نیتوں پر حملے کریں اور انہیں اپنے سے کمتر سمجھنے لگیں تو ہمیں اپنے رویوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔
اختلاف کی حقیقت اور اس کے آداب
اختلاف انسانی زندگی کا ایک فطری حصہ ہے۔ اہلِ علم کے درمیان بھی مختلف مسائل میں آرا کا اختلاف رہا ہے۔ ہر اختلاف کو فساد، دشمنی یا گمراہی کا سبب بنانا درست نہیں۔
تبلیغی جماعت کے موجودہ اختلافات کو بھی سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے تاریخی، انتظامی اور مشاورتی پس منظر کو سنجیدگی سے دیکھا جائے۔ کسی ایک فریق کے دعوے کو سنے بغیر دوسرے فریق کے خلاف فیصلہ صادر کرنا انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔
کسی شخص یا جماعت سے اختلاف رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر بات غلط اور اپنی ہر بات درست ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہم صحیح بات کو قبول کریں، غلطی کی نشاندہی حکمت سے کریں اور کسی کی نیت کے بارے میں بلا دلیل فیصلہ نہ سنائیں۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ
ترجمہ: ’’برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو بہترین ہو۔‘‘
(سورۂ فصلت: 34، متعلقہ آیت کا حصہ)
یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ اختلاف کے موقع پر سختی، طعن و تشنیع اور نفرت کے بجائے بہترین اخلاق، نرم گفتگو اور حکمت کو اختیار کرنا چاہیے۔
تبلیغی جماعت کا اصل مقصد یاد رکھیے
تبلیغی جماعت کی بنیادی دعوت مسلمانوں کو دین کی طرف متوجہ کرنا، نماز کی پابندی کی ترغیب دینا، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا، دینی ماحول اختیار کرنا اور اپنی زندگیوں میں اسلامی تعلیمات کو اپنانے کی کوشش کرنا ہے۔
اس مقصد کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن ہر دینی کام کی اصل کامیابی اسی وقت ہے جب اس کے ساتھ اخلاص، حسنِ اخلاق، عدل اور دوسروں کے حقوق کی رعایت بھی ہو۔
ہمیں یہ سوال اپنے آپ سے کرنا چاہیے کہ اگر ہماری دینی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، لیکن ہمارے دلوں میں دوسرے مسلمانوں کے لیے نفرت پیدا ہورہی ہے تو کیا ہم اپنے مقصد کے مطابق چل رہے ہیں؟
اگر کوئی شخص کسی ایک حلقے سے وابستہ ہے تو اسے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے حلقے سے وابستہ ہر شخص کو برا سمجھے۔ اسی طرح دوسرے حلقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی چاہیے کہ وہ مخالف رائے رکھنے والوں کے بارے میں انصاف اور احترام کا دامن نہ چھوڑیں۔
ہماری اصل پہچان کسی تنظیم، حلقے یا گروہ سے پہلے اسلام اور کلمۂ طیبہ کا رشتہ ہے۔
دونوں طرف کے احباب کے نام ایک پیغام
تبلیغی جماعت سے وابستہ تمام احباب کو چاہیے کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ ان کے اختلافات کا اثر نئی نسل، عام نمازیوں، دینی مدارس اور دعوت و اصلاح کے ماحول پر کیا پڑ رہا ہے۔
اگر کسی مجلس میں ایک فریق کے خلاف سخت زبان استعمال کی جاتی ہے تو سننے والوں کے دلوں میں بھی نفرت پیدا ہوسکتی ہے۔ اگر کسی نوجوان کو یہ سکھایا جائے کہ دوسرے حلقے سے تعلق رکھنے والا ہر شخص قابلِ نفرت ہے تو اس کے دل سے مسلمان بھائی کی محبت کم ہوسکتی ہے۔
اس لیے دونوں طرف کے ذمہ داران اور کارکنان کو چاہیے کہ:
1. ایک دوسرے کے خلاف غیر ضروری بیان بازی سے گریز کریں۔
2. مخالف فریق کی نیتوں پر حملہ کرنے کے بجائے اصل مسئلے پر علمی گفتگو کریں۔
3. اختلافی مسائل کو عوامی جذبات بھڑکانے کا ذریعہ نہ بنائیں۔
4. مساجد، مدارس اور دینی اجتماعات کو باہمی احترام کا مرکز بنائیں۔
5. ایک دوسرے کی جائز دینی خدمات کا اعتراف کریں۔
6. جہاں غلطی ثابت ہو، وہاں اپنی غلطی تسلیم کرنے میں عار محسوس نہ کریں۔
7. نوجوانوں کو نفرت اور گروہ بندی کے بجائے علم، تقویٰ، ادب اور خدمتِ دین کی تعلیم دیں۔
یاد رکھیے! اپنے مؤقف سے محبت کرنا ایک بات ہے اور اپنے مخالف سے نفرت کرنا دوسری بات۔ ایک مسلمان کو حق کی تلاش میں ثابت قدم رہنا چاہیے، لیکن اس کے اخلاق میں تکبر اور اس کے رویے میں ظلم نہیں ہونا چاہیے۔
مسجد، مدرسہ اور تبلیغی کام: سب کی مشترکہ ذمہ داری
مسجد اللہ تعالیٰ کی عبادت کا مرکز ہے۔ اس میں آنے والے افراد مختلف علمی آرا اور تنظیمی وابستگیوں کے حامل ہوسکتے ہیں، لیکن سب کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہونا چاہیے۔
اگر کسی مسجد میں تبلیغی جماعت کے اختلافات کی وجہ سے تلخی پیدا ہو تو وہاں کے ذمہ داران کو چاہیے کہ حکمت اور مشاورت کے ذریعے ماحول کو پُرسکون بنائیں۔
کسی کو محض اس کی تنظیمی وابستگی کی وجہ سے مسجد سے دور کرنا، اس کی تحقیر کرنا یا عام مسلمانوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنا انتہائی نقصان دہ طرزِ عمل ہے۔ البتہ مسجد کے نظم و ضبط اور شرعی حدود کی پابندی سب کے لیے ضروری ہے۔
علمائے کرام، ائمہ مساجد اور دینی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو اشتعال دلانے کے بجائے قرآن و سنت کی طرف متوجہ کریں، اختلافات کی نوعیت واضح کریں اور مسلمانوں کو باہمی حقوق کی یاد دہانی کرائیں۔
اسی طرح عام مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ وہ ہر سنی سنائی بات پر یقین نہ کریں، غیر مصدقہ پیغامات آگے نہ بھیجیں اور کسی تنازعے کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے معتبر ذرائع سے حقیقت معلوم کریں۔
اتحاد کا مطلب حق سے دست برداری نہیں
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ حق و باطل میں فرق ختم کردیا جائے یا ہر اختلاف کو نظر انداز کردیا جائے۔
اگر کسی مسئلے میں شرعی یا علمی اختلاف موجود ہو تو اس پر اہلِ علم کے ذریعے تحقیق اور گفتگو ہونی چاہیے۔ لیکن اس گفتگو کا مقصد حق واضح کرنا اور اصلاح کی کوشش کرنا ہو، نہ کہ کسی کی توہین، کردار کشی یا ذاتی دشمنی۔
اختلافی مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ اہلِ علم اور ذمہ داران ایک دوسرے کی بات تحمل سے سنیں، دلائل کا جائزہ لیں اور ذاتی انا کو فیصلوں پر غالب نہ آنے دیں۔
جب گفتگو میں اخلاص، انصاف اور ادب موجود ہو تو مشکل سے مشکل اختلاف میں بھی افہام و تفہیم کے راستے نکل سکتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر معاملے میں فوری اتفاق ممکن نہیں ہوتا۔ بعض اختلافات کے حل کے لیے وقت، مسلسل رابطے اور سنجیدہ مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس دوران باہمی احترام اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت ضروری ہے۔
نوجوان نسل کو کیا پیغام دیا جائے؟
نوجوان کسی بھی دینی تحریک کا اہم سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی تربیت اس انداز میں ہونی چاہیے کہ وہ دین کو سمجھیں، عبادات کی پابندی کریں، علمائے کرام کا احترام کریں اور اختلافی مسائل میں جذبات کے بجائے علم و حکمت سے کام لیں۔
نوجوانوں کو یہ نہ سکھایا جائے کہ صرف ہمارا حلقہ درست ہے اور باقی سب غلط ہیں۔ اس کے بجائے انہیں تحقیق، دلیل، حسنِ اخلاق اور انصاف کی تعلیم دی جائے۔
انہیں بتایا جائے کہ دین کی خدمت صرف بحث و مباحثے کا نام نہیں، بلکہ والدین کی خدمت، پڑوسیوں کے حقوق، غریبوں کی مدد، سچائی، امانت داری اور اچھے کردار کا نام بھی ہے۔
اگر تبلیغی جماعت سے وابستہ نوجوان نماز کے پابند، اخلاق میں اچھے، معاملات میں دیانت دار اور مسلمانوں کے لیے خیرخواہ بن جائیں تو یہ دین کی خدمت کا ایک اہم نتیجہ ہوگا۔
اتحاد پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات
محض اتحاد کی بات کرنا کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے عملی کوششیں بھی ضروری ہیں۔
اول: مشترکہ دینی مقاصد پر توجہ دی جائے۔
نماز کی دعوت، قرآن کی تعلیم، اخلاق کی اصلاح اور معاشرے میں نیکی کے فروغ جیسے کاموں میں باہمی تعاون کے جائز راستے تلاش کیے جائیں۔
دوم: معتبر اہلِ علم کی نگرانی میں گفتگو ہو۔
اختلافات کو حل کرنے کے لیے ایسے اہلِ علم اور ذمہ دار افراد کے درمیان سنجیدہ نشستیں ہوں جو دونوں طرف کی بات سننے اور انصاف کے ساتھ رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
سوم: عوامی سطح پر تلخی کم کی جائے۔
تقاریر، تحریروں اور سوشل میڈیا پر ایسے الفاظ سے گریز کیا جائے جو لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کریں۔
چہارم: مشترکہ اسلامی رشتے کو مضبوط کیا جائے۔
ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک ہونے، بیماروں کی عیادت کرنے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے جیسے کاموں کو فروغ دیا جائے۔
پنجم: غلط فہمیوں کو دور کیا جائے۔
اگر کسی فریق کے بارے میں کوئی بات مشہور ہو تو اسے تحقیق کے بغیر قبول نہ کیا جائے۔ الزام اور حقیقت میں فرق کیا جائے اور جہاں غلط فہمی ہو، وہاں وضاحت اور معذرت کا راستہ اختیار کیا جائے۔
ششم: ذاتی انا سے اوپر اٹھا جائے۔
کبھی کبھی اختلاف کی شدت مسئلے سے زیادہ ہماری انا کی وجہ سے بڑھتی ہے۔ اگر ہم اپنی بات منوانے کے بجائے صحیح بات سمجھنے کی کوشش کریں تو بہت سے مسائل آسان ہوسکتے ہیں۔
سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی
رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ ہمیں حسنِ اخلاق، صبر، عفو و درگزر اور لوگوں کے ساتھ خیرخواہی کا درس دیتی ہے۔
آپ ﷺ نے مسلمانوں کو باہمی محبت اور بھائی چارے کی تعلیم دی۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ
ترجمہ: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘
اس حدیث کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے لیے عزت، انصاف اور حسنِ سلوک چاہتے ہیں تو اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے بھی یہی پسند کریں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہماری بات تحمل سے سنیں تو ہمیں بھی دوسروں کی بات سننی چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری غلطیوں کو معاف کیا جائے تو ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ درگزر کا معاملہ کرنا چاہیے۔
یہی وہ اخلاقی بنیاد ہے جس پر مضبوط دینی معاشرہ قائم ہوسکتا ہے۔
ہمیں ایک دوسرے سے کیا کہنا چاہیے؟
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تبلیغی جماعت سے وابستہ ہر شخص اپنے دل میں یہ جذبہ پیدا کرے:
ہم ایک دوسرے کے مخالف ہونے سے پہلے مسلمان بھائی ہیں۔ ہمارے درمیان اختلافات ہوسکتے ہیں، لیکن ان اختلافات کی وجہ سے ہمیں ایک دوسرے کی عزت، حقوق اور خیرخواہی کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔
اگر میرے بھائی کی رائے مجھ سے مختلف ہے تو میں اسے دلیل اور ادب کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ اگر وہ میری بات سے اختلاف کرے گا تو میں اس کی بات بھی سنوں گا۔ جہاں حق واضح ہوگا، اسے قبول کروں گا، اور جہاں اختلاف باقی رہے گا، وہاں انصاف اور احترام کے ساتھ معاملہ کروں گا۔
ہمیں کسی سے محبت کرنے کے لیے ہر مسئلے میں اس کا ہم خیال ہونا ضروری نہیں، اور نہ ہی کسی سے اختلاف کرنے کے لیے اس سے دشمنی رکھنا ضروری ہے۔
آئیے! ہم اپنی زبانوں کو طعن و تشنیع سے، اپنے دلوں کو بغض و حسد سے اور اپنی مجلسوں کو نفرت انگیز گفتگو سے پاک کرنے کی کوشش کریں۔
اختتامیہ
تبلیغی جماعت کے اختلافات ہوں یا کسی دوسری دینی تنظیم کے مسائل، ان سب میں ہمارے لیے بنیادی اصول قرآن و سنت کی رہنمائی، انصاف، اخلاص، حکمت اور باہمی احترام ہونا چاہیے۔
ہمیں نہ کسی فریق کی اندھی حمایت کرنی چاہیے اور نہ کسی فریق کی بلاوجہ مخالفت۔ ہمیں حق کو حق سمجھنے، صحیح بات کو قبول کرنے اور غلطی کی اصلاح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
مسلمانوں کی عزت، ان کے درمیان محبت اور دین کی خدمت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اپنے اختلافات کو نفرت میں بدلنے کے بجائے اصلاح اور خیرخواہی کا ذریعہ بنائیں تو ہمارے معاشرے میں بہتری کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق سمجھنے، اس پر عمل کرنے، اختلافات میں انصاف سے کام لینے، اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے اور امتِ مسلمہ کے درمیان محبت و اتحاد پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین!
پیغامِ اتحاد:
رائے مختلف ہوسکتی ہے، مگر دلوں میں نفرت ضروری نہیں۔ راستوں میں اختلاف ہوسکتا ہے، مگر منزل اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی خدمت ہونی چاہیے۔