✍️ محبوب الحسن محبوؔب مظفرنگری
ہم اپنے زوال کا ذکر کرتے ہوئے اکثر کہتے ہیں کہ آج مسلمانوں میں عبادات کی کمی ہے، نمازوں میں سستی ہے، تلاوتِ قرآن سے دوری ہے، ذکر و اذکار کا اہتمام کم ہوگیا ہے۔ بلاشبہ عبادات میں کوتاہی ایک سنگین مسئلہ ہے، لیکن اگر ہم اپنے اجتماعی زوال کی گہرائی میں اتر کر دیکھیں تو محسوس ہوگا کہ مسئلہ صرف عبادات کی کمی کا نہیں، بلکہ ہمارے کردار، معاملات اور اخلاقی رویوں کی خرابی بھی ہمارے زوال کی ایک بڑی وجہ ہے۔
ہم مسجد میں نماز پڑھتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، نوافل ادا کرتے ہیں، محافل میں دین کی باتیں سنتے ہیں، مگر جب مسجد سے باہر نکلتے ہیں تو کسی کا حق مارنے میں دیر نہیں لگاتے۔ زبان پر ذکرِ الٰہی ہوتا ہے، لیکن معاملات میں جھوٹ، فریب، دھوکا اور وعدہ خلافی نظر آتی ہے۔ ہم حلال و حرام کے احکام بیان کرتے ہیں، مگر رزق کمانے کے معاملے میں کبھی حرام و مشتبہ راستوں سے بچنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے۔
یہی وہ تضاد ہے جس نے ہماری اجتماعی زندگی کو کمزور کردیا ہے۔
وعدہ خلافی: اعتماد کا قتل
کسی معاشرے کی بنیاد اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کی بات، وعدے اور عہد پر یقین کرنا چھوڑ دیں تو معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہوجاتا ہے۔
ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو وعدہ کرتے وقت بہت آسانی سے کہہ دیتے ہیں: "ان شاء اللہ، ضرور کروں گا"، لیکن وقت آنے پر نہ فون اٹھاتے ہیں، نہ جواب دیتے ہیں اور نہ اپنے وعدے کی کوئی پروا کرتے ہیں۔
وعدہ صرف زبان سے ادا ہونے والے الفاظ کا نام نہیں؛ یہ ایک ذمہ داری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے منافق کی علامات بیان کرتے ہوئے وعدہ خلافی کو بھی اس میں شامل فرمایا۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ اگر ایک مسلمان کے قول پر دوسرا مسلمان اعتماد ہی نہ کرسکے تو ہماری اجتماعی قوت کہاں باقی رہ جائے گی؟
معاملات میں دونمبری
ہم عبادات میں تو اخلاص تلاش کرتے ہیں، مگر معاملات میں دیانت کو بھول جاتے ہیں۔
دکان پر چیز کا معیار کچھ اور، بتانے میں کچھ اور؛ وزن کم، قیمت پوری؛ عیب چھپا کر سامان فروخت کرنا؛ جھوٹ بول کر گاہک کو متاثر کرنا؛ ادھار لے کر ٹال مٹول کرنا؛ کسی کے مال، زمین یا حق پر ناجائز قبضہ کرنا—یہ سب ایسے رویے ہیں جو صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی ڈھانچے کو تباہ کرتے ہیں۔
اسلام نے تجارت اور معاملات کو عبادت سے الگ کوئی معمولی شعبہ نہیں بنایا۔ ایک مسلمان کی دینداری کا امتحان صرف جائے نماز پر نہیں بلکہ بازار، دفتر، دکان، کاروبار، لین دین اور روزمرہ زندگی میں بھی ہوتا ہے۔
جھوٹ: ایک خطرناک بیماری
جھوٹ آج ہماری معاشرتی زندگی کا معمول بنتا جارہا ہے۔ معمولی بات ہو یا بڑا معاملہ، لوگ سچ بولنے کے بجائے اپنے فائدے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینے لگتے ہیں۔
جھوٹ صرف زبان کو آلودہ نہیں کرتا بلکہ انسان کے کردار کو اندر سے کھوکھلا کردیتا ہے۔ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے دوسرا جھوٹ، پھر تیسرا جھوٹ بولنا پڑتا ہے، یہاں تک کہ انسان کو خود بھی معلوم نہیں رہتا کہ حقیقت کیا ہے اور اس کا بنایا ہوا فسانہ کیا۔
قرآن کریم ہمیں سچوں کے ساتھ رہنے کی تعلیم دیتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔
اگر ہم اپنے معاشرے میں دوبارہ اعتماد، محبت اور اطمینان پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے سچائی کو اپنی زندگی کا شعار بنانا ہوگا۔
حرام روزی: بظاہر آسائش، حقیقت میں تباہی
رزق کی کثرت ہمیشہ اللہ کی رضا کی علامت نہیں ہوتی۔ حرام طریقے سے حاصل کیا ہوا مال بظاہر انسان کو خوشحال دکھا سکتا ہے، مگر اس میں برکت نہیں ہوتی۔
رشوت، سود، دھوکا دہی، خیانت، ناجائز منافع خوری، ملاوٹ، دوسروں کے حقوق دبانا اور حرام ذرائع سے مال حاصل کرنا—یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو انسان کے مال کے ساتھ ساتھ اس کے دل اور خاندان کی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔
ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے:
جو لقمہ ہم اپنے بچوں کے پیٹ میں ڈال رہے ہیں، کیا ہم اس کے حلال ہونے کے بارے میں مطمئن ہیں؟
یہ سوال اگر ہر شخص اپنے دل سے پوچھ لے تو معاشرے کی بہت سی خرابیاں خود بخود ختم ہوسکتی ہیں۔
بے ایمانی: قوموں کے زوال کا راستہ
امانت صرف کسی کے پیسے یا سامان کا نام نہیں۔ وقت بھی امانت ہے، عہدہ بھی امانت ہے، ذمہ داری بھی امانت ہے، علم بھی امانت ہے اور کسی کا راز بھی امانت ہے۔
لیکن افسوس کہ ہم ذمہ داری ملنے کے بعد اسے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے لگتے ہیں۔ سرکاری یا اجتماعی کام میں خیانت، منصب کا غلط استعمال، کسی کی محنت کا کریڈٹ خود لینا، دوسروں کے حقوق روکنا اور اعتماد کو توڑ دینا—یہ سب بے ایمانی کی مختلف شکلیں ہیں۔
قومیں صرف دشمنوں کے حملے سے تباہ نہیں ہوتیں؛ جب امانت دار کم اور خیانت کرنے والے زیادہ ہوجائیں تو قومیں اندر سے کمزور ہوجاتی ہیں۔
منافقت: ظاہر کچھ، باطن کچھ
منافقت صرف ایک مذہبی اصطلاح نہیں بلکہ ایک خطرناک اخلاقی رویہ بھی ہے۔ کسی کے سامنے کچھ کہنا اور پیٹھ پیچھے کچھ اور کہنا، زبان سے خیرخواہی اور دل میں دشمنی رکھنا، اصولوں کی بات کرنا مگر اپنے مفاد کے وقت انہی اصولوں کو پامال کردینا—یہ رویے معاشرے میں بداعتمادی کو جنم دیتے ہیں۔
ہم دوسروں کی منافقت کو فوراً پہچان لیتے ہیں، لیکن اپنے اندر جھانکنے کی زحمت کم کرتے ہیں۔
اصلاح کی ابتدا ہمیشہ اپنے نفس کے احتساب سے ہوتی ہے۔
عبادت اور معاملات دونوں ضروری ہیں
یہ کہنا درست نہیں کہ عبادات کی کوئی اہمیت نہیں۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، تلاوت، ذکر اور دیگر عبادات مسلمان کی زندگی کا بنیادی حصہ ہیں۔ لیکن عبادات کا حقیقی اثر انسان کے کردار اور معاملات میں بھی نظر آنا چاہیے۔
اگر نماز ہمیں ظلم سے نہ روکے، روزہ ہمیں جھوٹ سے نہ بچائے، قرآن کی تلاوت ہمارے اخلاق نہ بدلے، ذکرِ الٰہی ہمیں خیانت سے نہ روکے اور عبادت کے باوجود ہم لوگوں کے حقوق پامال کرتے رہیں تو ہمیں اپنے طرزِ عمل کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
اسلام نے مسجد اور بازار، محراب اور معاشرہ، عبادت اور معاملات کے درمیان کوئی دیوار قائم نہیں کی۔
اللہ کا نیک بندہ وہ ہے جو مسجد میں بھی اللہ سے ڈرے اور بازار میں بھی اللہ سے ڈرے؛ تنہائی میں بھی دیانت دار ہو اور مجمع میں بھی؛ اپنے لیے بھی انصاف پسند ہو اور دوسروں کے لیے بھی۔
ہمیں اپنے زوال کا علاج کہاں تلاش کرنا ہوگا؟
آج ہمیں صرف یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ ہم کتنی عبادت کرتے ہیں، بلکہ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ:
کیا ہم اپنے وعدے پورے کرتے ہیں؟
کیا ہمارے کاروبار میں دیانت ہے؟
کیا ہماری زبان جھوٹ سے محفوظ ہے؟
کیا ہماری آمدنی حلال ہے؟
کیا ہم دوسروں کے حقوق ادا کرتے ہیں؟
کیا ہم امانتوں کی حفاظت کرتے ہیں؟
کیا ہمارے ظاہر اور باطن میں یکسانیت ہے؟
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا ہمارے کردار سے اسلام کی خوبصورتی ظاہر ہوتی ہے؟
اگر ان سوالات کے جواب ہمارے حق میں نہیں ہیں تو ہمیں صرف دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے اندر اصلاح کی شروعات کرنی ہوگی۔
اختتامیہ
ہمارے زوال کا علاج صرف زیادہ تقریریں، زیادہ جلسے اور زیادہ نعرے نہیں؛ بلکہ زیادہ سچائی، زیادہ دیانت، زیادہ امانت، زیادہ عدل اور زیادہ خوفِ خدا ہے۔ ہمیں اپنی عبادت گاہوں کو آباد کرنے کے ساتھ اپنے کردار کو بھی آباد کرنا ہوگا۔ ہمیں سجدوں کے ساتھ اپنے معاملات کو بھی درست کرنا ہوگا، تسبیح کے ساتھ اپنی زبان کو سچائی کا عادی بنانا ہوگا، قرآن پڑھنے کے ساتھ قرآن کے اخلاق کو زندگی میں اتارنا ہوگا۔
یاد رکھیے! جس قوم کے افراد وعدے کے پکے، معاملات کے سچے، رزق کے حلال، امانت کے محافظ اور کردار کے پاکیزہ ہوں، اسے دنیا کی کوئی طاقت دیر تک کمزور نہیں کرسکتی۔ اور جس قوم کے افراد عبادت کے دعوے تو کریں مگر جھوٹ، خیانت، حرام خوری، وعدہ خلافی اور منافقت کو زندگی کا حصہ بنا لیں، اس کے زوال کے لیے کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس لیے آج سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ "ہم کتنی عبادت کرتے ہیں؟" بلکہ یہ بھی ہے کہ "ہماری عبادت نے ہمیں کتنا سچا، کتنا دیانت دار، کتنا پاکیزہ اور کتنا انسان بنا دیا ہے؟"
اگر ہمیں اپنے زوال کو عروج میں بدلنا ہے تو ہمیں اپنے سجدوں کے ساتھ اپنے کردار کو بھی درست کرنا ہوگا؛ کیونکہ قوموں کی تقدیر صرف عبادت گاہوں میں نہیں، بلکہ ان کے کردار، معاملات اور اجتماعی اخلاق میں بھی لکھی جاتی ہے۔