سفرِ سیرت
قسط نمبر ۲
*جاہلیت کے اندھیروں میں طلوعِ آفتابِ نبوت*
✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
_________________________________
دور جاہلیت میں عرب اپنی بعض
فطری صلاحیتوں اور بعض عادات و اخلاق میں تمام دنیا میں ممتاز تھے فصاحت و بلاغت میں ان کا کوئی ہمسر نہ تھا آزادی و خود داری ان کو جان سے زیادہ عزیز تھی شہسواری و شجاعت میں وہ بے بدل تھے عقیدہ کے پر جوش اوصاف گو اور جبری حافظہ کے قوی مساوات بے تکلفی اور جفاکشی کے عادی ارادہ کے کے زبان کے وفاداری اور امانت داری میں ضرب المثل تھے۔
لیکن انبیاء اور ان کی تعلیمات کے بعد ایک جزیرہ نما میں صدیوں سے مقید رہنے کی وجہ سے اور باپ دادا کے دین اور قومی روایات پر سختی سے قائم ہونے کے سبب وہ دینی و اخلاقی حیثیت سے بہت گر چکے تھے چھٹی صدی میں وہ منزل و انحطاط کے آخری نقط پر تھے کھلی ہوئی بت پرست ہیں بلا اور اسمیں دنیا کے نام تھے اخلاق اجتماعی امراض ان کی سوسائٹی کو کن کی طرح کھا رہے تھے غرض نداہر کے اکثر محاسن سے وہ محروم اور جاہلی زندگی کی بد ترین خصوصیتوں اور معائب میں مبتلا تھے۔
جوں جوں جہالت اور جاہلیت نے ترقی کی غیر اللہ کی پرستش کا عقیدہ عام ہوتا چلا گیا اور اللہ ربّ العزت کی وحدانیت و ربوبیت کا تصور کمزور پڑتا گیا۔ توحید کا یہ تصور رفتہ رفتہ صرف چند خواص تک محدود ہو کر رہ گیا۔ یہاں تک کہ پوری قوم بتوں اور مورتیوں کی باقاعدہ پرستش میں مبتلا ہوگئی۔ ان بتوں کو اللہ ربّ العزت تک رسائی کا ذریعہ سفارشی اور واسطہ سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ اللہ ربّ العزت کو خالقِ کائنات اور رب ماننے کا اقرار کسی نہ کسی درجے میں موجود تھا لیکن عملی زندگی میں اللہ ربّ العزت سے تعلق کمزور ہوچکا تھا اور عبادت و بندگی کے مختلف مظاہر سجدہ قربانی نذر دعا استعانت اور قسم وغیرہ غیر اللہ کے لیے مخصوص کیے جانے لگے تھے۔ یوں پورے عرب میں کھلی بت پرستی اللہ ربّ العزت سے بے تعلقی اور شرک کا غلبہ تھا۔
عرب کے تقریباً ہر قبیلے ہر شہر اور ہر علاقے کا اپنا مخصوص بت ہوتا تھا۔ بلکہ روایتوں میں یہاں تک ذکر ملتا ہے کہ مکہ کے تقریباً ہر گھر میں ایک بت موجود ہوتا تھا جس کی گھر والے عبادت کرتے تھے۔ جب کوئی شخص سفر کا ارادہ کرتا تو روانگی سے پہلے اپنے بت کو چھونا اور اس سے برکت حاصل کرنا اس کے آخری کاموں میں شامل ہوتا اور سفر سے واپس آکر بھی سب سے پہلے اپنے بت کے پاس جاتا۔ (انسانی دنیا کا مسلمانوں پر عروج و زوال کا اثر)۔
بعض لوگوں نے اپنے لیے باقاعدہ بت خانے بنا رکھے تھے کچھ نے مخصوص بت تیار کر رکھے تھے اور جو شخص نہ بت خانہ بنا سکتا تھا نہ کوئی بت تیار کرسکتا تھا وہ کسی پتھر کو نصب کرکے اسے مقدس سمجھ لیتا۔ کبھی حرم سے باہر کسی مناسب مقام پر پتھر گاڑ دیا جاتا اور اس کے گرد اسی طرح طواف کیا جاتا جیسے بیت اللہ کا طواف کیا جاتا ہے۔ ایسے نصب کیے گئے پتھروں کو انصاب کہا جاتا تھا۔
یہاں تک کہ وہ خانۂ کعبہ جو اللہ ربّ العزت کی عبادت کے لیے قائم کیا گیا تھا وہ بھی بتوں سے محفوظ نہ رہا۔ کعبہ کے اندر اور اس کے گرد بے شمار بت رکھ دیے گئے تھے اور لوگ ان کی پرستش میں مشغول رہتے تھے۔
بت پرستی کا عالم یہ تھا کہ لوگ کسی بھی پتھر کو اپنا معبود بنا لیتے۔ حضرت ابو رجاء عطاردی سے منقول ہے کہ ہم لوگ پتھروں کی عبادت کیا کرتے تھے اگر کسی جگہ اس سے بہتر پتھر مل جاتا تو پہلے والے کو چھوڑ کر نئے پتھر کو معبود بنا لیتے۔ اور اگر کوئی مناسب پتھر نہ ملتا تو مٹی کا ایک ٹیلہ بنا کر اس پر بکری کا دودھ دوہتے اور اس کے گرد طواف کرتے۔
اسی طرح بعض لوگ سفر کے دوران چار پتھر اپنے ساتھ رکھتے۔ ان میں سے جو پتھر انہیں زیادہ اچھا معلوم ہوتا اسے اپنا معبود بنا لیتے اور باقی تین پتھروں کو ہانڈی کے نیچے چولہے میں استعمال کرتے۔ جب وہاں سے آگے روانہ ہوتے تو ان سب پتھروں کو وہیں چھوڑ دیتے۔ یہ اس دور کی بت پرستی کی انتہا اور عقیدے کی انتہائی کمزوری کی ایک واضح تصویر تھی۔
رحمت عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اس وقت عورتیں اپنے انسانی حقوق سے محروم تھیں عرب کے جاہلی سماج میں انہیں کوئی عزت نہیں حاصل تھی وہ مردوں کے لیے بس ایک ذریعۂ تفریح تھیں وہ جیسے چاہتے انہیں رکھتے اور جیسا چاہتے ان کے ساتھ سلوک کرتے۔
کتنے ہی قبیلے ایسے تھے جو بچیوں کی پیدائیش کو اپنے لیے باعث تنگ و عار سمجھتے اور پیدا ہوتے ہی انہیں زندہ دفن کر دیتے ۔
بچیوں کو زندہ دفن کر دینے کا ذکر تو قرآن پاک میں بھی آیا ہے اللہ ربّ العزت کا ارشاد ہے۔ وَإِذَا الْمَوْؤُودَةُ سُئِلَتْ بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَت ۔ (سورہ تکویر ۸-۹)
اور جب زندہ درگور کی ہوئی بچی سے پوچھا جائے گا۔ کس گناہ میں اسے قتل کیا گیا؟(اضواء البیان)
حدیث کی مشہور کتاب سنن دارمی میں بھی بچی کو زندہ دفن کر دینے کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے جو عرب جاہلیت میں پیش آیا تھا بڑا ہی دردناک اور رقت انگیز واقعہ ہے امام داری ولید بن نضر کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کیا۔
اللہ کے رسول آپ پر ایمان لانے سے پہلے ہم لوگ بتوں کو پوجتے تھے۔ اور جاہلیت کی تمام برائیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ہمارا یہ حال تھا کہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو ختم کر دیتے تھے۔
میری ایک پیاری سی بچی تھی۔ جو کچھ بڑی اور سمجھدار ہو گئی تھی۔ میں اسے پکارتا تو بہت خوشی خوشی دوڑی ہوئی میرے پاس آتی۔
ایک دن کا قصہ ہے میں نے اسے آواز دی وہ دوڑی ہوئی میرے پاس آئی میں گھر سے باہر نکلا وہ میرے پیچھے پیچھے ہوئی۔
کچھ فاصلے پر ایک کنواں تھا۔ وہ ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا۔ میں نے اس بچی کا ایک ہاتھ پکڑا اور اسے اٹھا کر کنویں میں پھینک دیا۔
میں نے اس کے جو آخری الفاظ اپنے کانوں سے سنے وہ تھے یا أبتاه يا أبتاه ہائے میرے ابا جان ہائے میرے ابا جان)
یہ قصہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے ۔ مجلس میں جو لوگ تھے انہوں نے اس شخص کو ملامت کی کہ تو نے بلا وجہ اللہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے رنج و غم میں اضافہ کر دیا آپ نے فرمایا اسے کچھ مت کہو اسے ایک فکر دامن گیر ہے۔ اس کے بارے میں وہ اطمینان چاہتا ہے۔ پھر آپ نے اس شخص سے فرمایا یہ قصہ پھر سے سناؤ پھر آپ کو اس نے دوبارہ یہ قصہ سنایا۔ آپ پر دوبارہ گر یہ طاری ہو گیا۔ روتے روتے داڑھی تر ہوگئی۔ آپ نے فرمایا دور جاہلیت میں کسی نے جو کچھ بھی کیا ہے ایمان لانے کے بعد رب کریم نے سب کچھ معاف فرما دیا ہے۔ اس گزری ہوئی زندگی اور اس کی برائیوں کو اب مت یاد کرو اب نئی زندگی نئے انداز اور نئے ولولوں سے شروع کرو۔ (سنن دارمی باب ما کان علیہ الناس: ۱۵۳/۱)۔
عرب کے بہت سے قبیلے ایسے بھی تھے جو بچیوں کو دفن تو نہیں کرتے تھے مگر ان کی پیدایش سے کوئی خوشی نہیں محسوس کرتے وہ ان کی پیدائیش کی خبر بڑی اداسی سے سنتے اور زندگی بھر انہیں بار دوش اور وبال جان سمجھتے باپ یا شوہر کے مال و جائیداد میں عورت کا کوئی حصہ مقرر نہ تھا بلکہ بعض اوقات تو خود عورت کو مرنے والے شخص کے ترکے کا حصہ سمجھ لیا جاتا تھا۔ خاندان میں جو شخص طاقتور اور بااثر ہوتا وہ اسے اپنے قبضے میں لے لیتا اور اس کے ساتھ اپنی مرضی کا سلوک کرتا۔
اگر شوہر اپنی بیوی سے ناراض ہوجاتا یا کسی وجہ سے اسے ناپسند کرنے لگتا تو اس کی زندگی عذاب بن جاتی۔ اس کے لیے شوہر سے نجات حاصل کرنے اور باعزت طریقے سے اپنی زندگی گزارنے کی کوئی مناسب صورت موجود نہ تھی۔
ایسے پُرآشوب ماحول میں رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انسانی معاشرے میں عورتوں اور بچیوں کو عزت و احترام کا وہ مقام عطا فرمایا جس سے وہ محروم تھیں۔ عورتوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی مختلف صورتوں کو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے ختم فرمایا اور ان کے حقوق واضح فرمائے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تین بچیوں کی اچھی پرورش کرے ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرے ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور محبت کا معاملہ کرے اور عزت و احترام کے ساتھ ان کی شادی کردے وہ جہنم کی آگ سے محفوظ رہے گا اور جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اگر دو بچیاں ہوں تو؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا دو بھی ہوں تو یہی اجر ہے۔ (الآداب امام بیہقی حدیث نمبر ۱۲۳)۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو اور میں تم سب سے زیادہ اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہوں۔ (صحیح ابن حبان حدیث نمبر ۴۷۷)۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ تمہاری ذمہ داری اور تمہاری ماتحت ہیں۔ (سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: ۱۰۸۵)
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ (مسند الشہاب حدیث نمبر ۱۱۹)۔
ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میری خدمت اور حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری ماں اس نے تیسری مرتبہ پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری ماں۔ اس نے چوتھی مرتبہ پوچھا پھر کون؟ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باپ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر ۵۹۷۱)
اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ماؤں کی خدمت بیٹیوں کی اچھی پرورش و تربیت اور بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کو انسان کی آخرت کی کامیابی سے جوڑ دیا۔ یوں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عورت کو معاشرے میں عزت وقار اور احترام کا وہ بلند مقام عطا فرمایا جس کی مثال اس سے پہلے انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔
اے اللہ ربّ العزت ہمیں سیرتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سمجھنے اپنانے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما ہمارے ایمان و اخلاق سنوار دے اور ہم سب کو دین پر قائم فرما آمین یارب العالمین ۔