فتنہ انسانی زندگی کا ایک ایسا امتحان ہے جو ایمان، کردار، بصیرت اور استقامت کو آزماتا ہے۔ فتنہ ہمیشہ جنگ و جدال، قتل و غارت یا کھلے فساد کی صورت میں نہیں آتا، بلکہ کبھی شبہات و گمراہی، کبھی خواہشات و شہوات، کبھی افواہوں و جھوٹی خبروں، کبھی باہمی اختلاف و انتشار اور آج کے دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے فکری انتشار، دینی شبہات اور بے بنیاد اطلاعات کی شکل میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں مسلمان کے لیے سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنے ایمان و عمل پر مضبوطی سے قائم رہے، کیونکہ آزمائش کے وقت عارضی جذبات نہیں بلکہ پختہ ایمان، صحیح علم اور اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق ہی انسان کو ثابت قدم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ۝ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ ۝ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی؟ اور بے شک ہم نے ان لوگوں کو بھی آزمایا جو ان سے پہلے گزرے، پس اللہ ضرور سچوں کو نمایاں کرے گا اور جھوٹوں کو بھی ظاہر کرے گا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آزمائش ایمان کا لازمی امتحان ہے اور فتنوں کے دور میں ثابت قدمی ہی صدقِ ایمان کی علامت ہے۔ اسی لیے قرآن نے صبر، استقامت اور تقویٰ کو کامیابی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ۝ اے ایمان والو! صبر کرو، ثابت قدم رہو، ایک دوسرے کو ثابت قدمی کی تلقین کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اور فرمایا إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا بے شک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ نہ خوف کرو اور نہ غم کرو۔ نبی کریم ﷺ نے فتنوں کی شدت سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا نیک اعمال میں جلدی کرو، ان فتنوں سے پہلے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے؛ آدمی صبح ایمان کی حالت میں کرے گا اور شام کو کافر ہوجائے گا، یا شام کو ایمان کی حالت میں کرے گا اور صبح کافر ہوجائے گا، دنیا کے معمولی فائدے کے بدلے اپنا دین بیچ دے گا۔ اس حدیث سے واضح ہے کہ فتنوں کے آنے سے پہلے ایمان کی حفاظت، نیک اعمال اور دینی تربیت کا اہتمام ضروری ہے۔ ایک دوسری حدیث میں فرمایا الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَهِجْرَةٍ إِلَيَّ فتنے اور قتل و فساد کے زمانے میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کے مانند ہے۔ اس لیے فتنوں کے زمانے میں نماز، تلاوتِ قرآن، ذکر، دعا، صدقہ اور دیگر اعمالِ صالحہ سے تعلق مضبوط کرنا نجات کا مؤثر ذریعہ ہے۔ فتنوں سے بچنے کا پہلا سبب صحیح علم ہے؛ قرآن مجید فرماتا ہے فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ۝ اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔ چنانچہ ہر خبر، ہر ویڈیو، ہر پوسٹ اور ہر دینی دعوے کو بلا تحقیق قبول کرنا درست نہیں۔ قرآن کا واضح حکم ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کرلیا کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات بیان کرتا پھرے۔ لہٰذا فتنوں کے دور میں تحقیق، توقف اور ذمہ دارانہ گفتگو نہایت ضروری ہے۔ دوسرا اہم سبب قرآن و سنت سے مضبوط وابستگی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ بے شک یہ قرآن اس راستے کی رہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ مِنْ بَعْدِي، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ تم میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو اور اسے مضبوطی سے تھامے رکھو۔ تیسرا سبب صالحین کی صحبت ہے؛ کیونکہ انسان اپنے ماحول سے بہت متاثر ہوتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ اور فرمایا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ ۝ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ چوتھا سبب صبر و تقویٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ۝ تمہیں بہت سی تکلیف دہ باتیں سننی پڑیں گی، اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یقیناً یہ بڑے عزم کے کاموں میں سے ہے۔ پانچواں سبب نماز اور دعا کے ذریعے اللہ سے مدد طلب کرنا ہے۔ ارشاد ہے وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو۔ نبی کریم ﷺ کثرت سے دعا فرماتے تھے يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ اور قرآن کی دعا ہے رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ۝ اے ہمارے رب! ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔ فتنوں کے دور میں ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ مسلمان خوف، افواہ، جذباتی اشتعال اور باہمی نزاع سے بچے، کیونکہ اختلاف و انتشار فتنے کو مزید طاقت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ ایسے حالات میں اہلِ ایمان کو اللہ پر توکل، باہمی اتحاد، حکمت، صبر اور حسنِ اخلاق اختیار کرنا چاہیے۔ قرآن فرماتا ہے فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ۝ پس ان سے نہ ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔ آخرکار فتنوں سے نجات کا راستہ یہی ہے کہ مسلمان اپنے عقیدے کی حفاظت کرے، فرائض کی پابندی کرے، قرآن و سنت سے وابستہ رہے، اہلِ علم سے رجوع کرے، ہر خبر کی تحقیق کرے، صالحین کی صحبت اختیار کرے، اختلاف و اشتعال سے بچے، صبر و تقویٰ کو لازم پکڑے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ثابت قدمی کی دعا کرتا رہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۝ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۝ بے شک جن لوگوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر ثابت قدم رہے، ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے؛ یہی جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان کے اعمال کے بدلے میں۔ پس فتنوں کے دور میں کامیابی کا راز حالات کے بدلنے کا انتظار نہیں بلکہ اپنے ایمان، کردار اور عمل کو قرآن و سنت کے مطابق مضبوط بنانا ہے؛ جو شخص اللہ سے جڑ جاتا ہے، حق کو پہچان کر اس پر قائم رہتا ہے اور آزمائش میں صبر و استقامت کا دامن نہیں چھوڑتا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے فتنے کے اندھیروں میں ہدایت و نجات کی راہیں کھول دیتا ہے۔