ہماری ذمہ داریاں اور ہمارے معاشرے کی خاموش محرومیاں

آج ایک اصلاحی پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ اس پروگرام کے کنوینر جناب قاری ندیم صاحب، امام و خطیب فاروقی مسجد، بھٹیا سرائے، چاندپور، بجنور تھے۔

اس پروگرام میں ایک نوجوان عالمِ دین، جناب مولانا سلمان ندوی صاحب نجیب آبادی کی گفتگو نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔

انہوں نے سب سے پہلے علماء اور ائمہ کی خدمات اور مقام کا ذکر کیا، پھر ائمہ و علماء کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ جب انہوں نے معاشرے کے بگڑتے ہوئے حالات اور خصوصاً بیوہ خواتین اور ضرورت مند گھروں کے حالات بیان کیے تو واقعی ایسا محسوس ہوا جیسے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی ہو۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے گھر موجود ہیں جہاں کوئی کمانے والا نہیں ہے۔ ان خاندانوں کی حالت انتہائی پریشان کن ہے، لیکن ہم ان کے حالات سے بے خبر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم ان ضرورت مند خاندانوں کے لیے کیا کر رہے ہیں؟
اس کے بعد انہوں نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی ایک خطرناک صورتِ حال کی طرف توجہ دلائی کہ بعض جگہ ضرورت مند خواتین کو قرض کے نام پر ایسی سرگرمیوں میں پھنسایا جاتا ہے جن کا انجام انتہائی افسوس ناک ہوتا ہے۔ ابتدا میں انہیں یہ کہہ کر رقم دی جاتی ہے کہ وہ اس سے کوئی چھوٹا کاروبار کرلیں، لیکن جب وہ رقم واپس کرنے سے قاصر ہوتی ہیں تو بعض لوگ ان کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔

مولانا صاحب نے ایک ایسے واقعے کا ذکر کیا جس نے پورے مجمع کو رلا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک گھر میں گئے اور وہاں کے حالات جاننے کی کوشش کی تو ایک مجبور بہن نے اپنی درد بھری داستان سناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مجبوری کے باعث بار بار ایسے حالات کا شکار ہو چکی ہے اور اصل رقم ادا کرنے کے باوجود سود کی رقم باقی ہے۔ اس نے انتہائی بے بسی کے ساتھ کہا:

"بھائی جان! مجھے اس عذاب سے نکال دیجیے، میرے اندر اتنی ہمت نہیں کہ میں دوبارہ اس تکلیف دہ صورتِ حال کا سامنا کر سکوں۔"

یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے مولانا صاحب نے ہمیں جھنجھوڑ کر پوچھا کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہمارے اوپر جو ذمہ داریاں تھیں، کیا ہم انہیں ادا کر رہے ہیں؟

واقعی جب میں نے یہ باتیں سنیں تو آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ مولانا صاحب خود بھی رو رہے تھے اور پورا مجمع بھی آبدیدہ تھا۔

اس کے بعد انہوں نے علماء و اکابر کے کئی سبق آموز واقعات بیان کیے۔ پھر انہوں نے رمضان المبارک کا ایک واقعہ سنایا کہ وہ غریب گھروں میں راشن کے پیکٹ تقسیم کیا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ ایک گھر سے اطلاع آئی کہ ہمارے گھر میں کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر آپ کچھ راشن پہنچا دیں تو شاید ہمارے لیے رمضان کے دن آسان ہوجائیں۔

انہوں نے اپنے ایک ساتھی سے کچھ سامان کا انتظام کروایا۔ عید قریب تھی، اس لیے عید کے سامان کے پیکٹ بھی تقسیم کیے جا رہے تھے۔ انہوں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آپ اس گھر میں جاکر یہ پیکٹ پہنچا دیں۔

ساتھی نے کہا: "آج میرا قرآن مکمل ہونے والا ہے، آپ ہی چلے جائیں اور یہ پیکٹ دے دیں۔"

چنانچہ مولانا صاحب خود اس گھر پہنچے۔ دروازے پر آواز دی تو اچانک دروازہ کھلا اور ایک بوڑھی عورت سامنے آئی۔

اس نے پوچھا: "کون ہو بیٹا؟"

انہوں نے کہا: "ماں جی! میں فلاں شخص ہوں، آپ کے لیے کچھ سامان لایا ہوں۔ کسی نے بتایا تھا کہ آپ پریشان ہیں۔"

وہ بوڑھی عورت ان کے چہرے کی طرف دیکھنے لگی اور پوچھا: "بیٹا! اس میں کیا ہے؟"

انہوں نے کہا: "اس میں کچھ راشن اور عید کا سامان ہے، شیر وغیرہ بنانے کے لیے۔"

یہ سن کر اس بوڑھی ماں نے ایسی بات کہی جس نے دل ہلا کر رکھ دیا۔ اس نے کہا:

"بیٹا! دو سال گزر گئے ہیں، ہمارے گھر میں شیر نہیں بنی۔پھر میں نے پوچھا کہ گھر کا خرچ کیسے چلتا ہے 
 تو انہوں نے کہا 
 اللہ کے نام پر جو لوگ کھانا یا صدقہ دے دیتے ہیں، ہم وہی کھا لیتے ہیں۔"

یہ واقعہ سن کر واقعی ایسا محسوس ہوا جیسے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی ہو۔

سوچنے کا مقام ہے کہ آج ہماری مائیں، ہماری بہنیں اور ہمارے معاشرے کے ضرورت مند گھر نہ جانے کتنے ہیں؟ بھوک اور تنگ دستی کی شدت میں نہ جانے کتنے لوگ اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں اور ہمیں اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں ہے۔ 

ہمارے اپنے محلے میں نہ جانے کتنے ایسے گھر ہوں گے جہاں ہماری مائیں اور بہنیں ضرورت کے باوجود خاموشی سے زندگی گزار رہی ہیں۔ کتنے یتیم بچے ہوں گے، کتنی بیوہ خواتین ہوں گی اور کتنے ایسے گھر ہوں گے جہاں بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہے، لیکن ہمیں ان کے حالات کی خبر نہیں۔

ذرا سوچیں! آج اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو مقام عطا کیا ہے، جو مال و دولت دی ہے، جو سہولتیں دی ہیں، اگر کل میدانِ محشر میں یہ یتیم بچے یا یہ بیوہ خواتین ہمارا دامن پکڑ کر پوچھیں:

"اللہ تعالیٰ نے تمہیں سب کچھ دیا تھا، پھر تم نے ہماری خبر کیوں نہ لی؟ تم نے ہماری پریشانی کو کیوں نہ سمجھا؟"

تو اس وقت ہم کیا جواب دیں گے؟

واقعی، جب اس نوجوان عالمِ دین کی باتیں سنیں تو آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ وہ خود بھی رو رہے تھے اور پورا مجمع بھی آبدیدہ تھا۔

انہوں نے بہت سی باتیں بیان کیں، لیکن میں نے ان میں سے صرف چند باتیں مختصر طور پر قلم بند کی ہیں، کیونکہ اس وقت ایسی کیفیت تھی کہ تمام باتوں کو تفصیل کے ساتھ لکھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔

آخر میں میں اپنے آپ سے
 اور آپ سب سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں:

اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔ اپنے محلے کے حالات کی خبر لیں۔ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ہمارے آس پاس کون ضرورت مند ہے، کون یتیم ہے، کون بیوہ ہے، کس گھر میں فاقہ ہے اور کون خاموشی سے اپنی پریشانی برداشت کر رہا ہے۔

اپنے محلے کی ان ماؤں، بہنوں اور بچوں کے حالات پوچھنا صرف کسی ایک فرد کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

اسی طرح ہمارے وہ نوجوان بھائی جو تعلیم سے دور ہوتے جا رہے ہیں، ان کے حالات بھی جاننے کی کوشش کریں کہ وہ کن پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ اگر ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کی خبر نہیں لیں گے تو پھر ہم اپنے معاشرے کی اصلاح کیسے کریں گے؟

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور انہیں صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و آبرو کی حفاظت فرمائے، تمام یتیموں، بیواؤں اور ضرورت مندوں کی مدد فرمائے، اور ہمیں ان کی مدد کا ذریعہ بنائے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب سے دین کا کام لے، ہمیں وہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمارے سپرد کی ہیں، اور ہم سب کو امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

قلم بند: بدیع الزماں ثاقبی ارریاوی