*ایک کچوڑی دو سموسہ، ان مردوں کا کیا بھروسہ؟*

آج کل سوشل میڈیا پر آزادی کے نام پر چند خواتین ایسے نعرے بلند کرتی نظر آتی ہیں: *ایک کچوڑی دو سموسہ، ان مردوں کا کیا بھروسہ؟ گلی گلی میں شور ہے، مرد ذات چور ہے۔ میرے سر میں درد ہے، اس کا کارن مرد ہے۔ آلو لو پوری لو، ان مردوں سے دوری لو۔ چائے گرم، دودھ گرم، مرد ذات بے شرم۔ اور شرم نہیں ہے مردوں میں، عورت کیوں ہے پردوں میں؟* سب سے پہلے یہ بات واضح ہے کہ کسی عورت پر کسی مرد نے ظلم کیا ہو تو اسلام اس ظلم کو ہرگز درست نہیں کہتا ظالم مرد ہو یا عورت ظلم بہرحال ظلم ہے۔ لیکن چند افراد کے برے کردار کی سزا پوری مرد ذات کو دینا نہ انصاف ہے نہ عقل۔ اگر ایک مرد چور ہے تو پوری مرد ذات چور نہیں ہوسکتی اگر ایک مرد ظالم ہے تو ہر مرد ظالم نہیں ہوسکتا۔ قرآن کا اصول ہے *﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ أُخْرَىٰ﴾ یعنی کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔* تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر ایک عورت کے جرم کی وجہ سے پوری عورت ذات کو مجرم کہنا غلط ہے تو چند مردوں کے جرم کی بنیاد پر پوری مرد ذات کو مجرم کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟ اگر کسی عورت کے سر میں درد کسی مخصوص مرد کی زیادتی سے ہے تو اس مرد سے شکایت کرے اس کے خلاف آواز اٹھائے اور انصاف طلب کرے مگر کروڑوں مردوں کو ایک ہی ترازو میں تولنا کون سا انصاف ہے؟
*آلو لو پوری لو، ان مردوں سے دوری لو* کے جواب میں بھی ذرا اسلام کو سامنے رکھیے۔ اسلام نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا دشمن نہیں بنایا بلکہ نکاح کو مودت و رحمت کا ذریعہ قرار دیا *﴿وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾* اگر کسی مرد سے دوری مطلوب ہے تو ظالم بدکردار اور حرام تعلقات کی دعوت دینے والے مرد سے دوری اختیار کیجیے اسلام اس سے روکتا ہے لیکن ہر مرد سے دشمنی کا نعرہ اسلام کا مزاج نہیں۔ اور جو لوگ کہتے ہیں مرد ذات بے شرم وہ ذرا قرآن بھی پڑھیں، اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے مردوں کو حکم دیا *﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ﴾* یعنی مسلمان مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ پھر عورتوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور زینت کی حفاظت کا حکم دیا۔ یعنی اسلام نے مرد کو بے لگام آزادی نہیں دی بلکہ اس کی آنکھ، زبان، خواہش اور کردار سب کو شریعت کے تابع کیا۔ اس لیے اگر کوئی مرد بے حیائی کرتا ہے تو وہ اسلام کی تعلیم پر عمل نہیں کر رہا بلکہ اسلام کے حکم کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
*شرم نہیں ہے مردوں میں، عورت کیوں ہے پردوں میں؟* یہ سوال بھی اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب اسلام کے پورے نظام کو نہیں پڑھا جاتا۔ اسلام نے صرف عورت کو پردے کا حکم نہیں دیا بلکہ مرد کو بھی نگاہ کا پردہ دیا عورت کو حیا کا حکم دیا اور مرد کو بھی حیا کا پابند بنایا۔ اگر عورت سے پردہ مطلوب ہے تو مرد سے نگاہ نیچی رکھنے کا مطالبہ بھی ہے۔ اگر عورت سے لباس میں حدود مطلوب ہیں تو مرد سے بھی اپنے جسم اور ستر کی حفاظت مطلوب ہے۔ لہٰذا مسلم عورت کو اپنے حجاب اور حیا کے لیے کسی نئے آزادی کے منشور کی ضرورت نہیں، کیونکہ جس دین نے اس سے حیا کا مطالبہ کیا اسی دین نے مرد کو بھی اپنی نگاہ اور خواہش کا پابند بنایا ہے۔ بلکہ اسلام نے عورت کو وہ حقوق بھی دیے جن کے لیے آج نعرے لگائے جاتے ہیں: مہر کا حق وراثت کا حق اپنی ملکیت رکھنے کا حق نکاح میں رضامندی کا حق، نفقہ کا حق اور حسنِ معاشرت کا حق۔ قرآن صاف کہتا ہے *﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ یعنی عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ یعنی تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔* تو اگر کسی مسلم عورت کو اپنے شوہر سے کوئی شرعی حق نہیں مل رہا تو اسے اسلام سے آزادی لینے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنے شوہر سے اپنا حق مانگنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسلام نے حق پہلے ہی دے رکھا ہے دین اسلام دین فطرت ہے یہ اپنے پیروں کار کے لیے مکمل اصول و ضوابط رکھتا ہے۔
اب ذرا چند سوالات ان خرافاتی نعرا لگانے والیوں سے: اگر مرد ذات چور ہے تو کیا عورت ذات میں کبھی چور نہیں ہوئی؟ اگر ایک مرد کے جرم سے پوری مرد ذات بدنام ہوسکتی ہے تو کیا ایک عورت کے جرم سے پوری عورت ذات بھی بدنام ہوگی؟ *اگر ایک شوہر برا ہے تو کیا ہر شوہر برا ہے؟اگر مردوں پر بھروسہ نہیں توکیا ہر باپ اپنی بیٹی کےلیےناقابلِ اعتماد ہے؟ کیا ہر بھائی اپنی بہن کے لیے ناقابلِ اعتماد ہے؟ کیا وہ شوہر بھی بے شرم ہے جو اپنی بیوی کے لیے حلال روزی کماتا ہے اور اس کے حقوق ادا کرتا ہے؟ اور اگر پردہ عورت کی آزادی چھینتا ہے تو مرد کو نگاہ نیچی رکھنے کا حکم کس لیے دیا گیا؟ اگر عورت کو اپنے شوہر سے حق مانگنے کی آزادی چاہیے تو اسلام نےنفقہ،مہر، حسنِ معاشرت اور دیگر حقوق پہلے ہی کیوں مقرر کر دیے؟* اگر کسی دوسرے مذہب یا معاشرتی نظام میں عورت کو کوئی حق نہیں مل رہا تو وہاں کی خواتین اپنے نظام سے مطالبہ کریں، اپنے لوگوں سے سوال کریں، مگر اسلام کی مسلم خواتین کو ان حقوق کے لیے اسلام سے آزادی لینے کی ضرورت نہیں جو اسلام انہیں پہلے ہی دے چکا ہے۔ اگر شوہر ظلم کرتا ہے تو شوہر غلط ہے، اگر عورت کا حق مارتا ہے تو حق مارنے والا غلط ہے، اگر کوئی مسلمان اسلام پر عمل نہیں کرتا تو اس کا عمل غلط ہے،یہ معاشرے میں تسلیم شدہ بات ہے۔اور دین اسلام ان سب کا کندن کرتا ہے۔
اس لیے اصل مسئلہ مرد بمقابلہ عورت نہیں بلکہ صالح کردار بمقابلہ فاسد کردار ہے۔ اچھا مرد قابلِ احترام ہے اور ظالم مرد قابلِ مذمت اچھی عورت قابلِ احترام ہے اور ظالم یا بدکردار عورت بھی قابلِ مذمت۔ اسلام نے کسی کو صرف مرد یا عورت ہونے کی وجہ سے نجات کا سرٹیفکیٹ نہیں دیا بلکہ معیار تقویٰ اور کردار رکھا ہے۔ لہٰذا مسلم خواتین سے عرض ہے کہ اگر کسی حق سے محروم ہیں تو اپنا حق ضرور مانگیں، اگر کسی نے ظلم کیا ہے تو ظلم کے خلاف ضرور آواز اٹھائیں، اگر شوہر زیادتی کرتا ہے تو اس سے ضرور سوال کریں، مگر یہ نہ سمجھیں کہ آپ کو عزت اور حقوق اسلام سے باہر جاکر ملیں گے۔ جس دین نے چودہ سو سال پہلے آپ کو مہر دیا وراثت دی ملکیت دی، نکاح میں حق دیا، شوہر پر نفقہ لازم کیا اور حسنِ معاشرت کا حکم دیا، اس دین کی بیٹیوں کو اسلام سے آزادی نہیں بلکہ اسلام کی صحیح پہچان کی ضرورت ہے۔ اور اگر کسی دوسرے نظام میں یہ حقوق نہیں تو وہاں کے لوگ اپنے نظام سے سوال کریں اسلام کی خواتین کو اسلام سے کوئی شکایت نہیں، شکایت ہو تو اپنے شوہر سے حق مانگیں، کیونکہ اسلام نے انہیں حق مانگنے کا بھی حق دیا ہے۔ آخر میں بس اتنا *ایک کچوڑی دو سموسہ، ان مردوں کا نہیں بلکہ غلط کردار کا کیا بھروسا۔*
عورت کی آزادی کے تعلق سے میری تحریر بنام(عورت کو جتنی آزادی چاہیے تھی اسلام دے چکا)موجود ہے اس کا مطالعہ فرمالیں۔

              *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*