توبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتنا بڑا انعام ہے۔ نیکی اور بدی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی تین قسمیں کی ہیں۔ ایک وہ جن میں بالکل بدی یعنی گناہ کی صلاحیت ہی نہیں ہے، وہ فرشتوں کی پاک جماعت ہے جو "لَا يَعْصُونَ اللّٰهَ مَا أَمَرَهُمْ" کے مصداق ہے۔
اور دوسری قسم وہ جن میں نیکی اور بدی دونوں کی صلاحیت موجود ہے، وہ انسان ہیں۔ اس میں پھر ایک قسم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں، جیسے انبیاء علیہم السلام۔
اور تیسری قسم وہ جن میں دونوں صلاحیتیں موجود ہوں لیکن ان کے دلوں کو زنگ نے گھیرے میں لے لیا ہے۔
لیکن ایسے لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے ویسے نہیں چھوڑا بلکہ ان کے لیے "توبہ" جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "إِنَّ اللّٰهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ" کہ حالتِ غرغرہ تک اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے۔
لیکن افسوس اس پر ہوتا ہے کہ ہم بالکل بھی اس عظیم نعمت کی طرف التفات نہیں کرتے۔
حالانکہ وہ مقدس ذات کہ جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے "لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ" وہ دن میں ستر مرتبہ استغفار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اور نعوذ باللہ بعض اس طرح کے جری لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو کہتے ہیں کہ میں نے فلاں فلاں گناہ کیا ہے، کیا ہوا!
اب اس کو حماقت سے تعبیر نہ کروں تو کیا کہوں؟ اس کی مثال تو اس طرح ہے کہ اس کے گھر میں آگ لگ جائے اور اس کی زندگی کا تمام متاع جل کر راکھ ہو جائے اور وہ ایک طرف بیٹھ کر قہقہے لگائے۔ گناہ تو ایسی متعدی آگ ہے جو افراد سے قوموں تک اور محلوں بلکہ ملکوں کے ملکوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔
لہٰذا ہمیں اس آگ کو بجھانے کی تدبیر کرنی ہے، اور اس کی تدبیر یہ ہے کہ رات کے آخری پہر میں اٹھ کر اپنے رب کے سامنے صرف دو قطرے اشکِ ندامت بہا دے تو اللہ تعالیٰ اس آگ کو بجھا دیتا ہے۔
تحریر: فیضی