*ہم نے اولاد کو سہولتیں تو دیں مگر تربیت دینا بھول گئے۔*

آج ہم اپنی اولاد کو ہر طرح کی سہولتیں دینے میں مصروف ہیں۔ اچھا لباس، اچھا اسکول، مہنگا موبائل، بہترین کھانا اور آرام کی ہر چیز، مگر افسوس کہ اسی دوڑ میں ہم ایک ایسی چیز بھولتے جا رہے ہیں جو ان تمام سہولتوں سے کہیں زیادہ ضروری ہے اور وہ ہے تربیت۔ ہم بچوں کی خواہشیں پوری کرنے میں تو کوئی کمی نہیں چھوڑتے مگر ان کے اخلاق، عادات، گفتگو، دین اور کردار پر اتنی توجہ نہیں دیتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے بڑے ہو کر کامیاب انسان بنیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ کامیابی سے پہلے انہیں ایک اچھا انسان بنانا بھی ضروری ہے۔
کچھ دن پہلے میں نے اپنی آنکھوں سے ایک چھوٹا سا پودا دیکھا جو کچھ ٹیڑھا ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ ایک لکڑی باندھی گئی تھی تاکہ وہ سیدھا ہو جائے۔ میں نے غور کیا کہ آخر یہ لکڑی ابھی ہی کیوں لگائی گئی ہے؟ جب پودا بڑا ہو جائے گا تب بھی تو اسے سہارا دیا جا سکتا ہے۔ پھر سمجھ آیا کہ لکڑی بڑے ہونے کے بعد نہیں بلکہ چھوٹے ہونے کے وقت اس لیے لگائی جاتی ہے کہ پودا اسی عمر میں سیدھی سمت اختیار کر لے اور جب بڑا ہو تو مضبوط اور سیدھا درخت بنے۔ یہی معاملہ ہماری اولاد کا بھی ہے۔ بچپن تربیت کا وقت ہے۔ اس عمر میں جو عادت ڈال دی جائے وہ اکثر پوری زندگی ساتھ چلتی ہے۔ اگر ہم اس وقت توجہ نہ دیں اور بچہ غلط سمت میں بڑھتا رہے تو بعد میں اسے بدلنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
ہم بچوں کو مہنگی چیزیں تو دے سکتے ہیں مگر کردار خرید کر نہیں دے سکتے۔ ہم انہیں بڑے اسکولوں میں بھیج سکتے ہیں مگر ادب ان کے اندر داخل نہیں کر سکتے جب تک گھر کا ماحول انہیں ادب نہ سکھائے۔ ہم انہیں ہر آسائش دے سکتے ہیں مگر شکر، صبر، حیا، سچائی اور بڑوں کا احترام صرف تربیت سے آتا ہے۔ بچے ہماری باتوں سے کم اور ہمارے عمل سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد نماز کی پابند ہو تو ہمیں خود نماز سے محبت دکھانی ہوگی۔ اگر چاہتے ہیں کہ وہ سچ بولے تو اسے ہمارے کردار میں سچائی نظر آنی چاہیے۔
آج ایک لمحے کے لیے اپنے بچوں کو غور سے دیکھیے۔ ان کے پاس کیا ہے، اس سے زیادہ یہ دیکھیے کہ ان کے اندر کیا ہے۔ ہاتھ میں موبائل ہے تو کیا دل میں دین بھی ہے؟ زبان پر بات کرنے کی صلاحیت ہے تو کیا گفتگو میں ادب بھی ہے؟ اسکول کی تعلیم ہے تو کیا والدین کی عزت بھی ہے؟ کھانے کے لیے ہر چیز میسر ہے تو کیا نعمتوں کی قدر بھی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے انہیں دنیا کی ہر سہولت دے دی مگر وہ ان چیزوں سے محروم رہ گئے جو ایک انسان کو حقیقت میں انسان بناتی ہیں۔
یاد رکھیے اولاد صرف ہمارے لیے دنیا کی خوشی نہیں بلکہ ہمارے لیے ایک امانت بھی ہے۔ پودے کو سیدھا کرنے کا وقت وہی ہوتا ہے جب وہ نرم اور چھوٹا ہو۔ جب تنا سخت ہو جائے تو اسے موڑنے کی کوشش اکثر اسے توڑ دیتی ہے۔ اسی طرح بچوں کی تربیت کا بہترین وقت بچپن ہی ہے۔ آج انہیں وقت دیجیے، محبت دیجیے، ادب سکھائیے، دین سے جوڑیے اور اپنے عمل سے اچھا انسان بننے کا راستہ دکھائیے۔ کیونکہ کل ہم اپنی اولاد کے لیے جتنی بھی سہولتیں چھوڑ جائیں، اگر تربیت نہ چھوڑ سکے تو شاید ہماری سب سے بڑی دولت بھی ہمارے ہاتھ سے نکل جائے۔

                *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*