شادی بیاہ میں کھانے کی بربادی سے بچیں

گزشتہ رات ایک شاگرد کی خالہ کی شادی میں جاناہوا۔
وہاں انہوں نے مجھ سے کہا:
"مولانا! کھانا کھا لیجیے۔"

میں نے کہا: "ابھی کھاتا ہوں۔"

پھر انہوں نے کہا: "دیکھیے، کھانے کے بہت سارے آئٹم ہیں، آپدیکھ لیجئے 
 آپ کو جو پسند ہو، بتا دیجیے، میں ٹیبل پر پہنچا دیتا ہوں۔"

میں کھانے کے اسٹال کی طرف گیا اور وہاں موجود کھانے وغیرہ کو دیکھا۔ پھر میں بیٹھنے کے لیے ٹیبل تلاش کرنے لگا۔ میرے ساتھ ایک اور صاحب بھی تھے۔ ہمیں ایک ٹیبل ایسی ملی جس پر بہت سارا کھانا بکھرا ہوا تھا، لیکن وہاں کوئی بیٹھا ہوا نہیں تھا۔

ہم اسی ٹیبل کی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ کھانے کی اس طرح بے حرمتی دیکھ کر دل کی کیفیت عجیب ہو گئی۔ دل میں خیال آیا کہ لوگ اپنے گھروں میں ایک چاٹ کی پلیٹ بھی لیتے ہیں تو اسے ضائع نہیں ہونے دیتے، لیکن شادی بیاہ کی تقریبات میں نہ جانے کتنا کھانا ضائع کر دیتے ہیں۔

شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم یہ سوچتے ہیں کہ اس کھانے کی اپنی جیب سے قیمت ادا نہیں کی، اس لیے ہمیں اس کی قدر و قیمت کا احساس نہیں رہتا۔ جتنا دل چاہتا ہے، لے لیتے ہیں، اور پھر جتنا کھا سکتے ہیں کھاتے ہیں، باقی چھوڑ دیتے ہیں۔

کچھ ہی دیر بعد چند ویٹر آئے اور میز پر بچا ہوا سارا کھانا دسڈ بین میں اٹھا کر لے گئے۔ یہ منظر دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ ہم مسلمان، جس رزق کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھتے ہیں، اسی رزق کی اس طرح بے قدری اور بربادی کر دیتے ہیں۔

اس لیے شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں کھانے کی بربادی سے بالکل بچنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اگر ہمیں فراوانی عطا فرمائی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نعمت کو ضائع کریں۔ بلکہ ہمیں چاہیے کہ جتنی ضرورت ہو، اتنا ہی کھانا لیں اور اپنی پلیٹ میں ضرورت سے زیادہ کھانا نہ ڈالیں۔

یاد رکھیے! رزق کی قدر کرنا بھی شکر کا ایک حصہ ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو اپنے عطا کردہ رزق کی قدر کرنے، اس کا شکر ادا کرنے اور اسے ضائع ہونے سے بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

از قلم: بدیع الزماں ثاقبی ارریاوی