حضرت مولانا مفتی محمد اسجد صاحب بہٹوی 
استاذ جامعہ مظاہر علوم سہارنپور 

اسبابِ حرمت — جمع

نکاح اسلام کے نظامِ معاشرت کا ایک نہایت مقدس، پاکیزہ اور اہم شعبہ ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے جہاں نکاح کو انسانی فطرت کی تسکین، نسلِ انسانی کی بقا، عفت و عصمت کی حفاظت اور خاندان کے استحکام کا ذریعہ قرار دیا ہے، وہیں اس کے حدود و قیود بھی نہایت وضاحت کے ساتھ متعین فرمائے ہیں۔

اسی لیے شریعت نے صرف یہ نہیں بتایا کہ کن عورتوں سے نکاح کیا جا سکتا ہے، بلکہ ان عورتوں کی بھی تفصیلی وضاحت فرمائی ہے جن سے نکاح کسی نہ کسی شرعی سبب کی بنا پر حرام قرار پاتا ہے۔

/محرماتِ نکاح کا یہ باب فقہِ اسلامی کے نہایت دقیق اور اہم ابواب میں سے ہے۔ ان اسباب میں بعض حرمتیں نسب کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، بعض رضاعت کی وجہ سے، بعض مصاہرت کی وجہ سے اور بعض ایسی ہیں جو دو عورتوں کو بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں جمع کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔

اسی آخری صورت کو فقہ کی اصطلاح میں جمع کہا جاتا ہے۔

جمع کا مفہوم

جمع کے لغوی معنی ہیں: ایک جگہ جمع کرنا، اکٹھا کرنا اور یکجا کرنا۔

فقہی اصطلاح میں جمع سے مراد یہ ہے کہ ایک مرد بیک وقت ایسی دو یا دو سے زیادہ عورتوں کو اپنے نکاح میں جمع کرے جن کے درمیان ایسا رشتہ ہو کہ اگر ان دونوں میں سے ایک کو بالفرض مرد قرار دیا جائے تو دوسری کے ساتھ اس کا نکاح شرعاً جائز نہ ہو۔

اسی طرح جمع کی ایک دوسری صورت یہ ہے کہ ایک شخص بیک وقت چار سے زائد عورتوں کو اپنے نکاح میں رکھے، کیونکہ شریعتِ اسلامیہ نے آزاد مسلمان مرد کے لیے بیک وقت چار عورتوں تک نکاح کی اجازت دی ہے، اس سے تجاوز کی اجازت نہیں دی۔

فقہائے احناف نے اسبابِ تحریم میں جمع کو مستقل سبب قرار دیا ہے۔

«اسباب التحریم انواع ــــــــــ جمع ۔ شامی،کتاب النکاح ص 99،100 ج 4»

گویا یہاں حرمت کسی عورت کی ذات کی وجہ سے مستقل اور دائمی نہیں، بلکہ دو ایسی عورتوں کو بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں جمع کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جنہیں شریعت نے اس صورت میں یکجا کرنے سے منع فرمایا ہے۔


جمع کی حرمت کا ثبوت قرآنِ کریم سے

اللہ تعالیٰ نے سورۂ نساء میں محرماتِ نکاح کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

«وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ»
یعنی:
’’اور یہ بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرو۔‘‘
(سورۃ النساء: 23)

یہ آیتِ کریمہ اس مسئلے کی بنیادی دلیل ہے کہ ایک مرد کے نکاح میں بیک وقت دو بہنوں کا جمع ہونا جائز نہیں۔

یہ ممانعت صرف سگی بہنوں تک محدود نہیں، بلکہ فقہِ اسلامی میں نسبی اور رضاعی بہنوں کے احکام بھی اس اصل کے تحت آتے ہیں۔ چنانچہ دو ایسی عورتیں جن کے درمیان نسب یا رضاعت کی وجہ سے ایسا تعلق ہو جو باہم نکاح کو ممنوع بناتا ہو، انہیں ایک مرد کے نکاح میں بیک وقت جمع کرنا جائز نہیں۔


جمع کی حرمت حدیثِ نبوی ﷺ سے

قرآنِ کریم کے علاوہ احادیثِ نبویہ میں بھی اس ممانعت کی صراحت موجود ہے۔
أُمَّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ:" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: وَتُحِبِّينَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ ذَلِكِ لَا يَحِلُّ لِي، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ".
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہن (غرہ) بنت ابی سفیان سے آپ نکاح کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اور تمہیں بھی پسند ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں کوئی میں تنہا تو ہوں نہیں اور میری خواہش ہے کہ آپ کی بھلائی میں میرے ساتھ میری بہن بھی شریک ہو جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! اس طرح کی باتیں سننے میں آتی ہیں کہ آپ ابوسلمہ کی صاحبزادی درہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ام سلمہ کی لڑکی سے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا اللہ کی قسم اگر وہ میری پرورش میں نہ ہوتی جب بھی وہ میرے لیے حلال نہیں تھی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی لڑکی ہے۔ مجھے اور ابوسلمہ کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا۔ (اس لیے وہ میری رضاعی بھتیجی ہو گئی) تم لوگ میرے نکاح کے لیے اپنی لڑکیوں اور بہنوں کو نہ پیش کیا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5107]

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ایک عورت اور اس کی بہن کو بیک وقت ایک مرد کے نکاح میں جمع کرنا شرعاً جائز نہیں۔


جمع کی بنیادی اقسام

فقہائے احناف نے جمع کو بنیادی طور پر دو قسموں میں تقسیم فرمایا ہے:

1. جمع بین الاجنبیات
2. جمع بین ذوات الارحام
۔ ھندیہ کتاب النکاح ص 346 ج1 زکریا ط۔جدید»

یہ تقسیم نہایت معنی خیز ہے، کیونکہ پہلی قسم کا تعلق تعدادِ ازواج سے ہے، جبکہ دوسری قسم کا تعلق دو عورتوں کے باہمی محرم رشتے سے ہے۔


پہلی قسم: جمع بین الاجنبیات

جمع بین الاجنبیات سے مراد ایسی عورتوں کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا ہے جن کے درمیان ایسا نسبی یا رضاعی رشتہ نہیں جس کی وجہ سے ان دونوں کو بیک وقت نکاح میں رکھنا ممنوع ہو، لیکن تعداد چار سے تجاوز کر جائے۔
«اما الجمعہ بین الاجنبیات فانہ لا یحل للرجل ان یجمع بین اکثر من اربع نسوۃ ۔ ھندیہ ص 342 ج 1 ط، زکریا جدید»
یعنی مرد کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بیک وقت چار سے زیادہ عورتوں کو اپنے نکاح میں جمع کرے۔

یہ حکم قرآنِ کریم کی اس اجازت کی حدود سے بھی واضح ہوتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

«فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ»

’’پس عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو، دو دو، تین تین اور چار چار۔‘‘

(سورۃ النساء: 3)

یہاں شریعت نے اجازت کی زیادہ سے زیادہ حد چار مقرر فرمائی ہے۔ لہٰذا کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بیک وقت پانچ یا اس سے زیادہ عورتوں کو اپنے نکاح میں رکھے۔



دوسری قسم: جمع بین ذوات الارحام

جمع کی دوسری اور زیادہ دقیق قسم جمع بین ذوات الارحام ہے۔

اس سے مراد ایسی دو عورتوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا ہے جن کے درمیان نسب یا رضاعت کی ایسی حرمت موجود ہو کہ اگر فرضاً ان دونوں میں سے ایک کو مرد قرار دیا جائے تو دوسری کے ساتھ اس کا نکاح جائز نہ ہو۔

اس کی سب سے واضح مثال دو بہنیں ہیں۔

چنانچہ فقہائے احناف فرماتے ہیں:

«اما الجمع بین الزوات الارحام فانہ لا یجمع بین اختین بنکاح ۔ ھندیہ ص 343 ج1 پر،زکریا جدید»

یعنی دو بہنوں کو ایک وقت میں نکاح کے تحت جمع کرنا جائز نہیں۔

یہ بہنیں:

- سگی بہنیں ہوں،
- باپ شریک بہنیں ہوں،
- ماں شریک بہنیں ہوں،
- یا رضاعی بہنیں ہوں،

جمع کی ممانعت کے اصول میں سب شامل ہیں۔

فتاویٰ ہندیہ میں اس کی مزید صراحت موجود ہے کہ نسبی یا رضاعی بہنوں کو بیک وقت جمع نہیں کیا جا سکتا۔



جمع کا ایک جامع فقہی ضابطہ

اس باب کو سمجھنے کے لیے فقہائے احناف نے ایک نہایت جامع اصول بیان فرمایا ہے، جو اس مسئلے کی فقہی روح کو سمجھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے:

«والاصل أن کل امرأتین لو صورنا احداھما من ایک جانب ذکرا کم یجزالنکاح بینھما برضاع او نسب لم یجز الجمع بینھما ۔ ھندیہ 343/1 زکریا جدید»

اس ضابطے کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر دو عورتیں ایسی ہوں کہ ان میں سے ایک کو فرضاً مرد تصور کیا جائے تو نسب یا رضاعت کی وجہ سے دوسری کے ساتھ اس کا نکاح جائز نہ ہو، تو ان دونوں عورتوں کو ایک مرد کے نکاح میں بیک وقت جمع کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔

اسی اصول کی روشنی میں فقہائے کرام نے عورت اور اس کی پھوپھی، عورت اور اس کی خالہ اور اسی نوعیت کے دوسرے قریبی رشتوں کو بھی ایک مرد کے نکاح میں بیک وقت جمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔

یہ فقہی قاعدہ اس باب کو محض چند متفرق مسائل کا مجموعہ نہیں رہنے دیتا، بلکہ ایک جامع اصول فراہم کرتا ہے جس کے ذریعے متعدد جزئیات کو سمجھا جا سکتا ہے۔


جمع کی حرمت میں حکمتیں

شریعت کے احکام اگرچہ اپنی اصل میں اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی تشریع کی وجہ سے واجب الاتباع ہیں، تاہم فقہائے امت اور اہلِ علم نے ان احکام میں پائی جانے والی متعدد حکمتوں کی بھی نشاندہی فرمائی ہے۔

جمع کی ممانعت میں بھی کئی معاشرتی اور خاندانی مصالح پوشیدہ ہیں۔

1۔ صلۂ رحمی کا تحفظ

اسلام نے صلۂ رحمی کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ رشتہ داروں کے درمیان محبت، خیر خواہی، تعاون اور حقوق کی ادائیگی ایک صالح معاشرے کی بنیاد ہے۔

اگر دو قریبی محرم رشتہ دار عورتوں کو ایک مرد کے نکاح میں بیک وقت جمع کرنے کی اجازت دے دی جاتی تو فطری طور پر ان کے درمیان سوکن پن کے جذبات پیدا ہو سکتے تھے، اور وہ قرابت جو محبت، شفقت اور باہمی تعاون کا ذریعہ تھی، رقابت اور نزاع کا میدان بن سکتی تھی۔

اس لیے شریعت نے اس دروازے ہی کو بند کر دیا جس سے صلۂ رحمی کے متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہو سکتا تھا۔

یہی حکمت حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی توضیح میں بھی نمایاں ہوتی ہے کہ دو بہنوں کو ایک مرد کے نکاح میں جمع کرنا باہمی حسد اور عداوت کا سبب بن سکتا ہے، جس سے قطعِ رحم کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔

2۔ حسد اور عداوت سے حفاظت

ازدواجی زندگی میں سوکنوں کے درمیان رقابت کا پیدا ہونا انسانی طبیعت کے اعتبار سے بعید نہیں۔ ایک عورت یہ محسوس کر سکتی ہے کہ دوسری عورت اس کے ازدواجی حق میں شریک ہے۔

اب اگر شریکِ نکاح کوئی اجنبی عورت ہو تو بھی رقابت کا امکان موجود ہے، لیکن جب وہی شریکِ نکاح حقیقی بہن، پھوپھی، خالہ یا کوئی قریبی رشتہ دار ہو تو معاملہ کہیں زیادہ نازک ہو جاتا ہے۔

کیونکہ ایسی صورت میں ازدواجی رقابت خاندان کے اندر منتقل ہو سکتی ہے اور ایک ایسا رشتہ جو محبت و شفقت کا پیکر ہونا چاہیے، عداوت اور نزاع کا شکار ہو سکتا ہے۔

اسی لیے شریعت نے احتیاط کا راستہ اختیار فرمایا اور ایسے نکاح کو بیک وقت جمع کرنے سے منع کر دیا۔

3۔ خاندان کے محبت بھرے ماحول کی حفاظت

اسلامی خاندان محض افراد کا مجموعہ نہیں بلکہ محبت، ذمہ داری، صلۂ رحمی اور باہمی حقوق کا ایک مربوط نظام ہے۔

شریعت چاہتی ہے کہ بہنیں بہنیں رہیں، پھوپھی بھتیجی کا رشتہ شفقت اور احترام پر قائم رہے، خالہ اور بھانجی کے درمیان محبت باقی رہے اور خاندان کے افراد ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں۔

اگر ایسی قریبی رشتہ دار عورتیں ایک ہی مرد کے نکاح میں بیک وقت جمع ہو جاتیں تو ازدواجی رقابت کے باعث ان پاکیزہ خاندانی رشتوں کے متاثر ہونے کا اندیشہ رہتا۔

اس لیے شریعت نے فتنہ کے وقوع کے بعد علاج کرنے کے بجائے اس کے اسباب کو ابتدا ہی میں روک دیا۔
یہ اسلامی شریعت کی حکمت و مصلحت کا ایک روشن نمونہ ہے۔


ایک ہی مجلس میں دو بہنوں سے نکاح

اب ایک اہم فقہی صورت ملاحظہ ہو:
اگر کسی شخص نے ایک ہی مجلس اور ایک ہی وقت میں دو بہنوں سے نکاح کیا تو فقہِ حنفی میں اس صورت کا حکم الگ تفصیل رکھتا ہے۔
«وان تزوجھما معا ایک الاختین من بمعناھما ۔الخ۔ فرق القاضی بینہ وبینھما ویکون طلاقا۔ الدرالمختار 4/119 زکریا»

یہاں فقہی اعتبار سے اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا شرعاً ممنوع ہے، لہٰذا اس صورت کو عام صحیح نکاح کی طرح برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

البتہ اس مسئلے میں عقد کے صحیح، فاسد یا باطل ہونے کی اصطلاحات استعمال کرتے وقت فقہائے احناف کی دقیق تعبیرات کا لحاظ ضروری ہے؛ کیونکہ نکاح کے باب میں ہر جگہ ’’باطل‘‘ اور ’’فاسد‘‘ ایک ہی معنی میں استعمال نہیں ہوتے۔



دو الگ الگ عقدوں میں دو بہنوں سے نکاح

اگر کسی شخص نے پہلے ایک بہن سے نکاح کیا، پھر اس کے نکاح میں ہوتے ہوئے دوسری بہن سے بھی نکاح کر لیا تو دونوں عقدوں کا حکم یکساں نہیں ہوگا۔

پہلا نکاح اپنی اصل کے اعتبار سے صحیح ہے، جبکہ دوسری بہن سے کیا جانے والا بعد کا نکاح جمع کی ممانعت کی وجہ سے درست نہیں رہتا۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
«وان تزوجھما فی عقدین فنکاح الاخیرۃ قاسدۃ ویجب علیہ انیفارقھما ۔ ھندیہ 1/343 زکریا»

یعنی اگر دونوں بہنوں سے دو الگ الگ عقدوں میں نکاح کیا گیا ہو تو بعد والی کا نکاح فاسد ہوگا اور دونوں کے درمیان تفریق لازم ہوگی۔

حنفی فقہ کے مصادر میں یہ تفصیل بھی ملتی ہے کہ اگر پہلے نکاح کا علم ہو اور دوسرا عقد اس کے بعد کیا گیا ہو تو پہلے نکاح کی صحت باقی رہتی ہے، جبکہ دوسرا عقد فاسد قرار پاتا ہے۔

یہاں ایک نہایت اہم فقہی نکتہ سمجھنا چاہیے کہ نکاحِ فاسد کو صحیح نکاح کے برابر قرار دینا درست نہیں؛ تاہم فقہِ حنفی میں بعض صورتوں میں عقدِ فاسد کے نتیجے میں وطی کے بعد کچھ شرعی آثار، مثلاً عدت اور ثبوتِ نسب، مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے فقہاء کی اصطلاحات کو ان کے اپنے اصولی مفہوم کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔

عدت میں بھی جمع کی ممانعت
جمع کے باب میں ایک نہایت اہم فقہی مسئلہ یہ ہے کہ محض نکاح ختم ہو جانے سے جمع کی حرمت فوراً ختم نہیں ہو جاتی، بلکہ بعض صورتوں میں عدت ختم ہونے تک بھی جمع کی ممانعت باقی رہتی ہے۔
مثلاً کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، تو اگر اس عورت کی عدت ابھی باقی ہے تو اس کی بہن سے نکاح کرنا اس عدت کے دوران جائز نہیں ہوگا۔
اسی طرح اگر کسی شخص کے نکاح میں چار عورتیں تھیں اور اس نے ان میں سے ایک کو طلاق دے دی، تو اس چوتھی عورت کی عدت مکمل ہونے سے پہلے پانچویں عورت سے نکاح کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔
یعنی چوتھی بیوی کی عدت کے زمانے میں اس کے قائم مقام پانچویں عورت کو نکاح میں لانا جمع کے حکم سے ممنوع ہے۔
فقہائے احناف نے نکاحِ فاسد کی مثالوں میں اسی صورت کو صراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے:
"(قوله وإذا فرق القاضي بين الزوجين في النكاح الفاسد) وهو كتزوج الأخت في عدة الأخت أو الخامسة في عدة الرابعة أو الأمة على الحرة، فإن كان قبل الدخول فلا مهر لها خلا بها أو لم يخل؛ لأن المهر لا يجب في النكاح الفاسد إلا بالدخول، وإنما لم تقم الخلوة فيه مقام الدخول؛ لأن التمكن منها فيه منتف شرعا ".فتح القدير " (3/ 363):
یہ عبارت اس مسئلے کی فقہی اہمیت کو واضح کرتی ہے کہ بہن کی عدت کے دوران اس کی بہن سے نکاح اور چوتھی بیوی کی عدت کے دوران پانچویں عورت سے نکاح ان صورتوں میں شمار کیا گیا ہے جن میں نکاح فاسد قرار پاتا ہے اور قاضی کے ذریعے تفریق کی جاتی ہے۔ فتح القدیر میں اسی مقام پر نکاحِ فاسد میں دخول اور مہر کے احکام کی مزید تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔
لہٰذا محض یہ خیال درست نہیں کہ طلاق واقع ہوتے ہی سابقہ بیوی نکاحی دائرے سے اس طرح بالکل خارج ہو گئی کہ اسی وقت اس کی بہن یا اس کے قائم مقام کوئی دوسری عورت نکاح میں لائی جا سکے۔ عدت کے احکام اور جمع کی ممانعت کو بھی ساتھ ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
یہاں فقہی باریکی یہ ہے کہ عدت کی نوعیت، سابقہ نکاح کی صحت، طلاق یا فرقت کی صورت اور عورت کے مدخولہ ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے احکام کی تفصیلات بدل سکتی ہیں؛ اس لیے کسی عملی واقعے میں محض عمومی اصول پر فیصلہ کرنے کے بجائے مکمل صورتِ حال کسی مستند مفتی کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔

حاصلِ بحث

جمع کی حرمت کا مقصد محض نکاح کی تعداد کو محدود کرنا یا چند رشتوں کے درمیان ظاہری تفریق قائم کرنا نہیں، بلکہ شریعت کے وسیع تر خاندانی نظام کی حفاظت ہے۔

ایک طرف شریعت نے مرد کو نکاح کی ایک متعین حد تک اجازت دی، تاکہ انسانی ضرورت، فطرت اور معاشرتی مصالح کی رعایت ہو؛ دوسری طرف ایسی قریبی رشتہ دار عورتوں کو ایک ہی نکاحی دائرے میں جمع کرنے سے روک دیا جن کے درمیان نسب یا رضاعت کی ایسی حرمت موجود ہے جو باہمی نکاح کو ناممکن بنا دیتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں فقہِ اسلامی کی گہرائی سامنے آتی ہے۔

شریعت صرف یہ نہیں کہتی کہ ’’یہ حرام ہے‘‘ بلکہ فقہائے امت قرآن و سنت کے نصوص سے اصول اخذ کرکے یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ کن صورتوں میں حرمت پیدا ہوگی، اس کی حدود کیا ہوں گی، کون سا عقد صحیح ہوگا، کون سا فاسد، کہاں تفریق لازم ہوگی اور کن حالات میں سابقہ نکاح کے آثار برقرار رہیں گے۔

لہذا نکاح کے مسائل میں محض عمومی معلومات کافی نہیں؛ بلکہ ہر جزئیے کے ساتھ اس کی فقہی صورت، شرط، قید اور نتیجے کو سمجھنا ضروری ہے۔

اور یہی فقہِ اسلامی کی وہ علمی عظمت ہے جو ایک معمولی نظر آنے والے خاندانی مسئلے کو بھی اصول، ضوابط، نصوص اور دقیق فروع کا ایک مربوط علمی باب بنا دیتی ہے۔