محبت میں لڑائی نہیں سکون ہونا چاہیے
مشرقی معاشرے میں ایک بات بڑی عام کر دی گئی ہے کہ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں روٹھنا منانا بھی ہوتا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر تکرار ہوتی ہے لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں اور یہی سب محبت کی علامتیں ہیں یہاں تک کہ ایک مشہور مقولہ بھی ہے کہ 
روٹھنا منانا محبت کا حصہ ہے
مگر میرا خیال اس سے کچھ مختلف ہے میرے نزدیک جہاں محبت ہو وہاں لڑائی کی گنجائش ہی نہیں رہتی کیونکہ محبت انسان کو صرف کسی کو چاہنا نہیں سکھاتی بلکہ اس کے احساسات کا احترام کرنا بھی سکھاتی ہے جہاں دل میں کسی کی حقیقی قدر ہو وہاں بات کو بڑھانے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے اپنی بات منوانے کے بجائے دوسرے کی کیفیت کو سمجھا جاتا ہے
ہاں دو انسانوں کے درمیان کبھی اختلافِ رائے ہو سکتا ہے کبھی کسی بات پر ناراضی بھی پیدا ہو سکتی ہے کبھی لہجے میں سختی بھی آ سکتی ہے یہ سب انسانی فطرت کا حصہ ہے آخر دونوں الگ مزاج اور الگ سوچ رکھنے والے انسان ہیں مگر ہر چھوٹی بات کو جھگڑے میں بدل دینا بات بات پر ناراض ہو جانا اور پھر یہ توقع رکھنا کہ دوسرا آئے گا منائے گا منت سماجت کرے گا اسے محبت کا نام دینا شاید درست نہیں
ہمارے روٹھنے میں ایک معصوم سی دلکشی ضرور ہو سکتی ہے لیکن روز روز روٹھنا ہر بات پر غصہ کرنا اور ہر مرتبہ منائے جانے کی توقع رکھنا رفتہ رفتہ محبت کو تھکا دیتا ہے
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جس شخص سے ہم محبت کرتے ہیں اس کی زندگی صرف ہمارے گرد نہیں گھومتی اس کے اپنے مسائل بھی ہیں اپنی پریشانیاں ہیں اپنی ذمہ داریاں ہیں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ خود اندر سے کسی پریشانی میں مبتلا ہوتا اور اس کے باوجود ہم اس سے اپنی ناراضی منوانے کی توقع کر رہے ہوتے ہیں
ہر شخص ہر وقت ایک ہی کیفیت میں نہیں ہوتا
ہر شخص ہر وقت منانے کے قابل نہیں ہوتا کبھی کبھی جو شخص ہمیں تسلی دے رہا ہوتا ہے خود اسے تسلی کی ضرورت ہوتی ہے
اس لیے اگر کبھی وہ ہماری ناراضی نہیں منا سکا ہماری ہر بات کا جواب نہیں دے سکا یا ہمارے ہر نخرے کو برداشت نہیں کر سکا تو ضروری نہیں کہ اس کی محبت کم ہو گئی ہو یا وہ ہم سے محبت نہیں کرتا ممکن ہے وہ خود زندگی کے کسی ایسے مرحلے سے گزر رہا ہو جہاں اس کے پاس اپنے دکھ سنبھالنے کی بھی فرصت نہ ہو
محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ’میں روٹھوں اور تم مجھے مناؤ
محبت کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ آج تم پریشان ہو تو میں تمہیں سمجھوں کل میں پریشان ہوں تو تم مجھے سمجھ لینا اور رشتے اس وقت خوبصورت ہوتے ہیں جب دونوں ایک دوسرے کے لیے سکون بنیں آزمائش نہیں
ہر بار یہ سوچنا کہ دیکھتے ہیں وہ مجھے کتنی دیر میں منانے آتا ہے‘ یا ’میں ناراض ہو کر دیکھتی ہوں کہ اسے میری کتنی فکر ہے محبت کو ایک امتحان بنا دیتا ہے اور جس رشتے کو بار بار امتحان میں ڈالا جائے ایک وقت آتا ہے کہ امتحان دینے والا تھک جاتا ہے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جس شخص کو ہم بار بار اپنی ناراضی سے آزماتے رہیں ایک دن وہ ہمیں منانا چھوڑ بھی سکتا ہے کیونکہ بار بار ناراضگی بیزاریت کا سبب بن سکتی ہے 
پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ جو خاموشی کبھی اسے بے چین کر دیتی تھی وہی خاموشی اسے معمولی لگنے لگتی ہے جو ناراضی کبھی اسے فوراً منانے پر مجبور کرتی تھی وہی ناراضی ایک دن اس کے لیے معمول بن جاتی ہے اور شاید یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اس نے اپنی ناراضی کو اتنا عام کر دیا کہ اس کی اہمیت ہی ختم ہو گئی
اس لیے محبت میں کبھی روٹھیں مگر اتنا نہیں کہ منانے والا تھک جائے
شکایت کریں مگر اتنی نہیں کہ سامنے والا ہر وقت صفائیاں دیتا رہے
نخرہ کریں مگر اتنا نہیں کہ وہ محبت کے بجائے اسے ایک ذمہ داری سمجھنے لگے
کیونکہ محبت کا اصل حسن روٹھنے میں نہیں ایک دوسرے کو سمجھ لینے میں ہے
 محبت وہ نہیں جس میں ہر دوسرے دن جھگڑا ہو اور پھر اسی جھگڑے کو محبت کی علامت قرار دے دیا جائے محبت تو وہ ہے جہاں دو انسان دنیا بھر کی پریشانیوں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے سکون کا سبب بنیں

کاظم شیرازی