*ابو دجانہ سماک بن خرشہ انصاری رضی اللہ عنہ کی بہادری*

حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگِ احد کے موقع پر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان فرمایا کہ "یہ تلوار لے کر کون اس کا حق ادا کرے گا؟" تو اس وقت محفل میں ایک قسم کی خاموشی چھا گئی۔ اسی اثنا میں ایک گرجتی ہوئی آواز آئی: "یا رسول اللہ! میں اس کا حق ادا کروں گا۔" جب لوگوں نے مڑ کر دیکھا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شیر، حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ تھے۔

پھر وہ بولے: "یا رسول اللہ! اس کا حق کیا ہے؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کافروں کو پچھاڑنا اور عورتوں، بچوں اور کمزوروں کو تحفظ دینا۔"

جب وہ تلوار لے کر کافروں کے جمِ غفیر میں داخل ہوئے تو کافروں کو چیرتے ہوئے دامنِ احد تک پہنچ گئے۔ وہاں کافروں کی کچھ عورتیں تھیں، ان میں ہندہ بھی تھی۔ ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کرنا چاہا تو وہ مدد کے لیے پکارنے لگیں، اسی وجہ سے وہ ان کو چھوڑ کر واپس آ گئے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے حملہ کیوں نہیں کیا، تو انہوں نے فرمایا: "میں ایسی عورت پر کیسے حملہ کروں جس کی مدد کے لیے کوئی موجود نہ ہو۔"

یہ تھے میرے محبوب آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بہادر سپاہی، جو اپنی جان کو آپ کے حکم کے سامنے ہیچ سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے والا بنا دے۔ آمین۔
  اعجاز الحق فیضی