Translation unavailable. Showing original.
الجوالُ الذکی کی تباہ کاریاں
04 اکتوبر، 2026
کافی مدت بعد آج پھر قلم کو مہمیزِ تحریر دینے کا خیال آیا تو دل کے افق پر ایک ایسا دردناک منظر ابھر آیا جس نے خاموش رہنے کی مہلت نہ دی۔ یہ منظر کسی جنگ زدہ بستی، کسی قحط زدہ خطے یا کسی ویران شہر کا نہیں، بلکہ ہمارے اپنے گھروں کا ہے؛ وہ گھر جو کبھی محبت، شفقت، اپنائیت اور خاندانی وابستگی کے مراکز ہوا کرتے تھے، مگر آج ان کی فضا میں ایک عجیب سی اجنبیت، خاموشی اور بے روحی در آئی ہے۔
آج انسان چاند تک پہنچ گیا، دنیا ایک گلوبل گاؤں بن گئی، فاصلے سمٹ گئے اور رابطے آسان ہوگئے؛ لیکن حیرت انگیز طور پر دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے چلے گئے۔ ٹیکنالوجی نے انسان کو دنیا سے تو جوڑ دیا، مگر اپنے گھر والوں سے کاٹ دیا۔ الجوالُ الذکی، جسے انسان کی خدمت کے لیے بنایا گیا تھا، آہستہ آہستہ انسان کے اوقات، توجہ، احساسات اور تعلقات پر قابض ہوتا چلا گیا۔
ایک زمانہ تھا جب شام ڈھلتے ہی گھر کے صحن آباد ہوجاتے تھے۔ والدین اولاد کے ساتھ بیٹھتے، ان کے مسائل سنتے، ان کی شرارتوں پر مسکراتے اور ان کی تربیت میں اپنا وقت صرف کرتے۔ بچے اپنے والد کے کندھوں کو اپنی دنیا سمجھتے تھے اور ماں کی آغوش کو جنت کا نمونہ خیال کرتے تھے۔ آج وہی بچے والدین کے سامنے موجود تو ہیں، مگر ان کے دلوں تک رسائی کا راستہ کہیں گم ہوچکا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ والدین اپنی مصروفیات اور دنیاوی دوڑ دھوپ میں اس قدر منہمک ہوگئے ہیں کہ اولاد کی جذباتی ضروریات کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ بڑے بڑے اسکولوں میں داخلہ، قیمتی لباس، مہنگے کھلونے اور جدید سہولتیں فراہم کرکے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ والدین نے اپنی ذمہ داری پوری کردی، حالاں کہ تربیت صرف اخراجات کا نام نہیں، بلکہ وقت، محبت، نگرانی اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔
بچے کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ والدین کی محبت ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کا باپ اس کی بات سنے، اس کے ساتھ چند لمحے گزارے، اس کی کامیابی پر خوش ہو اور اس کی ناکامی میں حوصلہ افزائی کرے۔ وہ چاہتا ہے کہ ماں اس کے جذبات کو سمجھے، اس کے سر پر ہاتھ پھیرے اور اسے اپنی شفقت کے سائے میں جگہ دے۔ مگر افسوس! آج کے بہت سے گھروں میں یہ قیمتی سرمایہ ناپید ہوتا جارہا ہے۔
جب بچہ محبت سے محروم ہوتا ہے تو اس کے دل میں ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ یہ خلا پھر کسی نہ کسی چیز سے بھرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چنانچہ والدین خاموشی خریدنے کے لیے بچے کے ہاتھ میں موبائل تھما دیتے ہیں۔ بچہ رونا بند کردیتا ہے، والدین مطمئن ہوجاتے ہیں، مگر حقیقت میں اسی لمحے ایک خاموش المیہ جنم لے رہا ہوتا ہے۔
پہلے بچے اپنی ماں سے کہانیاں سنتے تھے، آج یوٹیوب سے سنتے ہیں۔ پہلے والد کے ساتھ کھیلتے تھے، آج موبائل گیمز کے اسیر ہیں۔ پہلے دوستوں کے ساتھ میدانوں میں دوڑتے تھے، آج ورچوئل دنیا میں نامعلوم کرداروں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ پہلے خاندان ان کی شخصیت بناتا تھا، آج سوشل میڈیا ان کی سوچ تشکیل دے رہا ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ نئی نسل جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی اعتبار سے کمزور ہوتی جارہی ہے۔ قوتِ برداشت میں کمی، جلد غصہ آنا، بے صبری، اضطراب، تنہائی، احساسِ محرومی اور ڈپریشن جیسے مسائل روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ بچے لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی تنہا ہیں، سینکڑوں آن لائن دوست رکھنے کے باوجود حقیقی رفاقت سے محروم ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ الجوالُ الذکی نے خاندانی مجالس کا حسن چھین لیا ہے۔ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے افراد مختلف دنیاؤں میں گم ہوتے ہیں۔ زبانیں خاموش ہیں، نظریں اسکرینوں میں مقید ہیں اور دل ایک دوسرے سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ وہ گفتگو جو تعلقات کو مضبوط کرتی تھی، وہ ہنسی جو گھروں کو آباد رکھتی تھی، اور وہ مشورے جو نسلوں کی تعمیر کرتے تھے، سب رفتہ رفتہ قصۂ پارینہ بنتے جارہے ہیں۔
مزید افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اولاد کی تربیت کا فریضہ اب والدین کے بجائے ڈیجیٹل دنیا انجام دے رہی ہے۔ بچے کیا دیکھ رہے ہیں؟ کس سے سیکھ رہے ہیں؟ کن نظریات اور اقدار سے متاثر ہورہے ہیں؟ اس کی خبر لینے والا کوئی نہیں۔ چنانچہ ان کے اخلاق، ترجیحات اور طرزِ فکر پر ایسے اثرات مرتب ہورہے ہیں جن کے نتائج آنے والے برسوں میں مزید نمایاں ہوں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وقت کی نزاکت کو سمجھیں۔ موبائل کو مکمل طور پر ترک کرنا نہ ممکن ہے اور نہ ضروری، لیکن اسے زندگی کا محور بنا لینا یقیناً نقصان دہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ روزانہ کچھ وقت صرف اپنی اولاد کے لیے مخصوص کریں، ان سے گفتگو کریں، ان کے ساتھ بیٹھیں، ان کے احساسات کو سمجھیں اور ان کی تربیت میں براہِ راست حصہ لیں۔ گھروں میں ایسے اوقات مقرر کیے جائیں جب تمام افراد موبائل سے دور رہ کر ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزاریں۔
یاد رکھیے! بچوں کو صرف روٹی، کپڑا، تعلیم اور سہولتیں نہیں چاہئیں، بلکہ انہیں محبت، توجہ، شفقت اور اپنائیت بھی درکار ہے۔ وہ اپنے والدین کے وقت کے محتاج ہیں، ان کے پیسوں کے نہیں؛ ان کی قربت کے طلبگار ہیں، ان کے تحائف کے نہیں۔
خدارا! اپنی اولاد کو موبائل سے پہلے اپنا وقت دیجیے، کیونکہ بچے آپ کی جیب میں موجود دولت سے زیادہ آپ کے دل میں موجود محبت کے محتاج ہیں۔
محمد مصعب پالنپوری