*06 دسمبر اور آئین ہندوستان کی بے حرمتی*

کچھ دن تاریخ میں محض گزر جانے والی تاریخیں نہیں ہوتے، وہ دن قوموں کے ضمیر پر نقش ہو جاتے ہیں، وہ دن وقت کی کتاب میں سیاہ روشنائی سے لکھے جاتے ہیں، اور نسلوں کے حافظے میں ایک دائمی سوال بن کر زندہ رہتے ہیں،06 دسمبر (Black Day) بھی ایسا ہی ایک دن ہےجو ہمیں صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی ناکامی یاد دلاتا ہے، جو صرف ایک مسجد کا زوال نہیں بلکہ انصاف کے وقار کا زوال بن کر تاریخ میں محفوظ ہو چکا ہے،کیونکہ جب کرسی قضا پر بیٹھے ہوئے لوگ آئین کو سامنے رکھ کے غداری کر جائیں، اور ایسے چیز کے حق میں فیصلہ دے دیں جو کسی بھی قاضی کے پیش نظر نہیں ہونا چاہیے تھا تو وہ دن صرف اس قوم کے لیے برا دن نہیں جس کے خلاف دیا گیا بلکہ ہر اس انسان کے خلاف ہے جو کے آئین ہند پر اپنا توکل جتاتا ہے کیونکہ آج یہ ہمارے حق میں نا انصافی تھی کل جب وقت آئے گا یہی ناانصافی آپ کے ساتھ بھی کیا جائے گی،کیونکہ انہیں مسئلہ اس سے نہیں کہ آپ کون ہو انکا مسئلہ صرف یہ ہے کہ وقار میں کون ہے،میں ایسے لوگوں کو منصف نہیں بلکہ آئین ہند سے مذاق کرنے والا سمجھتا ہوں، اور میں وہ ثبوت پیش کروں گا جن کو سپریم کورٹ نے تسلیم کیا، اور پھر بھی فیصلہ انکے حق میں، یہ آئین ہند سے مذاق نہیں تو پھر اور کیا ہے؟ آو سنو ذرا وہ تمام دستاویزات جو کورٹ میں دائر کئے گئے پھر بھی فیصلہ ہمارے خلاف۔

بابری مسجد محض اینٹوں اور پتھروں کی ایک عمارت نہ تھی، وہ صدیوں تک مسلمانوں کی عبادت گاہ رہی، وہاں اذانیں بلند ہوتی رہیں، وہاں سجدے کیے جاتے رہے، وہاں قرآن کی تلاوت گونجتی رہی،خود *عدالت نے تسلیم کیا کہ وہ مسلمانوں کی عبادت گاہ تھی، وہاں باقاعدہ نماز ادا کی جاتی رہی، اور مسلمانوں کا اس پر عبادتی حق تسلیم شدہ تھا، عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہاں راتوں رات مورتیاں رکھ کر مسجد کا ماحول بدلا گیا، اور مسلمانوں کو زبردستی عبادت سے روکا گیا، عدالت نے یہ حقیقت بھی تسلیم کی کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر تعمیر نہیں کی گئی تھی، اور یہ دعویٰ کرنے والے آج تک کوئی قطعی اور حتمی شہادت پیش نہ کر سکیں ہیں*۔اور یہ سب کچھ تسلیم کرنے کے بعد بھی، وہ فیصلہ سامنے آیا جس کے نتیجے میں ایک مسجد کو مٹا کر مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کر دی گئی،یہی وہ نکتہ ہے جہاں سوال صرف ایک عدالتی فیصلے کا نہیں رہتا، بلکہ آئین ہند کی روح، اس کی غیر جانبداری، اور اس کے بنیادی وعدوں کا بن جاتا ہے،اس کے باوجود، دن دہاڑے اس مسجد کو منہدم کیا گیا،وہ سجدہ گاہ جس کا تحفظ آئین نے خود اپنے ذمّے لیا تھا، اسے وحشیانہ ہجوم کے حوالے کر دیا گیا،یہ فقط ایک عبادت گاہ کا انہدام نہ تھا، یہ اس ملک کے آئین کے سینے پر رکھا گیا ایک ایسا زخم تھا جس سے آج تک عدل کا خون رس رہا ہے،اس کے بعد اسی متبرک مقام پر مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کی گئی، حالانکہ حقیقت کو تسلیم کیے جانے کے باوجود فیصلہ اس کے برعکس سنایا گیا یہ صرف ایک فریق کے حق میں فیصلہ نہیں تھا، یہ اصول انصاف، قانون کی بالادستی، اور آئین ہند کی اخلاقی طاقت کے خلاف ایک کھلا چیلنج تھا۔

آئین ہند ہر شہری کو مذہبی آزادی دیتا ہے، ہر عبادت گاہ کے احترام اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے،اور یہ اعلان کرتا ہے کہ اس سرزمین پر قانون سب سے بالاتر ہوگا،لیکن بابری مسجد کے معاملے میں آئین کے انہی بنیادی اصولوں کو پامال کر دیا گیا، ثبوت موجود تھے، عدالت کے سامنے حقیقت تسلیم کی جا چکی تھی، مگر اس کے باوجود فیصلہ طاقت کے رخ پر ڈال دیا گیا،یہ وہ لمحہ تھا جہاں انصاف کی آنکھوں پر پٹی نہیں رہی، بلکہ اسے زبردستی باندھ دیا گیا یہ وہ گھڑی تھی جہاں قانون کی زبان خاموش کر دی گئی، اور اکثریت کی خواہش کو عدل کا نام دے دیا گیا،اور مسلمانوں کی ملکیت کو کسی اور کے حوالے کر دیا گیا، جب ہمارا حق چھین لیا جائے تو کیا ہم آئین ہند کے مطابق بلیک ڈے بھی نا منائیں؟ اور ہم کیا کہیں، ان کرسی قضاء پر بیٹھے ہوئے لوگوں سے، لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ یاد رکھنا ایک دن انصاف کا ضرور آئے گا،اور انشاءاللہ العزیز مسجد خود بتائے گی وہاں مسجد کیوں ضروری تھی، اور کرسی قضاء پر بیٹھ کر آئین ہند سے کھلواڑ کرنے والوں وہ دن آپکو بتا دے گا،اور تم خود سمجھ لوگے کہ ہم تو کرسی قضا پر بیتھنے کے لائق ہی نہیں تھے، اور میں نے ایسے تاریخ کے پنوں کو پڑھا ہے۔

جب ایران کے اندر ایک مرد مجاہد کے خلاف ایک یہودی جنرل نے پرچا کاٹا اور پھر اسے دار القضاء کے چکر لگانے پڑے پھر دار القضاء اس نتیجے کو پہنچا کہ اس مرد مجاہد کو پھانسی کا حکم دے دیا گیا ایک یہودی ٹکڑوں پر پلنے والے کتے کے ذریعے، پھر میں نے تاریخ کے وہ اوراق بھی پڑھے، اسکی صرف ایک بیٹی تھی اور جب وہ مرنے کے قریب آیا اپنے بیٹی سے ملنے کی خواہش کی بیٹی نے وہی *سوال کیا اے میرے باپ آپ موت کے بلکل قریب ہو کیا آپنے اس مرد مجاہد کے حق میں جو فیصلہ سنایا تھا وہ حق تھا؟* تب اس نے کہا تھا میں اللہ کی عزت کی قسم کھاتا ہوں *وہ عزرائیل کے حکم پر دیا گیا تھا اور آئین کو بالائے طاق رکھ دیا گیا تھا* تب اسکی بیٹی نے اپنے چپّل کو کیچڑ میں ملوس کیا اور زور دار لات اسکے چہرے پر ماری اور وہ اس دنیائے فانی سے دار البقاء میں واصل جھنم ہو گیا، یاد رکھنا:

حقیقت چھپ نہیں سکتی کبھی جھوٹے اصولوں سے،

خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے۔

ہم یہ سچ اپنے بچوں کو بتا کر جائیں گے کہ ہماری بابری مسجد کو آئین ہند کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے گرایا گیا تھا، انصاف کے نام پر ہمارے ساتھ ناانصافی کی گئی تھی، اور یہ زخم صرف ایک نسل کا نہیں، کئی نسلوں کی یادداشت کا حصہ رہے گا، تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ حق کو کیسے دبایا گیا، اور ظلم کو کیسے تاریخ کا حصہ بنا دیا گیا،اور دار القضاء میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے ہماری جذبات، ہمارے احساسات، ہمارے حق کو چھیننے کا کام کرایا اور ہمارے ملک کے اس پوتّر آئین پر دھبہ لگایا جس کی ہر لائن ہمارے لیے قابل تعریف ہے۔

It is hereby declared that the religious character of a place worship existing on the 15th day of August, 1947 shall continue to be the same as it existed on that day.

یہ ہمارے ہندوستان کا ایکٹ ہمیں واضح طور پر بتاتا ہے کہ جو عبادت گاہیں جیسی ہیں ویسی ہی رہیں گی پھر آپکو کس نے حق دیا بابری مسجد یا دیگر مساجد کو منہدم کرنے کا،اگر ابھی بھی مسجدوں کو منہدم کر دیا جائے، مدارس پر پابندی کی بات کی جائے مسلمانوں سے انکی شناخت چھیننے کی بات کی جائے، تو یہ کس طرح سے آئین کی مطابقت ہے؟ پھر کیوں یہ آئین ہندوستان کے ساتھ کھلواڑ نہیں؟

06 دسمبر بلاک ڈے صرف معنی کر نہیں کہ اس میں ہماری بابری مسجد کو چھین لیا گیا بلکہ اس معنی کر بھی ہے کہ اس دن ہمارے آئین کو سامنے رکھ کر سمجھ بوجھ رکھنے والوں نے ہمارے آئین کو شرمندہ کر دیا،اور مسلمانوں کے وجود کو ایک ایسی ٹھیس پہنچائی جو نا قابل برداشت ہے،کیونکہ ہم سے ہمارا حق چھین لیا گیا ہے جسکی اجازت ہمارا آئین نہیں دیتا ہے۔

اللہ کریم دار القضاء میں بیٹھنے والوں کو انصاف سے فیصلہ کرنے کی توفیق بخشے اور آئین ہند کی عزت و ناموس کو محفوظ رکھنے کی توفیق بخشے، اور وہ ہاتھ کوڑ کے مرض میں مبتلا ہو جائیں جو ہماری مسجد کو منہدم کرنے کا سبب بنے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*