خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ
04 اکتوبر، 2026
وہ طویل القامت،قریش کا جوان رعنا،مکہ کے بالائی حصے مقام تنعیم کی طرف چلا جا رہا تھا،جہاں خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو تختہ دار پر لٹکانے کے لیے قریش کا ہجوم جمع ہوا تھا،سعید کا بھی شباب فراواں تھا،صفوں کو پھلانگتے ہوئے مکہ کے سربرآوردہ لوگوں کے دوش بدوش کھڑے ہو گئے،اور خبیب بن عدی کی طرف نظریں جمائے ہوئے تھے،یکایک خبیب کی زبان سے یہ جملے نکلے کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو،ان کی تمنا پوری کی گئی،نماز کے بعد صنادید قریش سے گویا ہوئے اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم لوگ میرے طوالت نماز کی وجہ سے یہ سمجھو کہ خبیب کو موت کے ڈر نے طوالت صلاۃ پر ابھارا تو یقیناً میں طول دیتا،تختہ دار پر لایا گیا،ان کے زندہ اعضاء کا مثلہ شروع ہوا اور کہا جا رہا تھا سعید بن عامر خود اپنی زبانی خبیب سے شنیدہ الفاظ بیاں کرتے ہیں،خبیب سے کہا گیا کہ کیا تم پسند کرتے ہو کہ اپنے اہل و عیال کو لوٹ جاؤ اور تمہاری جگہ حبیب ﷺ ہو،حال یہ تھا کہ ان کے جسم سے خون کے فوارے چھوٹ رہے تھے،جاں نثار کی لڑکھڑاتی زبان گویا ہوئی اور دل کا ایمان و حبیب ﷺ سے وارفتگی لبوں پر بجلی بن کر کڑکی ہرگز نہیں!مجھے یہ بھی پسند نہیں کہ حبیب ﷺ کے پیر میں کانٹا بھی لگے،ارد گرد کے لوگ ہاتھ بلند کرکے کہنے لگے اسے مار ڈالو،چنانچہ تختہ دار پر لٹکایا گیا خبیب نے نظر محو آسمان کی اور گویا ہوئے اے اللہ ان میں سے ہر ایک کو شمار کر،اور سب کو ہلاک کر دے کسی کو نہ چھوڑنا،مآل کار زخموں سے چور جسم سرد ہوا،اور خلد بریں کو جا سدھارے